Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 476

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْاَرَتِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : هَاجَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَلْتَمِسُ وَجْهَ اللهِ تَعَالَى ، فَوَقَعَ اَجْرُنَا عَلَى اللهِ ، فَمِنَّا مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَاْكُلْ منْ اَجْرِهِ شَيْئًا ، مِنْهُمْ : مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قُتِلَ يَوْمَ اُحُدٍ ، وَتَرَكَ نَمِرَةً ، فَكُنَّااِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَاْسَهُ ، بَدَتْ رِجْلَاهُ ، وَاِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رِجْلَيْهِ ،

بَدَا رَاْسُهُ ، فَاَمَرَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنْ نُغَطِّيَ رَاْسَهُ ، وَنَجْعَلَ عَلٰی رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنَ الْاِذْخِرِ ، وَمِنَّا مَنْ اَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ ، فَهُوَ يَهْدِبُهَا. ( )

عن خباب بن الارت رضي الله عنه قال : هاجرنا مع رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ، نلتمس وجه الله تعالى ، فوقع اجرنا على الله ، فمنا من مات ولم ياكل من اجره شيئا ، منهم : مصعب بن عمير رضي الله عنه قتل يوم احد ، وترك نمرة ، فكنااذا غطينا بها راسه ، بدت رجلاه ، واذا غطينا بها رجليه ،

بدا راسه ، فامرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نغطي راسه ، ونجعل علی رجليه شيئا من الاذخر ، ومنا من اينعت له ثمرته ، فهو يهدبها. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا خباب بن اَرَترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ہم نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ رضائے الٰہی کی طلب میں ہجرت کی ، پس ہمارا ثواباللہ عَزَّ وَجَلَّ( کے ذمۂ کرم ) پر ہے ۔ ہم میں سے بعض وہ ہیں جو اپنے اجر میں سے کچھ حاصل کئے بغیر فوت ہوگئے ، انہیں میں سے حضرتِ سَیِّدُنَا مُصْعَبْ بن عُمیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی ہیں جو غزوۂ اُحُد میں شہید ہوئے ، انہوں نے ایک دھاری دار چادر چھوڑی جب ہم اس چادر سے ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے اور جب پاؤں ڈھانپتے تو سر کھل جاتا ، پسرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھانپ دیں اور پاؤں پر کچھ گھاس وغیرہ ڈال دیں ، اور ہم سے بعض وہ ہیں جن کے لیے اُن کے ( نیک اعمال کے ) پھل پک گئے اور وہ اسے چن رہے ہیں ۔ “

شرح حدیث

حدیثِ مذکور میں اِس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاندنیا سے بہت زیادہ بے رغبت ہوا کرتے تھے ۔ جیساکہ حضرت سَیِّدُنَا مُصعب بن عُمَیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، آپ کا تعلق اُن صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں سے ہے کہ جو اِسلام سے پہلے بڑی آسائشوں میں زندگی بسر کررہے تھے لیکن قبولِ اسلام کے بعد آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے دنیا سے کنارہ کشی اختیار فرمالی اور بے حد سادہ زندگی بسر کرنے لگے ۔ ایک بار آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُچمڑے کے پیوند لگا ہوا نہایت ہی معمولی لباس پہنے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تونبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چشمانِ مبارکہ سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمایا : دیکھو اس نے کس قدر نازونِعَم میں پرورش پائی اور اب اسلام کی خاطر کس حالت میں ہے ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے زُہد کا حال یہ تھا کہ جب آپ نے غَزوۂ اُحُد میں شہادت پائی توآپ کو کفن دینے کے لیے ایک کامل چادر بھی میسر نہ آسکی ۔ کفن تین طرح کا ہوتا ہے : کفن سنت ، کفن کفایت ، کفن ضرورت ۔ حضرت سیدنا مصعب بن عمیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو کفنِ ضرروت بھی پورا نہ ملا ، آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے جسم کا کچھ حصہ کپڑے سے اور کچھ حصہ گھاس سے ڈھانپا گیا ۔

¥
صدراول کے مسلمانوں کا مبارک حال :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ” اس حدیث پاک میں صدرِ اوّل کے مسلمانوں کا حال بیان ہوا ہے کہ وہ صدق و صفا کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے اور ان میں سے بعض کی حالت یہ تھی کہ نہ وہ دنیا کی کوئی چیز حاصل کرتے اور نہ اس کی طلب کرتے اور اپنے نفس کو شہوات سے روکے رکھتے تاکہ انہیں آخرت میں پورا اجر ملے ۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ فقر کی سختیوں اور صعوبتوں پر صبر کرنا نیک و فرمانبردار لوگوں کا طریقہ ہے ۔ “ ( )
¥
صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے مختلف حالاتعَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی چار قسمیں بیان کی ہیں جن میں سے پہلی دو کا تعلق صحابہ کرام کے پہلے گروہ سے اور دوسری دو قسموں کا تعلق دوسرے گروہ سے ہے : ( 1 ) وہ صحابہ کرام کہ جو مسلمانوں کو فتوحات و غنائم حاصل ہونے سے قبل ہی وفات پاگئے جیساکہ حضرت سیدنا مُصعب بن عمیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، ( 2 ) وہ صحابہ کرام جو فتوحات و مالِ غنیمت کے حصول کے زمانے میں حیات تھے لیکن انہوں نے زُہد اختیار کیا اور فقر و تنگدستی کی زندگی بسر کی جیسے حضرت سَیِّدُنَا ابوذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔ یہ دونوں قسمیں صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے اس گروہ سے تعلق رکھتی ہیں جنہوں نے دنیا کی نعمتوں سے لذت حاصل نہیں کی مگر آخرت میں انہیں کامل اجر عطا کیا جائے گا ۔ ( 3 ) وہ صحابہ کرام جو بہت سے مباح اُمور سے دور رہے مگربعض مباح چیزوں کو اختیاربھی فرمایا ، مثلاً کثرت سے نکاح کرنا ، خدام رکھنا اور ملبوسات کی کثرت کرنا اور اِس طرح کے اَصحاب بہت زیادہ ہیں جیساکہ حضرت سَیِّدُنَا اِبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔ ( ۴ ) وہ صحابہ کہ جنہوں نے کثرت سے مباح کام کیے مثلاً بہت زیادہ تجارت کی اور مال جمع کیا لیکن ساتھ ساتھ حقوق ِواجبہ اورمُسْتَحَبَّہ ادا کرتے رہے اس طرح کے اصحاب بھی بہت زیادہ ہیں اور حضرت سَیِّدُنَا عبدالرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاسی طرح کے صحابہ میں شمار ہوتے ہیں ۔ ان آخری دونوں قسموں کا تعلق صحابہ کرام

کے اس گروہ سے ہے جنہوں نے دنیا میں بھی نعمتیں پائیں اور آخرت میں بھی نعمتیں پائیں گے ۔ “ ( )
حدیث مذکورمیں بیان ہوا کہ حضرت سَیِّدُنَا مُصعَب بن عُمَیر
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی وفات کے بعد جب اُن پر چادر ڈالی گئی تو وہ چھوٹی تھی حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے حکم فرمایا کہ چادر سے اُن کا سر ڈھانپ دیا جائے اور پاؤں پر گھاس ڈال دی جائے ۔ عمدۃ القاری میں ہے : ” جب کپڑا کم ہو تو میت کے پیر ڈھانپنے کے بجائے اُس کا سر ڈھانپا جائے کیونکہ وہ افضل ہے ۔ جب کپڑا اتنا کم ہو کہ اس سے صِرف سَر یا اَعضائے سَتْر ڈھانپے جا سکتے ہوں تو بقیہ اَعضاء پر گھاس وغیرہ ڈال دی جائے اور کپڑے سے میت کا سَتْر چھپایا جائے کیونکہ زندگی اور موت دونوں میں سَتْر چھپانا واجب ہے ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’ بقیع ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانصدق و صفا کے انتہائی اعلیٰ درجے پر فائز تھے ، وہ دنیاوی آسائشوں میں پڑنے کے بجائے صبرو قناعت سے کام لیا کرتے تھے ۔
(2) حضرت سَیِّدُنَا مُصْعَب بن عُمَیر
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُقبولِ اسلام سے پہلے بڑی ناز و نعمت میں زندگی بسر کررہے تھے لیکن دامنِ اسلام سے وابستہ ہونے کے بعد آپ نے دنیا وی آسائشیں ترک کر کے فقر اختیارفرمایا ۔
(3) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں سے بعض حضرات کوان کے اجر میں سے دنیا میں بھی حصہ ملا اور آخرت میں بھی ملے گا اور بعض وہ ہیں جنہیں دنیا میں کچھ نہیں ملا بلکہ آخرت میں انہیں پورا اجر دیا جائے گا ۔
(4) جب کفن کاکپڑا اتنا کم ہو کے میت کا سر یا پیر ڈھانپے جاسکتے ہوں تو اس وقت سر ڈھانپنا افضل ہے اور اگر کپڑا اتنا ہے کہ اس سے صرف سَتْر یا سر ڈھانپا جاسکتا ہے تو پھر سَتْر چھپانا ضروری ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سادہ زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 476