Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 477

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدِنِ السَّاعِدِیِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوْضَةٍ مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ. ( )

عن سهل بن سعدن الساعدی رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لو كانت الدنيا تعدل عند الله جناح بعوضة ما سقى كافرا منها شربة ماء. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا سہل بن سعد ساعدیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” اگراللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک دنیا کی حیثیت مچھرکے پَر کے برابر بھی ہوتی تووہ اُس میں سے کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا ۔ “

شرح حدیث

نیک لوگوں کی دنیا سے حفاظت کی جاتی ہے :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ” یہ مثال کمتر اور حقیر ہونے کے لیے دی گئی ہے مراد یہ ہے کہ اگراللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک دنیا کی حیثیت تھوڑی سی بھی ہوتی تو وہ کافر کو دنیا کے پانی میں سے ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا یعنی کافر کو اس دنیا کی ادنیٰ اور معمولی چیز سے بھی فائدہ اٹھانے نہیں دیتا کیونکہ کافراللہ عَزَّ وَجَلَّکا دُشمن ہے اور دشمن کو کوئی بھی قابلِ قدر شئے نہیں دی جاتی ( اسی لئےاللہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے دشمنوں کوتو دنیا جیسی بے وقعت ، حقیر شے دیتاہے ) مگر اپنے ولیوں کو دنیا نہیں دیتا ۔ اس دنیا کے حقیر اورنا پسندیدہ ہونے ہی کی وجہ سے کفار پر دنیا کی آسائشوں اور مال و دولت کی کثرت کی گئی ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ(۳۳)(پ۲۵ ،الزخرف: ۳۳ )ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک دین پر ہوجائیں تو ہم ضرور رحمٰن کے منکِروں کے لیے چاندی کی چھتیں اور سیڑھیاں بناتے جن پر چڑھتے ۔ ( )

یعنی اگر اس کا لحاظ نہ ہوتا کہ کافروں کو فراخیٔ عیش میں دیکھ کر سب لوگ کافر ہوجائیں گے ۔ ( تو کافروں کے لیے چاندی کی چھتیں اور سیڑھیاں بنادی جاتیں ) ۔ ( )
¥
دنیا آخرت تک پہنچنے کا راستہ ہے :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” بیشک یہ دنیا مقصود نہیں بلکہ یہ تومقصود یعنی آخرت تک پہنچنے کا ذریعہ ہے ۔ اسی طرح یہ دنیا رہائش گاہ اور جزا کا گھر نہیں بلکہ یہ تو ایسا گھر ہے جس سے منتقل اور روانہ ہونا ہے اوراللہتعالیٰ نے دنیا کی زیادہ تر نعمتیں کفار و فساق کی ملکیت میں دی ہیں اور انبیاء کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَاماور اُن کے وُرَثاء یعنی علماءِ کرام کی اِس دنیا سے حفاظت فرمائی ہے ۔ اور عبرت حاصل کرنے والے کے لئے یہ حدیث کافی ہے کیونکہ اس میں دنیا کی کمتری ، اس کے قابلِ نفرت ہونے اور اس کے چاہنے والوں کے ناپسندیدہ ہونے کا بیان ہے ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’یانبی ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک دنیا مچھر کے پَر سے بھی زیادہ حقیر ہے ۔
(2) اگر
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک دنیا کی کچھ بھی وقعت ہوتی توکفارکو اس میں سے پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ ملتا کیونکہ دشمنوں کو وقعت والی چیز نہیں دی جاتی ۔
(3)
اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے اولیا اور پسندیدہ بندوں کو دنیا سے دور رکھتا ہے ۔
(4) دنیاوی نعمتیں نہ ملنے پر مغموم ہونے کے بجائے یہ ذہن بنایا جائے کہ اگر دنیا اچھی ہوتی تو
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندوں کو ضرور دی جاتی ، مگرانہیں اِس سے دُور رکھا گیا کہ یہ بے وقعت وحقیر شے ہے ۔
(5) دنیا دارُالقرار نہیں دارُالعمل ہے ، دارُالقرار اور جائے سُرور تو جنت ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں آخرت کی تیاری كرنے کی توفیق عطافرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 477