Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 479

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوْا فِي الدُّنْيَا. ( )

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تتخذوا الضيعة فترغبوا في الدنيا. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” جاگیر وجائداد نہ بناؤ ورنہ تم دنیا کو پسند کرنے لگوگے ۔ “

شرح حدیث

کس جائداد وجاگیر کاحصول ممنوع ہے ؟مرقاۃ المفاتیح میں ہے :’’حدیثِ مذکور میں تجارت و صنعت ، جائداد وجاگیراورکاروبار وغیرہ میں ایسی مشغولیت سے منع کیا گیا جو بندے کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت اور آخرت کی تیاری سے روک دے ۔ یعنی تم جائداد و جاگیر کے حصول میں ایسے منہمک نہ ہو کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذِکر سے غافل ہوجاؤ ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ” جسے اس بات کا خوف ہو کہ کھیتیوں اور باغات وغیرہ میں مشغولیت اسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر سے غافل ہو کردے گی تو اسے چاہیے کہ ان چیزوں سے اجتناب کرے ( کوئی ذریعۂ معاش اختیار کرے ) اور جسے یقین ہوکہ جائداد و جاگیر رکھنے کے باوجودفرائض وواجبات کی ادائیگی سے غافل نہ ہوگا تو ایسے شخص کے لیے جائداد و جاگیر رکھنا جائز ہے جیساکہ

سرکارِ دو عالَم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے زمینیں اور باغات رکھے ۔ حکماء فرماتے ہیں : ” جاگیر وجائداد غموں کا راستہ ہیں ۔ “ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ” جائداد و جاگیر ایسی چیز ہے کہ اگر تو اِس کی حفاظت کرے گا تو خود ضائع ہو جائے گا اور اگر حفاظت نہ کرے گا تو یہ ضائع ہو جائے گی ۔ “ ( )
¥
جوکا م دِین بُھلادے اُسے چھوڑدو :مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” ( جاگیر و جائداد نہ بناؤ ! “یہ فرمانِ عالی ) زمانۂ جہاد اور سِپاہیانہ زندگی کا ہے ، اس زمانہ میں باغات و کاشت میں مشغول نہ ہو ورنہ کفار تم کو ہلاک کردیں گے ۔ یہ فرمانِ عالی ہنگامی حالات کے ہیں جب کہ مسلمانانِ مدینہ ہر چہار طرف سے کفار میں گھرے تھے ، اس وقت عیش و آرام کی زندگی ، پختہ مکانات بنانے ، دنیاوی کاروبار میں مصروف ہونے سے منع فرمادیا گیا تھا جیساکہ زمانۂ جنگ میں رات کو روشنی کرنے کی اجازت نہیں ہوتی بمباری کے خوف سے ، لیکن جب حالات بدل گئے یہ اَحکام بھی نہ رہے ۔ چنانچہ خلافتِ عثمانیہ میں مسلمانوں نے اپنے گھر پختہ ، مسجد نبوی شریف شاندار بنائی اور باغات و کھیتی باڑیاں خوب کیں ۔خیال رہے کہ اُس زمانہ میں جیسے مکانات پختہ کرنا ممنوع تھے ویسے ہی قبور پر عمارات سے منع کردیا گیا تھا ، جب سکون کا زمانہ آیا تو حضرات صحابہ نے مکانات بھی پختہ بنائے اور بزرگوں کے مزارات پر عمارات بھی بنائیں تاکہ زائرین کو زیارت اور تلاوت اور عبادت وغیرہ میں سہولت ہو ۔ یا اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو باغات کھیتی باڑی میں ایسا مشغول ہو کہ دین کو بھول جائے ، اس صورت میں یہ حکم دائمی ہے ، کھیتی باڑی ہی کیا جو چیز ربّ سے غافل کرے وہ ممنوع ہے ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’حطیم ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
زراعت ، تجارت وغیرہ میں یوں مشغول ہونا منع ہے کہ بندہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت سے غافل ہو جائے ۔

(2) حکماء فرماتے ہیں : ” جائداد وجاگیر غموں کا راستہ ہیں ۔ “
(3) کسی بھی کام میں حد سے زیادہ مشغولیت انسان کے لئے پریشانی کا باعث بنتی ہے ، اس لئے ہر کام میں اِعتدال کی راہ اپنانی چاہئے ۔
(4) جو چیز ربّ کی یاد سے غافل کردے اسے ترک کرنے ہی میں دِین ودنیا کی بھلائی ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں ایسا رزقِ حلا ل وافر مقدار میں عطا فرمائے جو اس کی یاد سے غافل نہ کرے بلکہ اس کا قرب حاصل کرنے میں معاون ثابت ہو ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 479