Main Icon

باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 810

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:رَخَّصَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم لِلزُّبَيْرِ وعَبْدِ الرَّحْمٰن بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِیْ لُبْسِ الْحَرِيْرِ لِحِكَّةٍ بِهِمَا.

عن انس رضی اللہ عنہ قال:رخص رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم للزبير وعبد الرحمن بن عوف رضي الله عنهما فی لبس الحرير لحكة بهما.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناانس بن مالِکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتےہیں:رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت زبیر اورحضرت عبد الرحمٰن بن عَوفرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو خارش کے سبب ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت دی۔

شرح حدیث

جوئیں دُور کرنے کے لئے ریشم کا استعمال:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:حدیث مذکور سے معلوم ہوا کہ ریشمی لباس مَردوں کے لئے حرام ہے،مگر کسی مصلحت و حاجت کے وقت جائزہےجیسےخارش وکھجلی اورجُوئیں دور کرنے کے لئےجائزہے۔خیال رہے کہ خارش کا سبب چبھنے والے تیز بخارات ہیں۔ خشک خارش کا سبب جلے ہوئے صفرا کاخون میں مخلوط ہونا ہےجبکہ تر خارش کا سبب نمکین بلغم کا خون میں مل جانا ہےاور یہ عموماً کثرت سے نمکین ،میٹھی اشیاء اورگرم سبزیاں کھانے سے پیدا ہوتی ہے۔
مرد کو ایسا کپڑا پہننا جس کا تانا بانا دونوں ریشم کے ہوں بالاتفاق ناجائز ہے ۔اسی طرح اس پر بھی علما کا اتفاق ہے کہ جس کپڑے کا تانا ریشم کا ہو اور بانا سوت کا ہو تو یہ بھی ہر شخص کو ہر حال میں حلال ہے۔کسی واقعی عذر کھجلی اور جوؤں کی وجہ سے ریشم کا کپڑا پہننا مطلقاً حلال ہے جیساکہ نبی
عَلَیْہِ السَّلَامنے حضرت زبیر اور عبد الرحمٰنرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو کھجلی کی وجہ سے رخصت عطا فرمائی۔ریشم کے لباس میں برودت ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ جراثیم کُش ہوجاتا ہے نیز ریشم کے کپڑے پر جؤوں کا ٹھہرنا مشکل ہوتا ہے۔مدنی گلدستہ’’نبی ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) ریشمی لباس مَردوں کے لئے ناجائز ہےمگر کسی حاجت وبیماری کے وقت پہننے کی اجازت ہے۔
(2) حضورنبی کریم ،رَءُوْفٌ رَّحیم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممالکِ شریعت ہیں جس کے لئے جوچاہیں حرام فرمادیں جسےچاہیں اجازت عطا فرمادیں ۔
(3) حضورنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمطبیبوں کے طبیب ہیں روحانی علاج کے ساتھ جسمانی علاج بھی فرماتے ہیں جیسا کہ ان دونوں حضرا ت کی خارش کا علاج ریشم سے فرمایا۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں شریعت کے مطابق لباس پہننے کی توفیق عطا فرمائے، غیر شرعی لباس پہننے سے بچائے اور نیک کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 810