Main Icon

باب : اعمال پر محافظت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 153

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ نَامَ عَنْ حِزْ بِهِ مِنَ اللَّیْلِ اَوْعَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَاَهُ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ ، كُتِبَ لَهُ كَاَ نَّمَا قَرَاَهُ مِنَ اللَّيْلِ. ( )

عن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من نام عن حز به من اللیل اوعن شيء منه فقراه ما بين صلاة الفجر وصلاة الظهر ، كتب له كا نما قراه من الليل. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرت سَیِّدُنَاعمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہُسےروایت ہے کہ سرکارِمدینہراحت قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جوشخص اپنا رات کاوظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جا ئے، پھر فجراورظہر کی نماز کے درمیان پڑھ لے تو اس کے لیے رات کو پڑھنے کی طرح اَجر لکھا جاتاہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

فضلِ خدا وندی :حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ یہ محض فضلِ خداوندی ہےکہ وہ اسے پورا ثواب عطا فرماتا ہے ۔یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ رات کے نوافل ووظائف دن کے مقابلے میں زیادہ فضیلت رکھتے ہیں کیونکہ رات کے وقت نیند کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا امام مالکعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِقفرماتے ہیں :رسولِ کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جو شخص رات میں نماز پڑھنے کا عادی ہو پھراس پر نیند کا غلبہ ہو اور وہ اپنی رات کی نماز پڑھے بغیر سو جائےتو اس کے ‏لیے اس کی نماز کا ثواب لکھا جاتا ہے اور اس کی نیند اس کے ‏لیے صدقہ ہے۔ یہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا کمال درجے کا فضل ہے اور بندے کی نیت کا صلہ ہے اوریہ فضیلت اس کے ‏لیے ہے جس کی رات میں عبادت کرنے کی عادت ہو۔ حدیث کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسے پورا ثواب ملے گا جیسا کہ نماز پڑھنے پر ملتا ہےکیونکہاللہ عَزَّوَجَلَّنےاسے اس فعل سے روکا ہے۔ ‘‘ ( )
¥
نفلی روزے کی نیت کا وقت:اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حدیثِ مذکور میں ظہر سے پہلے اس حکم کواس وجہ سے خاص کیا کہ ظہر کا وقت بغیر کسی فاصلے کے رات کے آخری حصے سے ملا ہوا ہےسوائے فجر کی نماز کے۔اسی ‏لیے اگرنفلی روزہ رکھنے والے نے زوال سے پہلے نفلی روزے کی نیت کرلی تو اس کا روزہ صحیح ہے، اس کے بعد اِس کی نیت درست نہیں ۔جس کا رات کا کوئی وظیفہ چھوٹ جائے اوروہ اسے ظہر سے پہلے پڑھ لے تو اس کے نامۂ اعمال میں اسی طرح اجرلکھا جائے گا جس طرح رات میں پڑھنے والے کے ‏لیے لکھا جاتا ہے۔ ‘‘ ( )دن اوررات ایک دوسرےکےخلیفہ ہیں :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ بعض علماءنے فرمایا کہ اگر تہجد رہ گئی ہو تو دوپہر سے پہلے اتنے نفل پڑھ لے تواِنْ شَآءَاﷲتہجد کا ثواب مل جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رات کا خلیفہ دن ہے۔ربّتعالٰیفرماتاہے: (جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً)(پ۱۹، الفرقان:۶۲) (ترجمۂ کنزالایمان:جس نے رات اور دن کی بدلی رکھی) لہٰذا رات کے اعمال دن میں ہوسکتے ہیں ، نیزدن کے اَوَّل حصہ پر رات کے بعض احکام جاری ہیں ، اسی لیے نفل اور رمضان کے روزے کی نیت ضحوہ کبریٰ سے پہلے ہوسکتی ہے، گویا اس نے رات سے ہی نیت کی۔ اسی طرح اگر دن کا وظیفہ رہ جائے تو رات میں ادا کرلے کیونکہ دن کا خلیفہ رات ہے۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ صوم ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنےبندوں کوان کےعمل سے زیادہ اجر عطافرماتاہے۔
(2) ممکن ہوتورات کےوقت عبادت کی کثرت کرنی چاہیے کیونکہ یہ دن کے مقابلے میں زیادہ فضیلت والی ہے ۔
(3) پابندی سےتہجدپڑھنےوالا اگرکسی روزتہجدادانہ کرسکےتودوپہرہونےسےپہلےاتنی تعداد میں نوافل پڑھ لے
اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّتہجد کاثواب پائےگا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں پابندی کے ساتھ ذکرواَذکارکرنے، فرائض وواجبات وسنن کے ساتھ ساتھ کثرت سےنوافل کی ادائیگی کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیری زبان تر رہے ذکرودرود سے
بے جا ہنسوں کبھی نہ کروں گفتگو فضول
ذکر و درود ہرگھڑی وردِ زباں رہے
میری فضول گوئی کی عادت نکال دو
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 153