- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- حدیث نمبر 155
باب : اعمال پر محافظت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 155
جلد 2
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:کَانَ رَسُوْ لُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ اللَّيْلِ مِنْ وَجَعٍ اَوْ غَيْرِهِ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً. ( )
عن عائشة رضي الله عنها قالت:کان رسو ل الله صلى الله عليه وسلم اذا فاتته الصلاة من الليل من وجع او غيره، صلى من النهار ثنتي عشرة ركعة. ( )
حدیث ترجمہ
:اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے جبرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی رات کی نماز (یعنی تہجد) کسی بیماری وغیرہ کے سبب رہ جاتی تو آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمدن میں بارہ 12رکعت نماز پڑھتے۔ ‘‘
شرح حدیث
اَورَاد ووَظائف پر محافظت :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتےہیں : ’’ یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ اَوْرَاد و وَظَائف پر محافظت کرنا مستحب ہے اور اگر وظیفہ رہ جائے تو اس کی قضاء کی جائے۔ ‘‘ ( )رات کی نماز سےکونسی نمازمرادہے؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ رات کی نماز سے مراد تہجد کی نماز ہے، نیند کے غلبے یا کسی اور اہم کام کی وجہ سے جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز تہجد نہ پڑھ پاتے تو دن میں بارہ 12رکعتیں پڑھ لیتے۔علامہ ابن حجر عسقلانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں :آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبارہ رکعتیں نماز تہجدکی فضیلت پانے کے لیے پڑھتے نہ کہ قضاء کے طور پر، کیونکہ تہجد کی نماز کی رکعت کی تعداد اتنی نہیں ہوتی اور قضاء کبھی بھی ادا سے زائد نہیں ہوتی۔ ‘‘ ( )
¥زوال سے پہلے بارہ 12رکعتیں :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ (آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدن میں بارہ رکعتیں ادا فرماتے ) یعنی زوال سے پہلے پہلے یا اس لیے پڑھتے کہ آپ پر نمازِ تہجد فرض تھی اور فرض کی قضا ضروری ہے تب تو یہ قضا آ پ کی خصوصیت ہے یہ اس لیے کہ جس کی تہجد رہ جائے اور وہ زَوال سے پہلے بارہ رکعتیں پڑھ لے تو تہجد کا ثوا ب پائے گا۔ ‘‘ ( )رات میں کثرتِ نوافل کی پانچ حکایات:(1) حضرتِ سیِّدُنا عبدالعزیزبن روادعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَّادرات کو سونے کے لیے اپنے بستر پر آتے اور اس پر ہاتھ پھیر کر کہتے: ’’ تُو نرم ہے لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!جنَّت میں تجھ سے زیادہ نرم بستر ملے گا پھر ساری رات نماز پڑھتے رہتے ۔ ‘‘
(2) حضرتِ سَیِّدُناصِلَہ بن اَشْیَمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَمساری رات نَماز پڑھتے۔ جب سحری کاوقت ہوتا تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں عرض کرتے:الٰہی!میرے جیسا آدمی جنّت نہیں مانگ سکتا لیکن تو اپنی رَحمت سے مجھے جہنمسے پناہ عطا فرما۔ ‘‘
(3) حضرتِ سَیِّدُنَاربیع بن خُثَیمرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی بیٹی نے آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے عر ض کی: ’’ ابّا جان! کیا وجہ ہے کہ لوگ سو جاتے ہیں اورآپ نہیں سوتے؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ بیٹی !تمہارا باپ ناگہانی عذاب سے ڈرتا ہے جو اچانک رات کو آجائے۔ ‘‘
(4) حضرتِ سیِّدُنا صَفْوان بن سُلَیمرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی پنڈلیاں نماز میں زیادہ دیر کھڑے رہنے کی وجہ سے سوج گئی تھیں ۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاس قدر کثرت سے عبادت کیا کرتے تھے کہ بالفرض آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے کہہ دیا جاتا کہ کل قِیامت ہے تو بھی اپنی عبادت میں کچھ اضافہ نہ کر سکتے (یعنی ان کے پاس عبادت میں اضافہ کرنے کے لیے وقت کی گنجائش ہی نہ تھی) جب سردی کا موسم آتا تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمکان کی چھت پر سویا کرتے تاکہ سردی آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو جگائے رکھے اورجب گرمیوں کا موسم آتا تو کمرے کے اندر آرام فرماتے تاکہ گرمی اورتکلیف کے سبب سو نہ سکیں۔سجدہ کی حالت میں ہی آپ کا انتقال ہوا۔آپ دعا کیا کرتے تھے: ’’ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں تیری ملاقات کو پسند کرتا ہوں توبھی میری ملاقات کو پسند فرما۔ ‘‘
(5) حضرتِ سَیِّدُنَاقاسم بن راشد شیبانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکہتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُنَا زَمعہرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمُحَصَّب میں ٹھہرے ہوئے تھے، آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی زوجہ اوربیٹیاں بھی ہمراہ تھیں ۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِرات کو اٹھے اوردیر تک نَماز پڑھتے رہے۔جب سحری کا وقت ہوا تو بُلندآواز سے پکارنے لگے: ’’ اے رات میں پڑاؤ کرنے والے قافِلے کے مسافِرو !کیا ساری رات سوتے رہوگے؟ کیا اُٹھ کرسفر نہیں کرو گے؟ ‘‘ یہ سُن کر وہ لوگ جلدی سے اٹھ گئے (اور عبادات میں مشغول ہوگئے) اورکہیں سے رونے کی آواز آنے لگی اورکہیں سے دعا مانگنے کی، ایک جانب سے قرآنِ پاک پڑھنے کی آواز سنائی دی تو دوسری جانب کوئی وُضو کر رہا تھا۔پھر جب صبح ہوئی تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے بلند آواز سے پکارا : ’’ لوگ صبح کے وقت چلنے کو اچھا سمجھتے ہیں ۔ ‘‘ ( )اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان سب پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممِرے غوث کا وسیلہ رہے شاد سب قبیلہ
اِنہیں خُلد میں بسانا مدنی مدینے والےصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ مؤمن ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)اَورادووظائف پر محافظت اختیارکرنا مستحب ہے اور اگرکسی کےاَورادووظائف رہ جائیں تو اسے چاہیے کہ ا نہیں بعد میں مکمل کر لے۔
(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّکےنیک بندےساری ساری رات عبادت کرنے کےباوجوداپنےآپ کوگناہ گارتصورکیا کرتےتھے۔
(3) فرضوں کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے۔
(4) بعض بزرگانِ دین اس قدراللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کیا کرتے کہ ان کی پنڈلیاں نماز میں زیادہ دیر کھڑے رہنے کی وجہ سے سوج جایاکرتی تھیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں خوب خوب عبادات کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں بھی ان بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکی عبادتوں میں سے کچھ حصہ عطافرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعمل کا ہو جذبہ عطا یاالٰہی………گناہوں سے مجھ کو بچا یاالٰہی
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت………ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
دے شوق تلاوت دے ذوق عبادت………رہوں باوضو میں سدا یاالٰہی
ہمیشہ نگاہوں کو اپنی جھکا کر………کروں خاشعانہ دعا یاالٰہی
ہواخلاق اچھا ہو کردار ستھرا………مجھے متقی تو بنا یاالٰہی
میں نیچی نگاہیں رکھوں کاش اکثر………عطا کردے شرم وحیا یاالٰہیصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 155