Main Icon

باب : اعمال پر محافظت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 155

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:کَانَ رَسُوْ لُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ اللَّيْلِ مِنْ وَجَعٍ اَوْ غَيْرِهِ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً. ( )

عن عائشة رضي الله عنها قالت:کان رسو ل الله صلى الله عليه وسلم اذا فاتته الصلاة من الليل من وجع او غيره، صلى من النهار ثنتي عشرة ركعة. ( )

حدیث ترجمہ

:اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے جبرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی رات کی نماز (یعنی تہجد) کسی بیماری وغیرہ کے سبب رہ جاتی تو آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمدن میں بارہ 12رکعت نماز پڑھتے۔ ‘‘

شرح حدیث

اَورَاد ووَظائف پر محافظت :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتےہیں : ’’ یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ اَوْرَاد و وَظَائف پر محافظت کرنا مستحب ہے اور اگر وظیفہ رہ جائے تو اس کی قضاء کی جائے۔ ‘‘ ( )رات کی نماز سےکونسی نمازمرادہے؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ رات کی نماز سے مراد تہجد کی نماز ہے، نیند کے غلبے یا کسی اور اہم کام کی وجہ سے جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز تہجد نہ پڑھ پاتے تو دن میں بارہ 12رکعتیں پڑھ لیتے۔علامہ ابن حجر عسقلانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں :آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبارہ رکعتیں نماز تہجدکی فضیلت پانے کے ‏لیے پڑھتے نہ کہ قضاء کے طور پر، کیونکہ تہجد کی نماز کی رکعت کی تعداد اتنی نہیں ہوتی اور قضاء کبھی بھی ادا سے زائد نہیں ہوتی۔ ‘‘ ( )
¥
زوال سے پہلے بارہ 12رکعتیں :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ (آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدن میں بارہ رکعتیں ادا فرماتے ) یعنی زوال سے پہلے پہلے یا اس لیے پڑھتے کہ آپ پر نمازِ تہجد فرض تھی اور فرض کی قضا ضروری ہے تب تو یہ قضا آ پ کی خصوصیت ہے یہ اس لیے کہ جس کی تہجد رہ جائے اور وہ زَوال سے پہلے بارہ رکعتیں پڑھ لے تو تہجد کا ثوا ب پائے گا۔ ‘‘ ( )رات میں کثرتِ نوافل کی پانچ حکایات:(1) حضرتِ سیِّدُنا عبدالعزیزبن روادعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَّادرات کو سونے کے ‏لیے اپنے بستر پر آتے اور اس پر ہاتھ پھیر کر کہتے: ’’ تُو نرم ہے لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!جنَّت میں تجھ سے زیادہ نرم بستر ملے گا پھر ساری رات نماز پڑھتے رہتے ۔ ‘‘
(2) حضرتِ سَیِّدُناصِلَہ بن اَشْیَم
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَمساری رات نَماز پڑھتے۔ جب سحری کاوقت ہوتا تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں عرض کرتے:الٰہی!میرے جیسا آدمی جنّت نہیں مانگ سکتا لیکن تو اپنی رَحمت سے مجھے جہنمسے پناہ عطا فرما۔ ‘‘
(3) حضرتِ سَیِّدُنَاربیع بن خُثَیم
رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی بیٹی نے آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے عر ض کی: ’’ ابّا جان! کیا وجہ ہے کہ لوگ سو جاتے ہیں اورآپ نہیں سوتے؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ بیٹی !تمہارا باپ ناگہانی عذاب سے ڈرتا ہے جو اچانک رات کو آجائے۔ ‘‘
(4) حضرتِ سیِّدُنا صَفْوان بن سُلَیم
رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی پنڈلیاں نماز میں زیادہ دیر کھڑے رہنے کی وجہ سے سوج گئی تھیں ۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاس قدر کثرت سے عبادت کیا کرتے تھے کہ بالفرض آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے کہہ دیا جاتا کہ کل قِیامت ہے تو بھی اپنی عبادت میں کچھ اضافہ نہ کر سکتے (یعنی ان کے پاس عبادت میں اضافہ کرنے کے ‏لیے وقت کی گنجائش ہی نہ تھی) جب سردی کا موسم آتا تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمکان کی چھت پر سویا کرتے تاکہ سردی آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو جگائے رکھے اورجب گرمیوں کا موسم آتا تو کمرے کے اندر آرام فرماتے تاکہ گرمی اورتکلیف کے سبب سو نہ سکیں۔سجدہ کی حالت میں ہی آپ کا انتقال ہوا۔آپ دعا کیا کرتے تھے: ’’ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں تیری ملاقات کو پسند کرتا ہوں توبھی میری ملاقات کو پسند فرما۔ ‘‘
(5) حضرتِ سَیِّدُنَاقاسم بن راشد شیبانی
قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکہتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُنَا زَمعہرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمُحَصَّب میں ٹھہرے ہوئے تھے، آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی زوجہ اوربیٹیاں بھی ہمراہ تھیں ۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِرات کو اٹھے اوردیر تک نَماز پڑھتے رہے۔جب سحری کا وقت ہوا تو بُلندآواز سے پکارنے لگے: ’’ اے رات میں پڑاؤ کرنے والے قافِلے کے مسافِرو !کیا ساری رات سوتے رہوگے؟ کیا اُٹھ کرسفر نہیں کرو گے؟ ‘‘ یہ سُن کر وہ لوگ جلدی سے اٹھ گئے (اور عبادات میں مشغول ہوگئے) اورکہیں سے رونے کی آواز آنے لگی اورکہیں سے دعا مانگنے کی، ایک جانب سے قرآنِ پاک پڑھنے کی آواز سنائی دی تو دوسری جانب کوئی وُضو کر رہا تھا۔پھر جب صبح ہوئی تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے بلند آواز سے پکارا : ’’ لوگ صبح کے وقت چلنے کو اچھا سمجھتے ہیں ۔ ‘‘ ( )اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان سب پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممِرے غوث کا وسیلہ رہے شاد سب قبیلہ
اِنہیں خُلد میں بسانا مدنی مدینے والے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ مؤمن ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
اَورادووظائف پر محافظت اختیارکرنا مستحب ہے اور اگرکسی کےاَورادووظائف رہ جائیں تو اسے چاہیے کہ ا نہیں بعد میں مکمل کر لے۔
(2)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکےنیک بندےساری ساری رات عبادت کرنے کےباوجوداپنےآپ کوگناہ گارتصورکیا کرتےتھے۔
(3) فرضوں کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے۔
(4) بعض بزرگانِ دین اس قدر
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کیا کرتے کہ ان کی پنڈلیاں نماز میں زیادہ دیر کھڑے رہنے کی وجہ سے سوج جایاکرتی تھیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں خوب خوب عبادات کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں بھی ان بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکی عبادتوں میں سے کچھ حصہ عطافرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعمل کا ہو جذبہ عطا یاالٰہی………گناہوں سے مجھ کو بچا یاالٰہی
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت………ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
دے شوق تلاوت دے ذوق عبادت………رہوں باوضو میں سدا یاالٰہی
ہمیشہ نگاہوں کو اپنی جھکا کر………کروں خاشعانہ دعا یاالٰہی
ہواخلاق اچھا ہو کردار ستھرا………مجھے متقی تو بنا یاالٰہی
میں نیچی نگاہیں رکھوں کاش اکثر………عطا کردے شرم وحیا یاالٰہی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 155