Main Icon

باب : اعمال پر محافظت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 154

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ لِي رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ! لَا تَكُنْ مِثْلَ فُلَانٍ، كَانَ يَقُوْمُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ. ( )

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عبد الله! لا تكن مثل فلان، كان يقوم الليل فترك قيام الليل. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ سرکار ِمدینہ راحت قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا: ’’ اےعبداللہ!اس شخص کی طرح نہ ہوجانا جو رات کو قیام کیا کرتا تھا پھر چھوڑ دیا۔ ‘‘

شرح حدیث

نیک کام پر ہمیشگی اختیار کرنا مستحب ہے:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ رات میں قیام کرنا واجب نہیں ہےکیونکہ اگر واجب ہوتا توسرکارِدوعالَم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقیامِ لیل چھوڑنے والے کے ‏لیے اتنی ہی بات پر اِکتفا نہ فرماتے بلکہ اس کی مذمت بھی فرماتے۔اِفْرَاط وتَفْرِیط کے بغیر کسی نیک کام پر ہمیشگی اختیار کرنا مستحب ہے۔حدیثِ مذکور میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو نفلی عبادت کا عادی ہو پھر ( بلاعذر) اسے ترک کر دے تو یہ مکروہ ہے۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ یعنی اس خصلت میں فلاں کی طرح نہ ہوجانا کہ وہ رات کے بعض حصے میں نمازِتہجد پڑھتا تھا، پھر بغیر کسی عُذر کے اسے چھوڑ دیا ۔پس جس چیز کو اس نے اپنے ذمے لیا تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہا۔حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عبادت کو چھوڑنا اوراپنی عادت کی طرف لوٹنا ایسا ہی ہے جیسے سفر سے الٹے پاؤں واپس لوٹنا اورزیادہ کے بجائے کمی کی طرف آنا ۔ ‘‘ ( )تہجد گزار کاتہجد چھوڑنا بُرا ہے:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ معلوم ہواکہ تہجد گزار کو (بِلا عذر محض سستی کی وجہ) تہجد چھوڑنا بہت بُراہے۔اشعۃاللمعاتمیں ہےکہعبداللہابن عَمرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتمام رات عبادت کرتے تھے، ان کے والد اس سے منع کرتے تھے مگر نہ مانتے تھے چنانچہ ان کے والد نے بارگاہ رسالت میں ان کی شکایت کی تب حضور انورصَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنےیہ ارشاد فرمایا۔مقصد یہ ہے کہ تم سے یہ عبادت نبھ نہ سکے گی اور تم اصل تہجد بھی چھوڑ بیٹھو گے۔ شیخ ابن حجر (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) فرماتے ہیں کہ بہت تلاشی کے باوجود ان صاحب کا نام نہ ملا جو یہ قیام چھوڑ بیٹھے تھے۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ مدینہ ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
اِفراط وتفریط کے بغیر نیک کا م پر ہمیشگی اختیارکرنامستحب ہے۔نیز عبادت اگر واجب نہ ہو تب بھی اس عبادت کوترک کرنامکروہ ہے۔
(2) دکھاوےکے‏لیے کوئی نیک عمل کرنا قابلِ مذمت ہے۔
(3) کسی شخص کومُعَیَّن کیے بغیراس کاعیب بیان کرناجائزہےجبکہ مقصود کسی کی اصلاح ہو۔
(4) چندروزعبادت کرکے پھر چھوڑدیناقابل مذمت ہے۔
(5) کسی عذرکی وجہ سے اگر کبھی نفلی عبادت ترک ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہےکہ وہ ہمیں عبادت میں خشوع وخضوع عطافرمائےاورہماری تمام خطاؤں کو اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکے صدقے معاف فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 154