Main Icon

نیکی پر باہمی مدد کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 177

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ زَیْدِ بْنِ خَالِد الْجُهَنِيِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ نَبِیُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِیًا فِي اَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا.‘‘ ( )

عن ابی عبد الرحمن زید بن خالد الجهني رضی اللہ عنہ قال : قال نبی الله صلى الله عليه وسلم : ’’من جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا ومن خلف غازیا في اهله بخير فقد غزا.‘‘ ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناابو عبدالرحمٰن زید بن خالدجہنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رَحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو سازوسامان دیا تو گویا اس نےبھی جہاد کیا اور جس نے جہاد کرنے والے کے اہل وعیال کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال کی تو اس نے بھی جہاد کیا۔ ‘‘

شرح حدیث

نیکی وگناہ پر مددکرنے والا:مذکورہ حدیث پاک سے یہ معلوم ہوتا ہے جس نے کسی بھی مسلمان کی نیکی کے کام میں مدد کی تو اس مدد کرنے والے کے لیے اس نیکی کرنے والے کے برابر اجر ہےاور تمام نیک اعمال میں یہی معاملہ ہے ، اسی طرح جس نے کسی کی گناہ والے کام میں مدد کی تو اس مدد کرنے والے کو اس گناہ کرنے والے کے برابر گناہ ملے گا اور تمام گناہوں میں مدد کرنے کا یہی معاملہ ہے۔( )مجاہد کی مدد کرنے والے کو جہاد کا ثواب:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’مجاہد کی مدد کرنے والے کو بھی جہاد کا ثواب ملے گا اور یہ ثواب ہر اس جہاد میں ملے گاجس میں اس نے مدد کی ، نیز جہاد کا پورا پورا ثواب ملے گا چاہے اس نے کم مدد کی یا زیادہ۔ اسی طرح جو مجاہد کے گھروالوں کی دیکھ بھال کرے گا اسے بھی اس جہاد کا ثواب ملے گا۔ البتہ یہ ثواب دیکھ بھال میں کمی یا زیادتی کے سبب کم یا زیادہ

ہوگا۔ اگر کم دیکھ بھال کرے گا تو کم ثواب ملے گا اور زیادہ کرے گا تو زیادہ۔ ‘‘ ( )
مُفَسِّرشھیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرما تے ہیں : ’’ غازی کو سامانِ سفر ، سامانِ جنگ یا روٹی کپڑا ، سواری دینے والے کو بھی جہاد کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ یہاں جہاد سے حکمی جہاد مراد ہے یعنی ثواب۔ جو مجاہد کے پیچھے اس کے بال بچوں کی خدمت اس کے گھر بار کی دیکھ بھال کرے وہ بھی ثوابِ جہاد میں شریک ہوگیا کیونکہ اس کی اس خدمت سے غازی کا دل مطمئن ہوگا جس سے وہ جہاد اچھی طرح کر سکے گا تو گویا یہ شخص غازی کے اطمینانِ دل کا ذریعہ بنا۔ ‘‘( )

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 177