Main Icon

نیکی پر باہمی مدد کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 180

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي مُوْسَى اَلْاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّہ ُ قَالَ : الْخَازِنُ الْمُسْلِمُ الْاَمِيْنُ الَّذِي يُنْفِذُ مَا اُمِرَ بِهِ فَيُعْطِيْهِ كَامِلًا مُوَفَّرًاطَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ فَيَدْفَعُهُ اِلَى الَّذِي اُمِرَ لَهُ بِهِ اَحَدُ الْمُتَصَدِّقِيْنِ. ( )

عن ابي موسى الاشعری رضی اللہ عنہ عن النبي صلى الله عليه وسلم انہ قال : الخازن المسلم الامين الذي ينفذ ما امر به فيعطيه كاملا موفراطيبة به نفسه فيدفعه الى الذي امر له به احد المتصدقين. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناابوموسیٰ اَشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’وہ امانتدارمسلمان خزانچی جسے کسی کو کچھ دینے کا حکم دیا گیا اور وہ پورا پورا خوش دلی سے اُسے دیتا ہے تو وہ صدقہ کرنے والوں میں سےایک ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

خزانچی کے لیے حصولِ ثواب کی چھ شرائط:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک ایسے شخص کے صدقہ کرنے کے بارے میں ہے جو کسی کے مال کا امین ہو اور اُس کا مالک اُسے صدقہ کرنے کا حکم دے۔ اِس حدیث میں حصولِ ثواب کی چھ شرائط کو بیان فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اِس حدیث میں حصولِ ثواب کے لئے چھ قیودات لگائی ہیں : (1) وہ خزانچی ہوکیونکہ خزانچی کے علاوہ کسی اور کے لئے( مالک کے مال میں سے) صدقہ کرنا جائز نہیں۔ (2) وہ مسلمان ہو یعنی کافر کے لئے یہ ثواب نہیں کیونکہ وہ نیت کا اَہل نہیں۔ (3) وہ امانت دار ہوخائن(خیانت کرنے والا) نہ ہو۔ (4) وہ نافذ کرنے والا ہو ، یعنی صدقہ کرنےکا جو حکم

اُسے ملا ہے وہ اُسے نافذ کرنے والا ہو ۔ (5) اُس کا دل اُس صدقہ کرنے سے خوش ہویعنی خوش دلی کے ساتھ صدقہ کرے تاکہ اس کی نیت قائم رہے ورنہ اجر مفقود ہوجائے گا۔ (6)جس کو صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے اسی کو دےاس کے علاوہ کسی اور کو دیا تو یہ مالک کی مخالفت ہوگی اور یہ خیانت ہو جائے گی۔ یہ تمام قیودات اس ثواب کو پانے کے لئےشرط ہیں۔ ‘‘( )
کسی دوسرے کے مال سے صدقہ کرنے کا حکم:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’خازِن اور غلام کو مالک کے مال سے صدقہ کرنے کے لیے اپنے مالک کی اجازت اور بیوی کو شوہر کے مال سے صدقہ کرنے کے لیے اپنے شوہر کی اجازت ضروری ہے ، بلا اجازت صدقہ کرنے سے تینوں کو ثواب نہیں ملے گا بلکہ غیر کے مال میں بِلا اجازت تصرف کرنے کی وجہ سے گناہ ملے گا۔ پھر اِجازت دو طرح کی ہےکہ مالک صراحتاً اجازت دے دے۔ یا عُرفاً وعادَتاً اجازت ہو۔ جیسے کہ سائل کو روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینااور ایسی چیز دینا جس کا عُرف و عادت میں بغیر اجازت دینے کا رَواج ہو۔ ( )کفار کو اپنا مشیر بنانے کی ممانعت:مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’بادشاہوں امیروں کے ہاں خزانچی بھی ملازم ہوتے ہیں ، جن کے پاس مالک کا روپیہ جمع رہتا ہے ، جس کا وہ لین دین کرتے ہیں اور حساب رکھتے ہیں۔ خزانچی مسلمان بھی ہوتے ہیں اور کافر بھی۔ اگلا اجر صرف مسلمان خزانچی کے لیے ہے کیونکہ کافر کسی نیکی کے ثواب کا مستحق نہیں ۔ ثواب قبولیت پر ملتا ہے اور قبولیت کی شرط اسلام ہے۔ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ حتی الامکان خزانچی مسلمان رکھے اور کلیدی آسامیوں ( یعنی بڑے بڑے عہدوں )پر مسلمان کو لگائے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ(پ۴ ، آل عمران : ۱۱۸)
ترجمہ : یعنی کفار کو اپنا مشیر نہ بناؤ۔
اگر مسلمان امین خزانچی میں صدقہ دیتے وقت چار صفتیں جمع ہوجائیں تو مالک کی طرح اسے بھی صدقہ کا ثواب ملے گا : مالک کے حکم سے صدقہ دے ، پورا پورا صدقہ دے ، حکم سے کم نہ دے ، خوش دلی سے دے جل کر نہ دے۔ جیسا کہ بعض خازنوں کی عادت ہے کہ مالک خیرات کرے اُن کی جان جلے۔ جہاں صدقہ دینے کو کہا گیا ہے وہاں ہی دے ، مَصرف نہ بدلے۔ مسجد میں دینے کو کہا ہے تو مسجد میں دے ، خانقاہ پر خرچ کرنے کو کہا ہے تو وہاں ہی خرچ کرے۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’صِدق‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اوراس کی شرح سے ملنے والے3مدنی پھول
(1 ) صدقہ کے خزانچی یعنی کسی دوسرے شخص کے مال کو اس کی طرف سے صدقہ کرنے والے کو بھی صدقہ کرنے والے مالک کی مثل ثواب ملتا ہے جبکہ مالک کے حکم سے صدقہ دے ، پورا پورا صدقہ دے ، حکم سے کم نہ دے ، خوش دلی سے دے ، جَل کر نہ دے۔
(2 ) غلام اور خزانچی اپنے مالک کی اِجازت اور بیوی اپنے شوہر کی اِجازت کے بغیر صدقہ نہیں کرسکتی ، بلا اِجازت صدقہ کرنے سے تینوں گنہگار ہوں گے۔
(3 ) اپنے مالی معاملات میں پڑھے لکھے سمجھدار اور اَہل مسلمان شخص کو ذمہ دار بنانا چاہیے ، اِسی طرح دیگر عُہدوں میں بھی کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کو ہی ترجیح دینی چاہیے کہ اُن کے لیے اجرو ثواب کی اُمید ہے کفار کے لیے نہیں کہ ثواب کے لیے اِیمان کی شرط لازم ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 180