Main Icon

نیکی پر باہمی مدد کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 178

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي سَعِيْدِالْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعَثَ بَعْثًا اِلَى بَنِي لَحْيَانَ مِنْ هُذَيْلٍ فَقَالَ : ’’لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ اَحَدُهُمَا وَالْاَجْرُ بَيْنَهُمَا.‘‘ ( )

عن ابي سعيدالخدري رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ، بعث بعثا الى بني لحيان من هذيل فقال : ’’لينبعث من كل رجلين احدهما والاجر بينهما.‘‘ ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے کہ محبوب ربِّ داور ، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےقبیلہ ہذیل سے قبیلہ بَنُو لَحْيَان کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ساتھ ہی ارشادفرمایا : ’’دو مَردوں میں سے ایک جہاد کےلیےجائے ، ثواب میں دونوں برابرشریک ہوں گے۔ ‘‘

شرح حدیث

مجاہدکے گھروالوں کی دیکھ بھال کرنے والے کا اجر:علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : اِس بات پر علما ءکا اتفاق ہے کہ بَنُو لَحْيَان والے اُس وقت کافر تھےپس رحمتِ عالم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےان کی طرف ایک لشکر جہاد کرنے کے لئے بھیجا ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان : ’’ دو مَردوں میں سے ایک جہاد کے لئے جائے۔ ‘‘ سے مراد ہے کہ ہر قبیلے میں سے آدھے مَرد جہاد کے

لئے جائیں۔ دونوں کو برابر اجر اس وقت ملے گا جب دوسرا شخص غازی کے گھر والوں کی دیکھ بھال کرے۔ ‘‘ ( )
مجاہد کے خلیفہ کی ثواب میں شرکت:مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’گھرکے سارے آدمی لشکر میں نہ جائیں ، باپ بیٹے ، بھائی بھائی ، چچا بھتیجے میں سے ایک شخص تو جہاد میں جائے دو سرا شخص گھر میں رہ کر اسے سنبھالے۔ نفس ثواب مشترک ہوگا(یعنی دونوں کو ملےگا)۔ معلوم ہوا کہ مجاہد کا خلیفہ مجاہد کے ثواب میں شریک ہوتا ہے۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’جهاد‘‘کے4حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکوره اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1 ) نیکی کے کام میں معاونت کرنے والے کو نیکی کرنے والے کی طرح اجر اور گناہ کے کام میں معاونت کرنے والے کو گناہ کرنے والے کےبرابر گناہ ملتا ہے۔
(2 ) نیکی کے کام میں مدد کرنے پر نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملنے کا معاملہ تمام نیک کام موں میں ہے ، اسی طرح گناہ کے معاملے میں مُعاونت کرنے پر گناہ ملنے کا معاملہ بھی تمام گناہ والے کاموں میں ہے۔
(3 ) اسلام میں نیکی وپرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کاد رس دیا گیا ہے۔
(4 ) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہد کی مدد کرنے والے کو بھی جہاد کا ثواب ملے گا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیکی ، تقویٰ وپرہیزگاری کے کاموں میں باہم مُعاوَنت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، گناہوں سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 178