- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
نیکی پر باہمی مدد کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 3
حضرتِ سَیِّدُناابو عبدالرحمٰن زید بن خالدجہنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رَحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو سازوسامان دیا تو گویا اس نےبھی جہاد کیا اور جس نے جہاد کرنے والے کے اہل وعیال کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال کی تو اس نے بھی جہاد کیا۔ ‘‘
عَنْ اَبِی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ زَیْدِ بْنِ خَالِد الْجُهَنِيِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ نَبِیُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِیًا فِي اَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا.‘‘ ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 177 ، نیکی پر باہمی مدد کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے کہ محبوب ربِّ داور ، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےقبیلہ ہذیل سے قبیلہ بَنُو لَحْيَان کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ساتھ ہی ارشادفرمایا : ’’دو مَردوں میں سے ایک جہاد کےلیےجائے ، ثواب میں دونوں برابرشریک ہوں گے۔ ‘‘
عَنْ اَبِي سَعِيْدِالْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعَثَ بَعْثًا اِلَى بَنِي لَحْيَانَ مِنْ هُذَيْلٍ فَقَالَ : ’’لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ اَحَدُهُمَا وَالْاَجْرُ بَيْنَهُمَا.‘‘ ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 178 ، نیکی پر باہمی مدد کا بیان
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممقامِ رَوْحَاءپر ایک قوم سے ملےتو دریافت فرمایا : ’’تم کون ہو؟‘‘ ان لوگوں نے عرض کی : ’’ہم مسلمان ہیں۔ ‘‘ پھر ان لوگوں نے پوچھا : ’’آپ کون ہیں؟‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا رسول ہوں۔ ‘‘ تو ایک عورت نے اپنے چھوٹے بچے کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف بلند کرتے ہوئے عرض کی : ’’کیا اس کا حج ہو سکتا ہے؟‘‘ فرمایا : ’’ہاں ، اور تیرے لئے اجر ہے۔ ‘‘
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ اَ نَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ رَكْبًا بِالرَّوْحَاءِ فَقَالَ مَنِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا الْمُسْلِمُونَ. فَقَالُوا مَنْ اَنْتَ ؟ قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ. فَرَفَعَتْ اِلَيْهِ امْرَاَةٌ صَبِيًّا فَقَالَتْ : اَلِهٰذَا حَجٌّ ؟ قَالَ : نَعَمْ وَلَكِ اَجْرٌ .‘‘( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 179 ، نیکی پر باہمی مدد کا بیان
حضرتِ سَیِّدُناابوموسیٰ اَشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’وہ امانتدارمسلمان خزانچی جسے کسی کو کچھ دینے کا حکم دیا گیا اور وہ پورا پورا خوش دلی سے اُسے دیتا ہے تو وہ صدقہ کرنے والوں میں سےایک ہے۔ ‘‘
عَنْ اَبِي مُوْسَى اَلْاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّہ ُ قَالَ : الْخَازِنُ الْمُسْلِمُ الْاَمِيْنُ الَّذِي يُنْفِذُ مَا اُمِرَ بِهِ فَيُعْطِيْهِ كَامِلًا مُوَفَّرًاطَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ فَيَدْفَعُهُ اِلَى الَّذِي اُمِرَ لَهُ بِهِ اَحَدُ الْمُتَصَدِّقِيْنِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 180 ، نیکی پر باہمی مدد کا بیان