- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- حدیث نمبر 273
حدیث مبارکہ
َعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ وَسَلَّم : اِسْتَوْصُوْا بالنِّسَاءِ خَيْراً فَاِنَّ الْمَرْاَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ وَاِنَّ اَعْوَجَ مَا فِي الضِّلَعِ اَعْلَاهُ فَاِنْ ذَهَبْتَ تُقِيْمُهُ كَسَرْتَهُ وَإنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ اَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوْا بالنِّساءِ.( )
وَفِي رَوَايَةٍ فِي الصَّحِيْحَيْنِ:الْمَراَِةُ كالضِّلَعِ اِنْ اَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَاوَاِن اسْتَمتَعْتَ بِهَااسْتَمتَعْتَ وفِيْهَا عِوَجٌ.( )
وَفِيْ رَوَايَةٍ لِمُسْلِـمٍ : اِنَّ الْمَراَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعِ لَنْ تَسْتَقِيْمَ لَكَ عَلَى طَرِيْقَةٍ فاِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفيهَا عِوَجٌ واِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهاوَكَسْرُهَا طَلاَقُهَا. ( )
عن ابي هريرةرضی اللہ تعالی عنہ قال : قال رسول صلی اللہ علیہ و وسلم : استوصوا بالنساء خيرا فان المراة خلقت من ضلع وان اعوج ما في الضلع اعلاه فان ذهبت تقيمه كسرته وإن تركته لم يزل اعوج فاستوصوا بالنساء.( )
وفي رواية في الصحيحين:المراة كالضلع ان اقمتها كسرتهاوان استمتعت بهااستمتعت وفيها عوج.( )
وفي رواية لمسلـم : ان المراة خلقت من ضلع لن تستقيم لك على طريقة فان استمتعت بها استمتعت بها وفيها عوج وان ذهبت تقيمها كسرتهاوكسرها طلاقها. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ محبوب ربِّ داور ، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’عورتوں سے حسن سلوک کرو کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہےاور پسلی کا اوپر کا حصہ زیادہ ٹیڑھا ہوتا ہے ، پس اگر اسے سیدھا کرنا چاہوگے تو توڑ دوگےاور اگر اسی طرح چھوڑ دو تو وہ ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہے گی لہٰذا عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔ ‘‘
بخاری ومسلم کی ایک روایت میں یوں ہے : ’’عورت پسلی کی مانند ہے ، اگر اسے سیدھا کروگے تو توڑ دوگےاور اگر تم اس سے نفع اٹھانا چاہو تو اس کے ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی نفع اٹھاؤ۔ ‘‘
مسلم کی ایک روایت میں ہے : ’’عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے وہ ایک راستے پر ہر گز سیدھی نہیں رہ سکتی لہٰذا اگر تم اُس سے نفع اٹھانا چاہو تو اُس کے ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اٹھاؤگےاور اگر سیدھا کرنا چاہوگے تو توڑدوگے اور توڑنے سے مراد طلاق ہے ۔ ‘‘
شرح حدیث
عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیاہے:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’عورت کو ایک پسلی سے پیدا کیا گیا ہے کیونکہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیدنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو جنت میں رکھا تو ایک مدت کے بعد اُن کو گھبراہٹ ہوئی تو انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے تنہائی کی شکایت کی ، پس انہوں نے خواب میں ایک حسین عورت کو دیکھا پھر جب وہ نیند سے بیدارہوئے تو وہ اُن کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ حضرت سیدنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے اُن سے پوچھا : ’’تم کون ہو؟‘‘انہوں نے کہا : ’’میں حواء ہوں۔ ‘‘مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اِس لئے پیدا کیا تا کہ آپ مجھ سے سکون حاصل کریں اور میں آپ سے سکون حاصل کروں ۔ ‘‘حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے بیان کیاکہ ’’ حضرت سیدتنا حواء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو حضرت سیدناآدم عَلَیْہِ السَّلَام کی پسلی سے پیدا کیا گیا ۔ ‘‘ مقاتل بن سلیمان نے کہا : ’’حضرت سیدنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام جنت میں سو گئے تو حضرت سیدتنا حواءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو اُن کی دائیں جانب سے بغیر کسی درد کے پیدا کیا گیا ، اگر انہیں درد ہوتا تو کبھی کوئی مرد عورت پر رحم نہ کرتا۔ ‘‘
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث پاک کےتحت فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں یہ دلیل ہے کہ حضرت سیدتنا حواء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو سیدنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ ‘‘اورحضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی ارشاد فرمایا : ’’عورت کو پسلی سےپیدا کیا گیا ہے۔ ‘‘ اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ عورتوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا ، ان پر اِحسان کرنا ، ان کی بد اخلاقی ا ور عقل کی کمزوری پر صبر کرنا اور بلا سبب ان کو طلاق دینے کو نا پسند کرنا اور اس بات کی خواہش نہ رکھنا کہ یہ بالکل سیدھی ہو جا ئے گی۔ ‘‘عورتوں کے بُرےسلوک پر صبرکرو:عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین اَحْمَد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ گویا کہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ تعلیم فرمائی کہ عورتوں سے اُسی وقت فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے جب تم اُن کی بد سلوکی پر صبر کرواور میں تم کو عورتوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں لہٰذا تم میری وصیت کو قبول کرواور اس پر عمل کرو۔ ‘‘امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’عورت کوچاہیے کہ اپنے خاوند کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرے اور مرد کو چاہئے کہ اپنی زوجہ سے اچھے اخلاق سے پیش آئے اور عورت کے ساتھ حسن خلق یہ نہیں کہ عورت کوتکلیف نہ دے بلکہ حسن خلق یہ ہے کہ عورت کے غصے اور اس کی ایذا کو برداشت کرےاور اس میں اللہ کے محبوب ، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اقتدا و اتباع کرےکیونکہرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود اپنی بعض اَزواجِ مطہرات کے مختلف رویوں کے باوجود اُن کے ساتھ خوش طبعی فرماتے۔ مرد عورت کی ایذا ا ور بد سلوکی پر بھی اُس سے خوش اَخلاقی سے پیش آئےیہی وہ چیز ہے جو عورت کے دِل کو جیت لیتی ہے۔ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ’’رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے دوڑنے میں مقابلہ کیا ، پس میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے آگے نکل گئی۔ ‘‘عورت میں سب سے ٹیڑھی چیز:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتےہیں : ’’اِس میں اِس با ت کی طرف اشارہ ہے کہ سیدتنا حواء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو حضرت سیدناآدم عَلَیْہِ السَّلَام کی بائیں پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اور پسلی کا اوپر کا حصہ زیادہ ٹیڑھا ہوتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ عورت میں سب سے ٹیڑھی چیز اُس کی زبان ہے۔ اِس مقدمے کا فائدہ یہ ہے کہ عورت کو ٹیڑھی پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اور اُس کے ٹیڑھے پَن کا اِنکا ر نہیں کیا جا سکتایا وہ سیدھے پَن کو قبول ہی نہیں کرتی جیسا کہ پسلی سیدھا ہونے کو قبول نہیں کرتی ، اِسی لیے فرمایا : ’’اگر اِسے سیدھا کرنا چاہوگے تو توڑ دوگے۔ ‘‘ یعنی پسلی کا اوپر کا حصہ کہ جس کی فطرت میں ہی ٹیڑھا پَن ہے اُس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ دوگےاور اگر اُسی طرح چھوڑ دو تو ہمیشہ ٹیڑھی رہے گی کیونکہ ٹیڑھا پن پسلی کی فطرت میں شامل ہے اسی طرح عورت بھی ہے کہ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہوگے اور اس کے سیدھا نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ نفرت و جدائی کی طرف لے جائے گااور یہ اس کا ٹوٹنا ہےاور اگر اس کی بد سلوکی و کم عقلی اور اسی طرح کےدیگر ٹیڑھے پَن پر صبر کروگے تو معاملہ قائم رہے گا اور معاشرت باقی رہ سکے گی۔ پس عورتوں سے اچھا سلوک کرویعنی اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو اور ان سے اچھا سلوک کرو اور ان سے صادر ہونے والی تمام ناپسندیدہ باتوں پر صبرکرو۔ یہاں اس با ت کی طرف اشارہ ہے کہ عورت کو نرمی سے درست کرو ، اس طرح کہ نہ تو اتنا مبالغہ(شدت) کرو کہ ٹوٹ جائے (یعنی طلاق ہو جائے )اور نہ بالکل ہی چھوڑ دو کہ اس کا ٹیڑھا پَن باقی رہے۔ ‘‘عورت کی بد سلوکی پر صبرکرو:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مذکورہ حدیث پاک کے الفاظ ’’عورتوں سے حسن سلوک کروکیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہےاور پسلی کا اوپر کا حصہ زیادہ ٹیڑھا ہوتا ہے۔ ‘‘کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی حضرت حوا کی پیدائش آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی پسلی کے اوپری حصہ سے ہوئی جو ٹیڑھا ہے اور تمام عورتیں انہی حوا کی اولاد سے ہیں ، فطری طور پر سب میں قدرِ کجی سخت مزاجی ہے اور رہے گی۔ ’’پس اگر اسے سیدھا کرنا چاہوگے تو توڑ دوگے۔ ‘‘یعنی جو چیز ٹیڑھی بھی ہو خشک بھی وہ سیدھی نہیں ہوسکتی ، پسلی کا اوپر حصہ ٹیڑھا اور خشک ہے اور وہ سیدھا نہیں ہوسکتا اسی طرح عورت بالکل سیدھی نہیں ہوسکتی ، معلوم ہوا کہ اصل کا اثر شاخ میں ہوتا ہے۔ ’’عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے وہ ایک راستہ پر ہر گز سیدھی نہیں رہ سکتی۔ ‘‘ کیونکہ ٹیڑھا پن عورت کی فطرت میں داخل ہے تعلیم و تربیت سے کچھ درست ہوجاتی ہے مگر بالکل سیدھی نہیں ہوتی۔ ’’اگر تم اس سے نفع اٹھانا چاہو تو اس کے ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اٹھاؤگے۔ ‘‘یعنی اسے اس کی حالت پر رہنے دو ، اس کی بدخلقی ناشکری وغیرہ کو برداشت کرو اور اپنا کام نکالو ، اس کے بغیر تمہارے کام نہیں چل سکتے ، وہ تمہاری وزیر اور گھر کی منتظم ہے۔ ’’اور اگر سیدھا کرنا چاہوگے تو توڑدوگے اور توڑنے سے مراد طلاق ہے۔ ‘‘اگر تم اسے ہر بات پر ملامت کرو ، اس کے ہر عمل کی نگرانی کرو تو تمہارا گھر میدانِ جنگ بن جائے گااور آخر طلاق دینا پڑے گی لہٰذا بعض باتوں میں چشم پوشی کیا کرو۔‘‘زوجین میں محبت کا فاروقی نسخہ:ایک شخص امیرالمومنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں اپنی زوجہ کی شکایات کے ارادے سے حاضرہوا۔ جب دروازے پر پہنچا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کےگھر کے اندر سے آپ کی ایک زوجہ کی(غصے کی حالت میں) بلند آواز سے گفتگو کرنے کی آواز سنائی دی۔ جب اس شخص نے یہ ماجرا دیکھا تویوں کہتے ہوئے واپس لوٹ گیا کہ میں اپنی زوجہ کی شکایات کرنے آیا تھا لیکن یہاں تو خود امیر المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی اسی مسئلے سے دوچار ہیں۔ بہرحال بعد میں امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس شخص کو بلایا اور آنے کی وجہ پوچھی تواس نے عرض کی : ’’حضور!میں تو آپ کی بارگاہ میں اپنی بیوی کی شکایت لے کر آیا تھا مگر جب دروازے پر آپ کی زوجہ محترمہ کی گفتگو سنی تو واپس لوٹ گیا۔ ‘‘امیرالمومنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُس شخص کی گفتگو سن کر اُسے زوجین میں اُلفت ومحبت کا ایک ایسا قیمتی نسخہ عطا فرمایا کہ اگر دنیا کا ہر شوہر اسے گرہ سے باندھ لےتو اس کا گھر خوشیوں کا گہوارہ بن جائے ، اُس کے اور اُس کی زوجہ کے درمیان لڑائی جھگڑے اور فتنہ وفساد ختم ہوجائیں۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُس سے ارشاد فرمایا : ’’میری زوجہ کے مجھ پر چند حقوق ہیں جن کی بناء پر میں اس سے درگزر کرتا ہوں ، وہ حقوق یہ ہیں : (1)وہ مجھے جہنم کی آگ سے بچانے کا ذریعہ ہے ، اس کی وجہ سے میرا دِل حرام کی خواہش سے بچا رہتا ہے ۔ (2)جب میں گھر سے باہر ہوتا ہوں تو وہ میرے مال کی حفاظت کرتی ہے۔ (3) میرے کپڑے دھوتی ہے۔ (4)میرے بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔ (5)میرے لئے کھانا پکاتی ہے۔ یہ سن کر وہ شخص بے ساختہ بول اٹھا : ’’حضور!یہ تمام فوائد تو میری بیوی سے بھی مجھے حاصل ہوتے ہیں ، مگر افسوس! میں نے اُس کی اِن خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے اُس کی کوتاہیوں سے کبھی درگزر نہیں کیا ، لیکن آج کے بعد میں بھی اُس کے اِن حقوق کی وجہ سے درگزر سے کام لوں گا۔ ‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نسلِ انسانی کی بقا اور بڑھوتری کے لئے مَرد وعورت کو جس خوبصورت رشتے کی لڑی میں پرویا ہے وہ رشتہ جس قدر اَہم ہے اُسی قدر نازُک بھی ہے۔ باہمی تعاوُن ، خُلُوص ، چاہت اور درگزر اِزدواجی زندگی میں خوشیوں کے رنگ بکھیر دیتے ہیں لیکن اِس کے برعکس عدمِ برداشت اور درگزر نہ کرنے اور ہمیشہ ایک دوسرے کی بُرائیوں پر نظر رکھنے کی عادت زندگی میں زہر گھول دیتی ہے ۔ مذکورہ بالا روایت میں امیرالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے گھر کو اَمْن کا گہوارہ بنانے کابہت ہی پیارا نسخہ عطافرمایاہے۔ واقعی اگرشوہر بیوی کی اچھائیوں پر نظر رکھے اور معمولی غلطیوں پر اُس سے درگزر کرے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اُن کا گھرخوشیوں کا گہوراہ نہ بنے۔ مگر افسوس !آج کل میاں بیوی کے درمیان ناچاقیوں اور لڑائی جھگڑوں کا مَرض تقریباً ہر گھر میں سَرایت کرچکا ہےجس کے سبب گھرگھر میدانِ جنگ بن چکاہے۔ دراصل ہم میں سے ہرایک یہ چاہتا ہےکہ میرے حُقُوق پورے کئے جائیں اور وہ یہ بھول جاتا ہے کہ دوسروں کے بھی کچھ حُقُوق ہیں جنہیں ادا کرنا مجھ پر لازم ہے۔ بس یہاں سے نااتِّفاقی کی آگ شُعلَہ زَن ہوتی ہے جو بڑھتے بڑھتے لڑائی جھگڑے کا رُوپ دھار کرقلبی چین وسکون کو جَلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ اگر ہم میں سے ہر ایک اپنے حصے کے حُقُوق ادا کرے اوردوسروں سے ہونے والی کوتاہیوں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لیے درگزر کرے تو گھر امن و سکون اور خوشیوں کا گہوارہ بن جائے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
مدنی گلدستہ’’نیکی‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)اسلام ایسا پیارا دِین ہے جس نے زمانہ جاہلیت میں ذلت ورسوائی کی چکی میں پِسِی ہوئی عورت کو عزت وحیا کی چادر عطا فرمائی اور اُس کے حقوق کو تفصیلی طور پر بیان فرمایا۔
(2)عورت کی فطرت میں ٹیڑھا پَن ہے، لہذا اُس کے ٹیڑھے پَن سے در گزر کرتے ہوئے نرمی و خوش اَخلاقی سے پیش آنا چاہیے۔
(3)شوہر کو چاہیے کہ اپنی زوجہ کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر کرے، اس کی بُرائی کو دیکھ کر اُس کی اچھائیوں پر نظر کرے، اُس کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کرے۔
(4)بیوی کی طرف سے جب کوئی توہین آمیز سلوک پیش آئے تو یہ مدنی ذہن بنائے کہ یہ میری عزت کی محافظ ہے، میرے گھر کو سنبھالتی ہے، اِس کے سبب میں حرام اور غیر عورتوں سے بچتا ہوں، یہ میرے بچوں کو پالتی ہے، میرے مال ودولت کو حفاظت سے رکھتی ہے۔وغیرہ وغیرہ
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی ازواج کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے ، اُن کی طرف سے پہنچنے والی تمام تکالیف پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 273