- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- حدیث نمبر 274
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ رَضِيَ الله عَنْهُ اَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم يَخْطُبُ وَذَكَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي عَقَرَهَا فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:) اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَاﭪ(انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَزِيْزٌ عَارِمٌ مَنِيْعٌ فِيْ رَهْطِهِ ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فَوَعَظَ فِيْهِنَّ فَقَالَ:يَعْمِدُ اَحَدُكُمْ فَيَجْلِدُامْرَاَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ فَلَعَلَّهُ
يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ في ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِوَقالَ: لِمَ يَضْحَكُ اَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ؟( )
عن عبد الله بن زمعة رضي الله عنه انه سمع النبي صلی اللہ علیہ وسلم يخطب وذكر الناقة والذي عقرها فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:) اذ انبعث اشقىهاﭪ(انبعث لها رجل عزيز عارم منيع في رهطه ثم ذكر النساء فوعظ فيهن فقال:يعمد احدكم فيجلدامراته جلد العبد فلعله
يضاجعها من آخر يومه ثم وعظهم في ضحكهم من الضرطةوقال: لم يضحك احدكم مما يفعل؟( )
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا عبداللہ بن زَمْعَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خطبہ ارشاد فرماتے ہو ئے سناکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (حضرت سیدنا صالح عَلَیْہِ السَّلَامکی) اونٹنی اور اس کو زخمی کرنے والے کا ذکرفرمایا پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’)αاِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَاﭪ(۱۲)((پ۳۰ ، الشمس : ۱۲)ترجمۂ کنزالایمان : جب کہ اس کا سب سے بدبخت اٹھ کھڑا ہوا۔ ‘‘ قوم(ثمود) کا ایک شرارتی وفسادی ، طاقتور وظالِم وجابِر سردار کھڑا ہوا۔ ‘‘اِس کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عورتوں کا ذکر فرمایا اور اُن کے بارے میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : ’’تم میں سے کوئی اپنی زوجہ کو اِس طرح مارتا ہے جس طرح غلام کو مارا جاتا ہے ، شاید پھر اُس دن اُس سے جماع بھی کرتا ہے۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں ریح خارج ہونے پر ہنسنے کے بارے میں نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’تم ایسے کام پر کیوں ہنستے ہو جو خود بھی کرتے ہو ؟‘‘
شرح حدیث
سیدنا صالحعَلَیْہِ السَّلَامکی اونٹنی کا مختصر واقعہ:سیدنا صالح عَلَیْہِ السَّلَامکی ناقہ یعنی اونٹنی کا تفصیلی واقعہ قرآنِ پاک کی سورۂ اَعراف میں ذِکر فرمایا گیا ہے۔ اِس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ حضرت سیدنا صالح عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم نے آپ سے معجزہ طلب کیا تو آپ نے بارگاہِ رب العزت میں دعا کی ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کو یہ معجزہ عطا فرمایا کہ ایک پتھر سے بحکم اِلٰہی اونٹنی پیدا فرمائی ، یہ اونٹنی بہت سے عجائبات پر مشتمل تھی کہ عظیم الجثہ پیدا ہوئی ، پیدا ہوتے ہی بچہ جنا اور اتنا کثیر دودھ دیتی کہ پوری قومِ ثمود کو کافی ہوتا۔ اِس ناقہ کے متعلق اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قوم ثمود کو حکم دیا تھا کہ اسے کوئی تکلیف نہ پہنچائیں ورنہ عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ الغرض اُن لوگوں نے ناقہ کی کُونچیں کاٹ دیں تو حضرت سیدنا صالح عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا کہ ’’تم اِس کے بعد تین روز زندہ رہو گے۔ پہلے روز تمہارے سب کے چہرے زَرد ہو جائیں گے ، دوسرے روز سُرخ ، تیسرے روز سیاہ ، چوتھے روز عذاب آئے گا۔ چنانچہ ا یسا
ہی ہوا ، یک شنبہ(اتوار) کو دوپہر کے قریب آسمان سے ایک ہَولناک آواز آئی جس سے اُن لوگو ں کے دل پھٹ گئے اور سب ہلاک ہو گئے۔ مذکورہ حدیث پاک میں حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وہی آیت مبارکہ تلاوت فرمائی ہے جس میں اُس اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والے بدبخت کا ذکر ہے۔ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث پاک کے الفاظ کےتحت فرماتے ہیں : ’’اس اونٹنی کو زخمی کرنے والے شخص کا نام قذار بن سلف ثمودی تھا جو کہ قوم ِ ثمود کا سب سے بڑا بد بخت انسان تھا۔ ‘‘( )بیویوں کو مارنے کا حکم:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسلام میں جہاں دیگر حقوق بیان فرمائے گئے ہیں وہیں زوجین یعنی میاں بیوی کے حقوق بھی تفصیل سےبیان فرمائے گئے ہیں ، بیوی اپنے شوہر کی برابری کرنے کے بجائے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فیصلے کے مطابق شوہر کی برتری تسلیم کرے اور اُس کی اطاعت وفرمانبرداری کرے جبکہ شوہر اپنی ذمّہ داری کا اِحساس کرتے ہوئے بیوی کے نان ، نفقہ ودیگر حُقُوق ادا کرنے میں کوئی کَسَر نہ چھوڑےتو کافی حد تک لڑائی جھگڑوں کا سدِّ باب ہوسکتا ہے ۔ گھر کا اَفْسَر اور حاکم ہونے کی حیثیت سے شوہر اِس بات کو مدِّ نظر رکھے کہ اگربیوی نافرمانی کرتی ہے تو فوراً اُسے مارنے یاطلاق کا پروانہ دے کر رخصت کرنے کے بجائے وہ اس معاملے کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم کے مطابق حل کرے۔ سب سے پہلے اُسے اچھے طریقے سے سمجھائے ، اگر نہ سمجھے تو بستر الگ کرکے ناراضی کا اظہار کرے ، پھر بھی نہ مانے تو اب شریعت نے گھر ٹوٹنے سے بچانے کےلئے معمولی طریقے سے مارنے کی اجازت دی ہے۔ یاد رہے کہ مارنے کی اجازت دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شوہربیوی پر خونخوار بھیڑئیے کی طرح حملہ آور ہوجائے اور مار مار کر اس کی ہڈی پسلی ایک کرکےظلم وستم کی ساری حدیں پار کردے ، بلکہ شریعت کی متعین کردہ حُدود کے اندر رہ کر فقط اِصلاح کی غرض سے مارا جائے یہ نہ ہو کہ مارنے کی اجازت تو یاد رہے مگر اس کی حُدود بھلادی جائیں۔ ایسا کرنا سراسرخواہشاتِ نفسانی
کی پیروی ہے۔ آئیے! شریعت کی روشنی میں اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ وہ کون سی صورتیں ہیں جِن میں بیوی کو مارنے کی اجازت ہے۔کن صورتوں میں مارنے کی اجازت ہے؟(1) عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’عورتوں کو مارنے میں حد سے تجاوز کرنا مکروہ ہےاور حضور نبی کریمرؤف رحیم ∞ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’عورتوں کو غلام کی طرح نہ مارا جائے۔ ‘‘عورت کو مارنا اُس وقت جائز ہے جب وہ شوہر کو جماع سے منع کرےیونہی خدمت نہ کرنے پر بھی مارا جائےگا کیونکہ عورت کے لئے مرد کی(خواہش پر جماع کے لئے راضی ہونا جس طرح واجب ہے اسی طرح ) خدمت کرنا بھی عرفاً واجب ہے۔ ‘‘( )
(2) فتاویٰ قاضی خان میں ہے : ’’چار وجوہات کی بنا پربیوی کو مارنے کی اجازت ہے : (۱)شوہر بناؤ سنگھار کرنے کا حکم دے پھر بھی وہ نہ کرے۔ (۲) شوہر ہمبستری کرنا چاہے اور وہ نہ کرنے دے جبکہ شرعی مجبوری بھی نہ ہو۔ (۳) نماز نہ پڑھے یاجنابت وحیض کے بعد غسل نہ کرے کیونکہ یہ نماز نہ پڑھنے جیسا ہی ہے۔ (۴) مہر کی ادائیگی کے باوجود وہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے چلی جائے۔ ‘‘( )
(3) فقیہ اَعظم ، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اگر عورت گھر کی خدمت میں تقصیر (کو تاہی )کرے ، مثلاًآٹا نہ گوندے ، روٹی نہ پکائے ، گھر کی صفائی نہ کرے وغیرہ وغیرہ۔ اِسے مارنے میں علماءکے مختلف اَقوال ہیں : قیاس چاہتا ہے کہ اِن اُمور ِخانہ کی عدم تکمیل(یعنی نہ کرنے )پر مارنا جائز ہے ، کیونکہ جب شوہر سے امتناع مباشرت(جماع نہ کرنے)کے سبب مارنا جائز ہے تو خدمت ضروریہ کی تقصیر کے سبب بھی مارنا جائز ہے۔ ‘‘( )
بیویوں کو نہ مارنا افضل ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا تمام اُمور میں جب اور کوئی تدبیر کارگر نہ ہو تو شوہر کو مارنے کی اجازت دی گئی ہے۔ مگر افسوس !آج کل معاشرے میں شاید ہی کوئی ایسا شوہر ہوگا جو اَحکامِ شرعیہ کی عدم تکمیل اور غیر شرعی اُمور پر بیوی کو ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہو بلکہ یہاں تو سالن میں نمک مرچ کم یا تیز ہوجائے ، کھانا دیر سے ملا ، کپڑے استری نہ ہوئے ، لباس اچھی طرح نہ دُھلا ، پانی لانے میں دیر ہوگئی یا ٹھنڈا نہ تھا ، جھاڑو دینے میں کچھ کوتاہی ہوگئی یا ساس ونندوں کی جھوٹی سچی شکایت پر بغیر تصدیق کئے بیوی کو مار مار کر بُرا حشر کردیا جاتا ہے۔ یاد رہے اگر بیوی سے واقعی ایسا قصورہوبھی جائے جس میں شریعت نے مارنے کی اجازت دی ہےتو وہاں بھی نہ مارنا افضل ہے جیسا کہ “ تفسیر کبیر “ میں ہے : “ امام شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے فرمایا : بیوی کو مارنا مباح ہے لیکن نہ مارنا افضل ہےلیکن اگر مارے تو اتنا نہ مارے کہ ہلاکت تک پہنچادے مثلاً بدن پر الگ الگ مقام پر مارےایک ہی جگہ نہ مارےاور چہرے پر مارنے سے بچے۔ بُنے ہوئے رومال یا ہاتھ سے مارے ، کوڑا اور ڈنڈا نہ استعمال کیاجائےالغرض ہلکے سے ہلکا طریقہ اختیار کیا جائے۔ ‘‘میں کہتا ہوں (یعنی امام فخرالدین رازی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی )فرماتے ہیں : اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ مجید میں پہلے بیویوں کو سمجھانے کا حکم دیا پھر بستروں سے علیحدگی کو بیان کیااور آخر میں مارنے کی اجازت دی تو یہ اِس بات پر صراحۃً تنبیہ ہے کہ نرمی سے غرض حاصل ہوجائے تو اُسی پر اِکتفا لازم ہے سختی اختیار کرنا جائز نہیں۔ ‘‘( )مار پیٹ نفرت کا باعث ہے:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک میں غلاموں اور لونڈیوں کو ادب سِکھانے کے لئے سخت سزا دینے کی طرف اِشارہ ہے جبکہ بیویوں کو ہلکی سزا کے ساتھ ادب سکھانے کی طرف اِشارہ ہے۔ حدیث پا ک سے یہ بھی معلوم ہو ا کہ عقلمند شخص ایسا نہیں کر سکتا کہ دن میں عورت کو مارے اور پھر اُسی دن یا رات میں عورت کے ساتھ جماع بھی کرے کیونکہ جماع کرنا اُسی وقت ہوتا
ہے جب دونوں ایک دوسرے کی طرف مائل ہوں جبکہ مار پیٹ نفرت کا باعث ہے۔ اسی وجہ سے حدیث پاک میں مار پیٹ کی مذمت فرمائی گئی۔ ‘‘( )ضرب شدید سے مارنا مکروہ تحریمی ہے:فقیہ اعظم ، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’یہ بات مناسب نہیں کہ بیوی کو مارے پیٹے اور پھر اُسی روز اُس سے جماع بھی کرے لیکن یہاں ایک اشکال ہے کہ اس حدیث شریف میں عورتوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ، حالا نکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے : ’’انہیں مارو۔ ‘‘اس کا جواب یہ ہے کہ کتاب و سنت میں مخالفت نہیں ، کیونکہ حدیث کے معنی یہ ہیں کہ عورتوں کو اتنا مارنا مکرو ہ تحریمی ہے جو انہیں زخمی کردے اور قرآن ِ کریم نے اس کی تائید کی ہے کہ انہیں ضرب شدید نہ مارو۔ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عورتوں کو مارنے اور غلاموں کے مارنے میں فرق کیا ، کیونکہ غلامی اور آزادی کا حال ایک دوسرے کے مخالف ہے۔ الحاصل عورتوں کو ضربِ شدید سے مارنا مکروہ تحریمی ہے اور تادیب یعنی ادب سکھانے کے لئے مطلق ضرب(مارنا)جائز ہے۔ ( )گھر امن کا گہوارہ کیسے بنے؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چھوٹی چھوٹی باتوں پر بحث مباحثہ کرنا ، لڑائی جھگڑے ہونا تقریباً ہر گھر کی کہانی ہے ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول جہاں سنتوں کی ترویج واشاعت میں کوشاں ہے ، وہیں معاشرتی اُمُور کی بہتری میں بھی نمایاں کردار ادا کررہا ہے ، دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوکر لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں مدنی انقلاب برپا ہوچکا ہے ، کل تک جنہوں نے اپنے گھر کو لڑائی جھگڑے کرکے میدانِ جنگ بنایا ہوا تھا ، آج وہی لوگ عفو ودرگزر ، امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی برکت سے اپنے گھر کو امن کا
گہوارہ بنا چکے ہیں۔ اگر آپ بھی اپنے گھر کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں تو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیں اور دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتب ورسائل کا خود بھی مطالعہ کریں اور اپنے گھر کے دیگر تمام افراد کو بھی ترغیب دلائیں : (1) گھر امن کا گہوارہ کیسے بنے؟ (2) ناچاقیوں کا علاج (3) غصے کا علاج (4) تنگدستی کے اَسباب اور اُن کا حل (5) گھر کا افسر (6) بیوی کو کیسا ہونا چاہیے؟ (7) غیرت مند شوہر (8) پردے کے بارے میں سوال جواب (9) میں سدھرنا چاہتا ہوں (10) عفوودرگزر کی فضیلت (11) شیطان کے بعض ہتھیار (12) گناہوں کا علاج (13) اِحترامِ مسلم (14) ساس بہو میں صلح کاراز (15) گانے باجے کی ہولناکیاں۔ اِن کتب کے مطالعے کی برکت سے اپنی اور گھر کے تمام افراد کی اصلاح اور گھریلو ناچاقیوں کے خاتمے میں بہت مدد ملے گی۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّریح کے خارج ہونے پر ہنسنے کے بارے میں تنبیہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک کے آخری حصے میں کسی کے ریح خارج ہونے پر جو لوگ ہنستے یا اس کا مذاق وغیرہ اڑاتے ہیں انہیں تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ ایسا کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ یہ تو ایسا امرہے جو خودہنسنے والوں کے ساتھ بھی بسااوقات پیش آتا ہی رہتا ہے۔ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آواز کے ساتھ ہوا کے خارج ہونے پر ہنسنے کے بارے میں نصیحت فرمائی کیونکہ یہ کام خلاف مروّت ہے کہ اس میں کسی کی عزت کا مذاق بنانا ہے ، تم ایسے کام پر کیوں ہنستے ہو ؟جو خود بھی کرتے ہو ، کیونکہ ہنسنا تو کسی عجیب بات پر ہوتا ہے جبکہ ہوا کا خارج ہونا یہ ہر انسان میں عادۃًپایا جاتا ہے تو پھر ایسے کام پر ہنسی کا کیا معنی جس کو وہ خود بھی کرتا ہے؟‘‘( )اَسلاف کا بے مثال طرز عمل:“ مرقاۃ المفاتیح “ میں ہے : “ حضرت سیدنا حاتم اَصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بہرے نہ تھے ، ایک بار آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زوجہ نے آپ سے ایک مسئلہ پوچھا ، اِس دوران اُس کی ریح خارج ہو گئی۔ اس پر آپ رَحْمَۃُ
اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے(اپنی زوجہ کو شرمندگی سے بچانے کے لئے) فرمایا : بلند آواز سے کہو ، مجھے اونچاسنائی دیتا ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زوجہ سمجھیں کہ شاید آپ بہرے ہیں ، اس پر وہ خوش ہو گئیں۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ساری زندگی اپنی زوجہ کو شرمندگی سے بچانے کے لئے بہرے ہی بنے رہے۔ ‘‘ علامہ طیبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ’’عقلمند شخص کو چاہیے کہ جب وہ اپنے مسلمان بھائی میں عیب نکالنے کا ارادہ کرے تو پہلے اپنی ذات کو دیکھ لےکہ وہ خود اس عیب سے پاک ہے یا نہیں؟اگر نہیں ، تو بہتر ہے کہ دوسرے کی ذات میں بھی عیب نہ نکالے۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’حق العبد‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول(1)عورتوں خصوصاً بیویوں پر ظلم وتشدد کرنے کی اسلام میں سختی سے ممانعت ہے۔
(2)شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی زوجہ کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرے اور بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کےحقوق کو کما حقہ ادا کرے، حقوق العباد کی تلفی ناجائز وحرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
(3)اگر بالفرض بیوی شوہر کے حقوق ادا نہ بھی کرے تو شوہر کو اس پر صبر سے کام لینا افضل ہے۔
(4)بیوی کی نافرمانی کی صورت میں اسے ضرورتاً مارنا جائز ہے لیکن نہ مارنا افضل ہے۔
(5)اگر بیوی نافرمان ہو تو شرعی طور پر شوہر اَوّلاً اس سے بات چیت بند کردے، پھر بستر الگ کردے اور جب کسی بھی صورت اس کی نافرمانی نہ ختم ہوتی ہوتو طلاق کا راستہ اختیار کرے لیکن اس کے لیے بھی شرعی راہنمائی لینی ضروری ہے تاکہ طلاق دینے میں غیر شرعی اُمور کا ارتکاب لازم نہ آئے۔
(6)زوجین یعنی میاں بیوی کا رشتہ الفت ومحبت کا ہے، مار پیٹ نفرت کا باعث ہےاسی وجہ سے حدیث پاک میں اس کی مذمت فرمائی گئی ۔
(7)ریح خارج ہونا ایک فطری عمل ہے، لہذا اس معاملے میں کسی بھی مسلمان کا مذاق اڑا کر اس کی دل آزاری کرنا شرعاً ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، جب اس طرح کا معاملہ پیش آئے تو اپنی ذات پر غور کرے کہ یہ کام تو مجھ سے بھی صادر ہوتا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ازواج کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے ، ان پر ظلم وتشدد کرنے کے بجائے اچھے طریقے سے ان کی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، نیز ان کی زیادتیوں پر صبر وشکر سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 274