- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 3
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ محبوب ربِّ داور ، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’عورتوں سے حسن سلوک کرو کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہےاور پسلی کا اوپر کا حصہ زیادہ ٹیڑھا ہوتا ہے ، پس اگر اسے سیدھا کرنا چاہوگے تو توڑ دوگےاور اگر اسی طرح چھوڑ دو تو وہ ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہے گی لہٰذا عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔ ‘‘
بخاری ومسلم کی ایک روایت میں یوں ہے : ’’عورت پسلی کی مانند ہے ، اگر اسے سیدھا کروگے تو توڑ دوگےاور اگر تم اس سے نفع اٹھانا چاہو تو اس کے ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی نفع اٹھاؤ۔ ‘‘
مسلم کی ایک روایت میں ہے : ’’عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے وہ ایک راستے پر ہر گز سیدھی نہیں رہ سکتی لہٰذا اگر تم اُس سے نفع اٹھانا چاہو تو اُس کے ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اٹھاؤگےاور اگر سیدھا کرنا چاہوگے تو توڑدوگے اور توڑنے سے مراد طلاق ہے ۔ ‘‘
َعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ وَسَلَّم : اِسْتَوْصُوْا بالنِّسَاءِ خَيْراً فَاِنَّ الْمَرْاَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ وَاِنَّ اَعْوَجَ مَا فِي الضِّلَعِ اَعْلَاهُ فَاِنْ ذَهَبْتَ تُقِيْمُهُ كَسَرْتَهُ وَإنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ اَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوْا بالنِّساءِ.( )
وَفِي رَوَايَةٍ فِي الصَّحِيْحَيْنِ:الْمَراَِةُ كالضِّلَعِ اِنْ اَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَاوَاِن اسْتَمتَعْتَ بِهَااسْتَمتَعْتَ وفِيْهَا عِوَجٌ.( )
وَفِيْ رَوَايَةٍ لِمُسْلِـمٍ : اِنَّ الْمَراَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعِ لَنْ تَسْتَقِيْمَ لَكَ عَلَى طَرِيْقَةٍ فاِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفيهَا عِوَجٌ واِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهاوَكَسْرُهَا طَلاَقُهَا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 273 ، بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
حضرت سیدنا عبداللہ بن زَمْعَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خطبہ ارشاد فرماتے ہو ئے سناکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (حضرت سیدنا صالح عَلَیْہِ السَّلَامکی) اونٹنی اور اس کو زخمی کرنے والے کا ذکرفرمایا پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’)αاِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَاﭪ(۱۲)((پ۳۰ ، الشمس : ۱۲)ترجمۂ کنزالایمان : جب کہ اس کا سب سے بدبخت اٹھ کھڑا ہوا۔ ‘‘ قوم(ثمود) کا ایک شرارتی وفسادی ، طاقتور وظالِم وجابِر سردار کھڑا ہوا۔ ‘‘اِس کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عورتوں کا ذکر فرمایا اور اُن کے بارے میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : ’’تم میں سے کوئی اپنی زوجہ کو اِس طرح مارتا ہے جس طرح غلام کو مارا جاتا ہے ، شاید پھر اُس دن اُس سے جماع بھی کرتا ہے۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں ریح خارج ہونے پر ہنسنے کے بارے میں نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’تم ایسے کام پر کیوں ہنستے ہو جو خود بھی کرتے ہو ؟‘‘
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ رَضِيَ الله عَنْهُ اَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم يَخْطُبُ وَذَكَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي عَقَرَهَا فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:) اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَاﭪ(انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَزِيْزٌ عَارِمٌ مَنِيْعٌ فِيْ رَهْطِهِ ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فَوَعَظَ فِيْهِنَّ فَقَالَ:يَعْمِدُ اَحَدُكُمْ فَيَجْلِدُامْرَاَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ فَلَعَلَّهُ
يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ في ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِوَقالَ: لِمَ يَضْحَكُ اَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ؟( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 274 ، بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رَحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’کوئی مؤمن کسی مؤمنہ سے بُغض نہ رکھے ، اگر اُسے اِس کی کوئی ایک بات نا پسند ہو تودوسری پسند ہوگی ۔ ‘‘یا یہ فرمایا : ’’کوئی بات ناپسند ہوتو اس کے علاوہ کوئی بات پسند بھی ہوگی۔ ‘‘
وَعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً اِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقاً رَضِيَ مِنْهَا اٰخَرَ اَوْ قَالَ : غَيْرَهُ . ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 275 ، بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
حضرت سیدنا عَمر و بن اَحوص جُشَمِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے حجۃ الوداع کے موقع پر سنا ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّوَجَلَّکی حمد و ثناء کے بعد وعظ و نصیحت کی پھر ارشادفرمایا : ’’سنو!عورتوں کے ساتھ حُسنِ سُلوک سے پیش آؤ ، بیشک وہ تمہارے پا س قیدی ہیں ، تم اُن کی کسی چیز کے مالک نہیں سوائے جماع کے مگر یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کریں ، اگر وہ ایسا کریں تو اُن کے بستر الگ کردو اور ہلکی مار مارو ، اگر تمہاری بات مان جائیں تو اُن کے خلاف راستہ تلاش نہ کرو۔ سنو!بیشک تمہاری عورتوں پر تمہارے کچھ حقوق ہیں ، اور اُن کے تم پر کچھ حقوق ہیں ، اُن پر تمہاراحق یہ ہے کہ وہ تمہارے ناپسندیدہ لوگوں کے لیے تمہارے بستر نہ بچھائیں اور انہیں تمہارے گھروں میں آنے کی اجازت نہ دیں اور سنو!تمہارے ذمہ اُن کا حق یہ ہے کہ تم اُن کے لئے اچھا لباس اور اچھا کھانا مہیا کرو۔ ‘‘
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْاَحْوصِ الْجُشَمِيِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فِيْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ بَعْدَ اَنْ حَمِدَ اللهَ تَعَالَى وَاَثْنَى عَلَيْهِ وَذَكَّرَ وَوَعظَ ثُمَّ قَالَ: اَلَا وَاسْتَوصُوْا باِلنِّساءِ خَيْرًا فَاِنَّمَا هُنَّ عَوَانٍ عِنْدَكُمْ لَيْسَ تَمْلِكُونَ مِنْهُنَّ شَيْئًا غَيْرَ ذٰلِكَ اِلَّا اَنْ يَاْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ فَاِنْ فَعَلْنَ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي
الْمَضَاجِع وَاضْرِبُوهُنَّ ضَربًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ فاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلا تَبْغُوا عَلَيهنَّ سَبيْلًا اَلَا اِنَّ لَكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ حَقًّاوَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا فَحَقُّكُمْ عَلَيْهِنَّ اَنْ لَّا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُوْنَ وَلَا يَاْذَنَّ في بُيُوْتِكُمْ لِمَنْ تَكْرَهُونَ اَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ اَنْ تُحْسِنُوْا اِلَيْهِنَّ في كِسْوَتِهنَّ وَطَعَامِهِنَّ.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 276 ، بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
حضرت سیدنا مُعاوِیہ بن حَیْدَۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رِسالت میں عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! بیوی کے ہم پر کیا حقوق ہیں؟‘‘نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : ’’جب تم کھاؤ تو اُنہیں بھی کھلاؤ ، پہنو تو اُنہیں بھی پہناؤ ، چہرے پر نہ مارو ، اُسے بُرا نہ کہواور اُسے گھر سے باہر مَت چھوڑو ۔ ‘‘
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِِ حَيْدَةَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قُلْتُ : يَارَسُوْلَ الله! مَا حَقُّ زَوجَةِ اَحَدِنَا عَلَيهِ؟ قَالَ : اَنْ تُطْعِمَهَا اِذَا طَعِمْتَ وَتَكْسُوهَا اِذَا اكْتَسَيْتَ وَلاَ تَضْرِبِ الْوَجْهَ وَلا تُقَبِّحْ وَلا تَهْجُرْ اِلاَّ فِي الْبَيْتِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 277 ، بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : ’’ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ کامل مؤمن وہ ہے جس کا اَخلاق سب سے اچھا ہو اور تم میں سے بہترین وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہیں۔ ‘‘
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم : اَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ اِيمَاناً اَحْسَنُهُمْ خُلُقاًوخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 278 ، بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
حضرت سیدنا اِیاس بن عبداللہ بن ذہاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی باندیوں کو نہ مارو۔ ‘‘حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں۔ ‘‘چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عورتوں کو مارنے کی اجازت دےدی تو بہت سی عورتیں اَزواجِ مُطَہّرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نَّ کے پاس اپنے خاوند کی شکایت لے کر آئیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’میرے گھر کی خواتین کے پاس بہت سی عورتیں اپنے شوہروں کی شکایت لے کر آئی ہیں ، ایسے لوگ پسندیدہ نہیں ۔ ‘‘
عَنْ اِيَاسِ بنِ عَبدِ الله بنِ اَبي ذُبَابٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُول الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:لَا تَضْرِبُوا اِمَاءَ اللهِ فَجَاءَ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اِلٰى رَسُوْلِ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَقَالَ : ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى اَزْوَاجِهِنَّ فَرَخَّصَ في ضَرْبِهِنَّ فَاَطَافَ بآلِ رَسُولِ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نِسَاءٌ كَثيرٌ يَشْكُونَ اَزْوَاجَهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم : لَقَدْ اَطَافَ بِآلِ بَيتِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كثيرٌ يَشْكُونَ اَزْوَاجَهُنَّ لَيْسَ اُولٰئِكَ بِخِيَارِكُمْ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 279 ، بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
حضرت سیدنا عبداللہ بن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا : ’’دنیا سامان ہے اور اُس کا بہترین سامان نیک عورت ہے۔ ‘‘
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِِ عَمْرِو بْنِِ الْعَاصِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ : الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَخَيرُ مَتَاعِھَا الْمَرْاَةُ الصَّالِحَةُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 280 ، بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان