Main Icon

بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 279

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اِيَاسِ بنِ عَبدِ الله بنِ اَبي ذُبَابٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُول الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:لَا تَضْرِبُوا اِمَاءَ اللهِ فَجَاءَ عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اِلٰى رَسُوْلِ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَقَالَ : ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى اَزْوَاجِهِنَّ فَرَخَّصَ في ضَرْبِهِنَّ فَاَطَافَ بآلِ رَسُولِ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نِسَاءٌ كَثيرٌ يَشْكُونَ اَزْوَاجَهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم : لَقَدْ اَطَافَ بِآلِ بَيتِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كثيرٌ يَشْكُونَ اَزْوَاجَهُنَّ لَيْسَ اُولٰئِكَ بِخِيَارِكُمْ. ( )

عن اياس بن عبد الله بن ابي ذباب رضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:لا تضربوا اماء الله فجاء عمر رضی اللہ عنہ الى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فقال : ذئرن النساء على ازواجهن فرخص في ضربهن فاطاف بآل رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نساء كثير يشكون ازواجهن فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : لقد اطاف بآل بيت محمد نساء كثير يشكون ازواجهن ليس اولئك بخياركم. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا اِیاس بن عبداللہ بن ذہاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی باندیوں کو نہ مارو۔ ‘‘حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں۔ ‘‘چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عورتوں کو مارنے کی اجازت دےدی تو بہت سی عورتیں اَزواجِ مُطَہّرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نَّ کے پاس اپنے خاوند کی شکایت لے کر آئیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’میرے گھر کی خواتین کے پاس بہت سی عورتیں اپنے شوہروں کی شکایت لے کر آئی ہیں ، ایسے لوگ پسندیدہ نہیں ۔ ‘‘

شرح حدیث

بیوی کو مارنا تنگ دلی کا باعث ہے:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مذکورہ حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’اللہ

عَزَّوَجَلَّ کی باندیوں کو نہ مارو۔ ‘‘یہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی باندیوں سے مُراد عورتیں ہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو مارنے کی مطلقاً ممانعت ہے اِسی وجہ سےامیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں ، جب سے انہوں نے مار کی ممانعت سنی۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عورتوں کو مارنے کی اجازت دےدی۔ یہ رخصت حکم کو تنگی سے آسانی کی طرف پھیرنے کے لئے ہےاور نہ مارنے کا حکم نرمی کے لئے تھا جو کہ اپنی جگہ قائم ہے۔ ’’ایسے لوگ پسندیدہ نہیں ہوتے۔ ‘‘یعنی تم میں سے وہ لوگ پسندیدہ نہیں جو اپنی بیویوں کو مارتے ہیں کیونکہ یہ چیز تنگ دِلی کا باعث ہے جو کہ حُسنِ اَخلاق کےخلاف ہے ۔ ‘‘( )
بلا قصور مارنا حرام ہے:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی باندیوں کو نہ مارو۔ ‘‘یعنی جیسے مَرد اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے ہیں ، ایسے ہی عورتیں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندیاں ہیں۔ جیسے مولیٰ اپنے غلام کو مارنے والے پر ناراض ہوتا ہے ایسے ہی اللہ عَزَّوَجَلَّ ظلمًا مارنے والے پر ناراض ہوگا ، نہ کسی مَرد کو مارو ، نہ عورت کو۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا عورتوں کےبارے میں یہ کہنا کہ عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہوگئی ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ جب عورتوں کو پتہ لگ گیا کہ ہمارے خاوند ہم کو قطعًا نہیں مارسکتے ، تو وہ کچھ دلیر سی ہوگئیں۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عورتوں کو مارنے کی اجازت دےدی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اولاً قصور پر مارنے کی بھی اجازت نہ تھی اب قصور پر مارنے کی اجازت دی گئی۔ معلوم ہوا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مالِکِ اَحکام ہیں۔ بہت سی عورتیں اَزواجِ مُطَہَّرَات کے پاس اپنے خاوند کی شکایت لے کر آئیں۔ یہاں حدیث ِمذکور میں لفظآل سے مراد بیویاں ہیں ، قرآن شریف میں آل بیویوں کو ہی کہا گیا ہے ۔ بیویاں اہل بیت

سکونت ہوتی ہیں اور بچے اہل بیت ولادت۔ یعنی عورتیں براہِ راست بارگاہِ نبوی میں حاضری کی تو ہمت نہ کرسکیں اس لیے اَزواجِ مطہرات کی خدمت میں حاضر ہو کر بالواسطہ اپنے شوہروں کی شکایت کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ قصور مند بیوی کو اِصلاح کے لیے مارنا جائز ہے مگر نہ مارنا اور وعظ و نصیحت سے اِصلاح کرنا بہتر ہے۔ بلا قصور مارنا حرام جس پر پکڑ ہوگی ، یونہی بہت مارنا بے دردی سے یہ حرام ہے ، بیوی کی سختی برداشت کرنا ، یونہی خاوند کی سختی جھیلنا اور نباہ کرنا بڑے اَجر کا باعث ہے۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’نبی‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)نافرمان بیوی کو اِصلاح کے لیے مارنا جائز ہے مگر نہ مارنا اور وعظ و نصیحت سے اِصلاح کرنا بہتر ہے جبکہ بلا وجہ شرعی اور بلا قصور مارنا ناجائز وحرام ہے اور کل بروزِ قیامت اِس پر پکڑ ہوگی ۔
(2)جو لوگ اپنی بیویوں کو مارتے ہیں،حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن سے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔
(3)شوہر کو چاہیے کہ بیوی کے معاملے میں اِعتدال سے کام لے نہ تو اتنا مارے کہ وہ شکایت لے کر دوسروں کے پاس جائے اور نہ ہی اتنی ڈھیل دے کہ وہ غیر شرعی اُمُور پر دلیر ہو جائے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اَحسن طریقے سے اِصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، بلا وجہ شرعی کسی کو بھی تکلیف دینے سے بچائے ، خصوصاً اپنی اَزواج کو ناجائز تکلیف دینے سے محفوظ فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 279