Main Icon

بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 277

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِِ حَيْدَةَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قُلْتُ : يَارَسُوْلَ الله! مَا حَقُّ زَوجَةِ اَحَدِنَا عَلَيهِ؟ قَالَ : اَنْ تُطْعِمَهَا اِذَا طَعِمْتَ وَتَكْسُوهَا اِذَا اكْتَسَيْتَ وَلاَ تَضْرِبِ الْوَجْهَ وَلا تُقَبِّحْ وَلا تَهْجُرْ اِلاَّ فِي الْبَيْتِ. ( )

وعن معاوية بن حيدةرضی اللہ عنہ قال : قلت : يارسول الله! ما حق زوجة احدنا عليه؟ قال : ان تطعمها اذا طعمت وتكسوها اذا اكتسيت ولا تضرب الوجه ولا تقبح ولا تهجر الا في البيت. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا مُعاوِیہ بن حَیْدَۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رِسالت میں عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! بیوی کے ہم پر کیا حقوق ہیں؟‘‘نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : ’’جب تم کھاؤ تو اُنہیں بھی کھلاؤ ، پہنو تو اُنہیں بھی پہناؤ ، چہرے پر نہ مارو ، اُسے بُرا نہ کہواور اُسے گھر سے باہر مَت چھوڑو ۔ ‘‘

شرح حدیث

بیوی کو کھلانے، پہنانے کے مَعنی:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مذکورہ حدیثِ پا ک کے تحت فرماتے ہیں : ’’اِس کا معنیٰ یہ ہے کہ جب مَرد خود بقدرِ کفایت کھاتا ہو تو عورت کو بھی بقدرِ کفایت کھلانا فرض ہے اور اگر مَرد اچھا

کھانے ، اچھا پہننے والا ہو تو ضرورت سے زیادہ جو کھلائے یا پہنائےگا تو وہ عورت پر اِحسان اور نفل ہوگا۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی اپنی بیوی کو اپنی حیثیت کے لائق کھلاؤ پہناؤ اور جب خودکھاؤ پہنو تب ہی اُسے کھلاؤ پہناؤ۔ اگر اپنے لیے دو جوڑے بناؤ تو اُس کے لیے بھی بناؤ۔ پہناؤ میں لباس جوتا وغیرہ سب داخل ہیں۔ زیور اپنی مرضی پر ہے اُس کا پہنانا بھی سنت ہےحضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اپنی زَوجہ مطہرہ عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو ہار عطا فرمایا تھا اور اپنی لختِ جگر فاطمہ زہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو کنگن نقرئی اور ہاتھی دانت کا ہار عطا فرمایا۔‘‘( )
چہرے پر مارنے کی ممانعت:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی چہرے پر مارنے کی ممانعت کے بارے میں فرماتے ہیں : “ چہرہ تمام اَعضاء میں سے عظمت والا ہے اور یہ تمام اَعضاء کا مَظہر اور یہ نازُک اَعضاء پر مشتمل ہے ، چہرے کے علاوہ باقی اَعضاء پر اُس صورت میں مارنے کی اجازت ہےجبکہ بیوی کوئی بے حیائی کا کام کرےیا کوئی فریضہ چھوڑے۔ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چہرے پر مارنے سے مطلقاً منع فرمایا ہے ۔ ‘‘( )
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث پا ک کے تحت فرماتے ہیں : ’’چہرے پر مارنے کی ممانعت اس وجہ سے ہے کیونکہ چہرہ نازک عضو ہے اور اس میں نشان کا ہونا بُرا ہے۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ یعنی قُصُور کرنے پر اُسے مارسکتے ہو مگر چہرے پر نہ مارو کیونکہ چہرہ میں نازُک اَعضاء ہیں اور اِنسان کا چہرہ رب کو بڑا ہی محبوب ہے خَلَقَ
ﷲ∞ُ آدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہٖ۔ ( ) (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیدنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنی پسندیدہ صورت پر پیدا فرمایا)۔
بیوی کو بُرا نہ کہو:اِس کے دو معنی ہوسکتے ہیں : ایک یہ کہ اُسے گالیاں نہ دو کہ اِس سے تمہاری زبان گندی ہوگی ، عورت کی عادت بگڑے گی کیونکہ گالیاں سننے والا گالیاں بکنے بھی لگتا ہے دوسرے یہ کہ اُسے بُرے کاموں کا عیب نہ لگاؤ ، بے عیب کو عیب لگانے سے وہ عیب دار ہو جاتا ہےبلکہ بُرائی دیکھ کر اکثر چشم پوشی کرلیا کرو۔ ( )بیوی کو گھر سےباہر مت چھوڑو:یعنی تم اُس کی اِصلاح کے لیے اُس سے کلام و سلام بند کرو تو گھر سے باہر نہ نکال دو کہ اِس سے وہ اور بھی آزاد ہوجائے گی ، بلکہ گھر ہی میں رکھو ، کھانا پینا جاری رکھو ، صرف بول چال چھوڑ دو ، یہ بائیکاٹ اِنْ شَآءَ اللہعَزَّوَجَلَّ اُس کے لیے پوری اِصلاح کا ذریعہ ہوگا۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے : )وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِع( (پ۵ ، النساء : ۳۴)ترجمۂ کنزالایمان : ’’اور اُن سے الگ سوؤ۔ ( )مدنی گلدستہ
امام ’’حسن‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)اگر زوجہ نافرمانی کرے یا فرائض کو ترک کرے یا اُسے ادب سکھانا مقصود ہو تو چہرے کے علاوہ جسم کے دوسرے حصوں پر مارنے کی ضرورتاً اجازت ہے۔
(2)عورت کی بدمزاجی و بد سلوکی پر نہ تو اسے گالی دی جائے اور نہ ہی اسے جلے کٹے الفاظ سے مخاطَب کیا جائے کہ اس طرح اس کی مزید عادت بگڑنے کا اندیشہ ہے کہ بے عیب کو عیب لگانے سے وہ عیب دار ہو جاتا ہے ، لہذا اَحسن طریقے سے اُس کی اِصلاح کی کوشش کی جائے۔
(3)عورت کی اِصلاح کے لئے اُس سے کلام کرنا بند کردیا جائےلیکن اسے گھر سے باہر ہرگز نہ نکالا جائے۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں غلطیوں کی اَحسن انداز میں اِصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 277