Main Icon

بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 276

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرِو بْنِ الْاَحْوصِ الْجُشَمِيِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فِيْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ بَعْدَ اَنْ حَمِدَ اللهَ تَعَالَى وَاَثْنَى عَلَيْهِ وَذَكَّرَ وَوَعظَ ثُمَّ قَالَ: اَلَا وَاسْتَوصُوْا باِلنِّساءِ خَيْرًا فَاِنَّمَا هُنَّ عَوَانٍ عِنْدَكُمْ لَيْسَ تَمْلِكُونَ مِنْهُنَّ شَيْئًا غَيْرَ ذٰلِكَ اِلَّا اَنْ يَاْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ فَاِنْ فَعَلْنَ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي

الْمَضَاجِع وَاضْرِبُوهُنَّ ضَربًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ فاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلا تَبْغُوا عَلَيهنَّ سَبيْلًا اَلَا اِنَّ لَكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ حَقًّاوَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا فَحَقُّكُمْ عَلَيْهِنَّ اَنْ لَّا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُوْنَ وَلَا يَاْذَنَّ في بُيُوْتِكُمْ لِمَنْ تَكْرَهُونَ اَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ اَنْ تُحْسِنُوْا اِلَيْهِنَّ في كِسْوَتِهنَّ وَطَعَامِهِنَّ.( )

عن عمرو بن الاحوص الجشمي رضی اللہ تعالی عنہ انه سمع النبي صلی اللہ علیہ وسلم في حجة الوداع يقول بعد ان حمد الله تعالى واثنى عليه وذكر ووعظ ثم قال: الا واستوصوا بالنساء خيرا فانما هن عوان عندكم ليس تملكون منهن شيئا غير ذلك الا ان ياتين بفاحشة مبينة فان فعلن فاهجروهن في

المضاجع واضربوهن ضربا غير مبرح فان اطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا الا ان لكم على نسائكم حقاولنسائكم عليكم حقا فحقكم عليهن ان لا يوطئن فرشكم من تكرهون ولا ياذن في بيوتكم لمن تكرهون الا وحقهن عليكم ان تحسنوا اليهن في كسوتهن وطعامهن.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا عَمر و بن اَحوص جُشَمِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے حجۃ الوداع کے موقع پر سنا ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّوَجَلَّکی حمد و ثناء کے بعد وعظ و نصیحت کی پھر ارشادفرمایا : ’’سنو!عورتوں کے ساتھ حُسنِ سُلوک سے پیش آؤ ، بیشک وہ تمہارے پا س قیدی ہیں ، تم اُن کی کسی چیز کے مالک نہیں سوائے جماع کے مگر یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کریں ، اگر وہ ایسا کریں تو اُن کے بستر الگ کردو اور ہلکی مار مارو ، اگر تمہاری بات مان جائیں تو اُن کے خلاف راستہ تلاش نہ کرو۔ سنو!بیشک تمہاری عورتوں پر تمہارے کچھ حقوق ہیں ، اور اُن کے تم پر کچھ حقوق ہیں ، اُن پر تمہاراحق یہ ہے کہ وہ تمہارے ناپسندیدہ لوگوں کے لیے تمہارے بستر نہ بچھائیں اور انہیں تمہارے گھروں میں آنے کی اجازت نہ دیں اور سنو!تمہارے ذمہ اُن کا حق یہ ہے کہ تم اُن کے لئے اچھا لباس اور اچھا کھانا مہیا کرو۔ ‘‘

شرح حدیث

حدیث پاک کی آیت مبارکہ سے موافقت:مذکورہ حدیث پاک میں عورتوں کے ساتھ حُسنِ سُلوک کی وصیت فرمائی گئی ہے ، نیز اِس میں اِس بات کا بھی بیان ہے کہ اگر عورت نافرمانی کرے تو اُس کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے ، دراصل اِس حدیثِ مبارکہ کی قرآنِ پاک کی ایک آیتِ مبارکہ کے ساتھ مُوافقت ہے جس میں ارشاد ہوتا ہے :اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ-فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ-وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّترجمۂ کنزالایمان : مردافسر ہیں عورتوں پراس لئے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کئے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس
وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّۚ-فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا(۳۴)
(پ۵ ، النساء : ۳۴)
طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور اُنہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو اُن پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بے شک اللہ بلند بڑا ہے۔
میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق:(1) حدیث پاک میں حجۃ الوداع کا ذکر ہے ، اسے حجۃ الوداع اس لئے کہتے ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےاِس خطبہ میں الوداع فرمایا اور اس کے بعد حج ادا نہ کیا۔
(2) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد و ثناء کے بعد وعظ و نصیحت کی ، یعنی تکبیر و تہلیل کہی ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈرایا اور اُس کے انعامات یاددلائے۔
(3) پھر ارشاد فرمایا : ’’سنو!عورتوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ، بیشک وہ تمہارے پا س قیدی ہیں ، تم ان کی کسی چیز کے مالک نہیں سوائے جماع کے ، مگر یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کریں۔ ‘‘ یہاں بے حیائی سے مراد نا فرمانی اور بد مزاجی ہے ، معنیٰ یہ ہیں کہ وہ ایسے اُمور میں نافرمانی کرے جن میں شوہر کی اطاعت اس پر فرض ہے۔
(4) اگر وہ ایسا کریں تو ان کے بستر الگ کردو ۔ یعنی اگر ان سے نافرمانی ظاہر ہو تو ان کو سمجھاؤ ، اگر نا سمجھیں تو ان سے اپنے بستر الگ کرلو یعنی الگ سوؤ۔
(5) ’’اور ہلکی مار مارو۔ ‘‘ایسی مار کہ جس سے نہ زخم پڑے اور نہ ہی ہڈی ٹوٹے۔ چہرے اور نازک مقام پر بھی نہ مارا جائے۔ بستر سے الگ کرنا اور مارنا یہ اس کی نافرمانی کی سزا ہے۔ بعض علماء نےیہ بیان فرمایا : رومال کولپیٹ کر اس سے مارا جائے ، یا ہاتھ سے مارا جائے ، کوڑے یا لاٹھی سے نہ مارے ، اس صورت میں بیوی کو مارنے کی اجازت شریعت نے صرف شوہر کو دی ہے اور وہ بھی اپنا حق لینے کے لئے۔ اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں کہ جس میں شوہر اپنا حق لینے کے لئے بیوی کو مارسکتا ہواور آقا اپنے غلام کو جبکہ وہ آقا کا حق ادا نہ کرے اور مارنے کا جواز اس وقت ہے جبکہ غالب گمان ہو کہ مار نے سے اس کی اصلاح ہو جائے

گی ، اگر اصلاح ہونے کا امکان نہ ہوتو پھر نہ مارے۔
(6) اگر تمہاری بات مان جائیں تو ان کے خلاف راستہ تلاش نہ کرو۔ ڈانٹ کر یا ایذا دے کر ، یعنی پھر ان سےرو گردانی کر نا چھوڑ دو اور ان کے ساتھ اسی طرح ہو جاؤ جیسے پہلے تھےکیونکہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔
(7) ’’بیشک تمہاری عورتوں پر تمہارے کچھ حقوق ہیں اور ان کے تم پر کچھ حقوق ہیں ، ان پر تمہاراحق یہ ہے کہ وہ تمہارے ناپسندیدہ لوگوں کو تمہارے بستر پر نہ آنے دیں۔ ‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ غیر مردوں سے خلوت نہ کریں ، قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : عربوں کی عادت تھی کہ مرد عورتوں سے باتیں کیا کرتے تھے ، ان کے ہاں اس بات کو معیوب نہ سمجھا جاتا تھا ، جب پردے کے بارے میں آیت نازل ہوئی تو اس سے منع کر دیا گیا۔ علامہ نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : اس کا معنیٰ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس کو شوہر نا پسند کرتا ہو عورت نہ تو اسے گھر میں داخل ہونے دے اور نہ ہی اسے گھر میں بیٹھنے دے چاہے وہ اجنبی مرد ہو یا عورت یا وہ عورت کے محارم میں سے کوئی شخص ہوکہ حدیث میں ممانعت ان تمام افراد کو شامل ہے۔
(8) ’’اور انہیں تمہارے گھروں میں آنے کی اجازت نہ دیں۔ ‘‘یعنی جن لوگوں کا گھر میں آنا شوہر کو ناپسند ہے ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ فقہا ء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں کہ : عورت کو حلال نہیں کہ وہ کسی مرد و عورت خواہ وہ محرم ہو یا غیر محرم شوہر کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے ، صرف وہ لوگ آ سکتے ہیں جن کے متعلق اس عورت کو علم ہو کہ اُن کا آنا شوہر کو نا پسند نہیں کیونکہ اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں داخل ہوناحرام ہے ، سوائے ان لوگوں کے جن کو آنے کی اجازت ہو یا عرف سے جن کے متعلق رضا مندی معلوم ہو اور جب شک ہو اور کوئی قرینہ ترجیح کا نہ ہو تو اس صورت میں داخلہ جائز نہیں اور نہ ہی عورت کی طرف سے ان کو داخلے کی اجازت دینا جائز ہے۔
(9) ’’تمہارے ذمہ ان کا حق یہ ہے کہ تم اُن کے لئے اچھا لباس اور اچھا کھانا مہیا کرو۔ ‘‘یعنی اپنے حالات کے مطابق ان کوکھانا اور لباس دے۔ حدیث پاک میں بیوی کی نافرمانی نہ کرنے کی صورت میں اس

کے نفقے اور کپڑے کا وجوب بیان کیا گیا ہے اور یہ بالاجماع واجب ہے۔ ( )
عورت پر سب سے زیادہ حق شوہر کا ہے:اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنت ، مجدِّدِدِین وملت ، پروانۂ شمع رسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضان خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’زَن وشوہر میں ہر ایک کے دوسرے پر حقوقِ کثیرہ(بہت سے حقوق) واجب ہیں ، اُن میں جو بجا نہ لائے گا اپنے گناہ میں گرفتار ہوگا ، اگر ایک ادائے حق نہ کرے تو دوسرا اُسے دستاویز بنا کراُس کے حق کو ساقط نہیں کر سکتا ، مگر وہ حقوق کہ دوسرے کے کسی حق پر مبنی ہوں ، اگر یہ اُس کا ایسا حق ترک کرے وہ دوسرا اُس کے یہ حقوق کہ اِس پر مبنی تھے ترک کرسکتا ہے۔ جیسے عورت کانان و نفقہ کہ شوہر کے یہاں پابند رہنے کا بدلہ ہے ، اگر ناحق اُس کے یہاں سے چلی جائے گی جب تک واپس نہ آئے گی کچھ نہ پائے گی۔ غرض واجب ہونے ، مطالبہ ہونے ، بے و جہ شرعی ادا نہ کرنے سے گنہگار ہونے میں تو حقوقِ زَن وشوہر برابر ہیں ، ہاں! شوہر کے حقوق عورت پر بکثرت ہیں اور اُس پر وجوب بھی اَشد وآکد(اور شوہر کے حقوق کی ادائیگی عورت پر بہت زیادہ لازم اور ضروری ہے) ہم اِس پر حدیث لکھ چکے کہ عورت پر سب سے بڑا حق شوہرکاہے۔ یعنی ماں باپ سے بھی زیادہ ، اورمَرد پر سب سے بڑا حق ماں کا ہے یعنی زو جہ کا حق اس سے (ماں سے) بلکہ باپ سے بھی کم۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
اسم جلالت ’’
اللہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)عورت مَرد کے نکاح میں آنے کے بعد اُس کی اطاعت وفرمانبرداری کرنے کی پابندہے اور اُس عورت کے ساتھ حُسنِ سُلوک کا حکم دیا گیا ہے۔

(2)بیوی کو مارنے کے اجازت شریعت نے صِرف شوہر کو دی ہے اور وہ بھی اپنا حق لینے کے لئے، لہٰذا بلا وجہِ شرعی بیوی پر تشدد یا ظُلم وسِتم کرنا سَراسَر ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
(3)بیوی کو مارنے کا جواز اُس وقت ہے جبکہ غالِب گمان ہو کہ مار سے اُس کی اِصلاح ہو جائے گی ،اگر اِصلاح ہونے کا اِمکان نہ ہوتو پھر ہرگز نہ مارے۔
(4)شوہر کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کو شوہر نا پسند کرتاہو بیوی اُن کو اپنے گھر میں داخل نہ ہونے دے چاہے وہ لوگ بیوی کے مَحرم ہوں یا غیرِ مَحرم۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے ساتھ پیار و مَحبت سے رہنےاور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 276