Main Icon

بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 275

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً اِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقاً رَضِيَ مِنْهَا اٰخَرَ اَوْ قَالَ : غَيْرَهُ . ( )

وعن ابي هريرةرضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:لا يفرك مؤمن مؤمنة ان كره منها خلقا رضي منها اخر او قال : غيره . ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رَحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’کوئی مؤمن کسی مؤمنہ سے بُغض نہ رکھے ، اگر اُسے اِس کی کوئی ایک بات نا پسند ہو تودوسری پسند ہوگی ۔ ‘‘یا یہ فرمایا : ’’کوئی بات ناپسند ہوتو اس کے علاوہ کوئی بات پسند بھی ہوگی۔ ‘‘

شرح حدیث

عورتوں کی بُرائیوں سے درگزر کرو:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : “ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی سے بُغض وعناد نہ رکھے ، اگر اس کی کوئی خصلت نا پسند ہے تو اس میں پسندیدہ عادات بھی پائی جاتی ہیں۔ حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ شوہر کی شان کا تقاضا یہ ہےکہ وہ زوجہ کے ساتھ اس طرح کا بغض نہ رکھے جو کہ ان دونوں کو جُدائی پر اُبھارے ، بلکہ ضروری ہے کہ اُس کے اِحسانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی بُرائیوں

سے در گزر کرےاور عورت کی جن باتوں کو ناپسند کرتا ہے ، اُن کو پسندیدہ باتوں سے بدل دے۔ ‘‘( )
بے عیب بیوی ملنا ناممکن ہے:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’سُبْحَانَﷲ∞!کیسی نفیس تعلیم ہے ، مقصد یہ ہے کہ بے عیب بیوی ملنا ناممکن ہے ، لہذا اگر بیوی میں دو ایک بُرائیاں بھی ہوں تو اسے برداشت کرو کہ کچھ خوبیاں بھی پاؤ گے۔ یہاں مِرقات نے فرمایا کہ جو شخص بے عیب ساتھی کی تلاش میں رہے گا وہ دنیا میں اکیلا ہی رہ جائے گا ، ہم خود ہزار ہا بُرائیوں کا سرچشمہ ہیں ، ہر دوست عزیز کی بُرائیوں سے درگزر کرو ، اچھائیوں پر نظر رکھو ، ہاں اصلاح کی کوشش کرو ، بے عیب تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں۔ ‘‘( )شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی مذکورہ حدیث پا ک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ کسی بھی آدمی کے تمام اَخلاق و اَعمال بُرے نہیں ہوتے ، اگر اُن میں کچھ بُرے ہوں تو کچھ دوسرے اچھے ہوں گے ، مَرد اپنی بیوی کے وہی اچھے اَخلاق و اَعمال پیشِ نظر رکھے ، راضی رہے اور صبر کرے ، اِس حدیث پاک میں حُسنِ معاشرت ، صُحبت برقرار رکھنے اور عورتوں کی اذیتوں پر صبر کی تلقین میں ترغیب دلانا اور مبالغہ کرنا مقصود ہے۔ ‘‘ ( )بیوی کی خطا معاف کرنے کا اَجر :دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 472 صَفحات پر مشتمل کتاب’’بیاناتِ عطّاریہ‘‘حصّہ دُوُم کے صَفْحَہ164پر ہے : ایک آدَمی کی بیوی نے کھانے میں نمک زیادہ ڈال دیا۔ اسے غُصّہ تو بہت آیا ، مگر یہ سوچتے ہوئے وہ غُصّے کو پی گیا کہ میں بھی تو خطائیں کرتا رہتا ہوں ، اگر آج میں نے بیوی کی خطا پرسختی سے گرفت کی تو کہیں ایسا نہ ہوکہ کل بروزِقِیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی میری خطاؤں پر گرفت فرمالے۔ چنانچِہ اُس نے دل ہی دل میں اپنی زَوجہ کی خطا مُعاف کردی۔ اِنتِقال کے بعد اُس کوکسی نے خواب

میں دیکھ کر پوچھا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہارے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا ؟‘‘ اُس نے جواب دیا : ’’ گناہوں کی کثرت کے سبب عذاب ہونے ہی والاتھا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا : میری بندی نے سالن میں نمک زیادہ ڈال دیا تھا اور تم نے اُس کی خطا مُعاف کردی تھی ، جاؤ میں بھی اُس کے صلے میں آج تمہیں مُعاف کرتا ہوں۔ ‘‘
مدنی گلدستہ
’’مکہ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)کوئی بھی مؤمن کسی بھی مؤمنہ سے بغض نہ رکھے کہ حدیث پاک میں اِس سے منع فرمایا گیا ہے۔
(2)کوئی مسلمان مَرد اپنی مسلمان عورت سے اس طرح کا بغض نہ رکھے کہ جس کا نتیجہ ان دونوں کی جدائی ہو ، بلکہ ایک دوسرے کی اچھائیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے خطاؤں سے در گزر کر نا چاہیے۔
(3)ہرشخص میں اچھائیاں اور بُرائیاں دونوں ہوتی ہیں، اگر کوئی شخص بے عیب بیوی کی تلاش میں ہے تو اس کی یہ خواہش کبھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتی، اس لیے بُرائیوں کی اِصلاح کرتے ہوئے اچھائیوں پر نظر رکھنی چاہیے اور عفوودرگزر سے کام لینا چاہیے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی اَزواج کی غلطیوں سے درگزر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اُن کی برائیوں کی اِصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 275