Main Icon

بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 278

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم : اَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ اِيمَاناً اَحْسَنُهُمْ خُلُقاًوخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ. ( )

عن ابي هريرةرضی اللہ عنہ ، قال : قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : اكمل المؤمنين ايمانا احسنهم خلقاوخياركم خياركم لنسائهم. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : ’’ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ کامل مؤمن وہ ہے جس کا اَخلاق سب سے اچھا ہو اور تم میں سے بہترین وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہیں۔ ‘‘

شرح حدیث

حُسنِ اَخلاق کیا ہے ؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اَخلاق ایک ایسا ملکہ ہے جو اچھے اعمال پر اُبھارتا اور عاداتِ شریفہ کا ذریعہ بنتا ہے۔ علامہ حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نے فرمایا : اَخلاق کی حقیقت نیکی اختیار کرنا ، تکلیف دہ شے کو دُور کرنا اور خوش مزاجی سے پیش آنا ہے۔ ‘‘ ابو ولید باجی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’پاس بیٹھنے والے یا آنے والے کے لئے پانچ باتیں ظاہر کرنا اَخلاق ہے : (1) خوشی (2) حوصلہ(3) شفقت(4)تعلیم پر صبر(5)چھوٹے بڑے سے محبت۔ ‘‘( )حسن اَخلاق کے فضائل:حُسنِ اخلاق سے متعلق تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیش خدمت ہیں : (1)حسن

اخلاق نیکی ہے اور جو تیرے دل میں کھٹکے اور جس بات پر لوگوں کا مطلع ہونا تجھے ناپسند ہو وہ گناہ ہے ۔ ‘‘( ) (2)’’ کامل ترین مؤمن وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہترہوں اور جو اپنے گھر والوں پر سب سے زیاد ہ نرمی کرنے والا ہو۔ ‘‘( ) (3) ’’کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سے بہترین شخص کون ہے ؟‘‘عر ض کی گئی : ’’ کیوں نہیں یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !‘‘ فرمایا : ’’تم میں سے عمر رسیدہ اور زیادہ حسن اَخلاق والا۔ ‘‘( )
بیوی کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا:’’اور تم میں سے بہترین وہ ہیں جو عورتوں کے حق میں اچھے ہیں۔ ‘‘علامہ ابن اثیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں : ’’حدیثِ پاک میں صلہ رحمی کرنے اور اس پر اُبھارنے کی طرف اشارہ ہے۔ بعض نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ اپنی بیوی سے خوش اخلاقی سے پیش آئے اور اس کو ایذا نہ دے اور اس پر احسان کرے اور اس کی طرف سے ملنے والی تکالیف پر صبر کرے۔ چنانچہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اہل کے لئے سب سے زیادہ اچھے اور ان کے اختلاف ِ احوال پر سب سے زیادہ صبر کرنے والے تھے ۔ ‘‘( )
شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی اشعۃ المعات میں مذکورہ حدیث پا ک کے تحت فرماتے ہیں : ’’عورتوں کےحق میں جو اچھے ہیں انہیں بہترین اس لیے فرمایا گیا کیونکہ عورتوں کی طرف سے اذیت اور تکلیف زیادہ پہنچتی ہے اس کے باوجود خوش اخلاقی اور نرم رویہ اپنانا ایمان اور صبر کمال ہے۔ ‘‘( )
سنت اِلٰہیہ اورسنت رسول:مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مذکورہ حدیث پاک

کے تحت فرماتے ہیں : ’’حسن اخلاق وہ عادت ہے جس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی راضی رہیں اور مخلوق بھی ، یہ ہے بہت مشکل مگر جسے یہ نصیب ہو جائے اس کے دونوں جہان سنبھل جاتے ہیں۔ ’’اور تم میں سے بہترین وہ ہیں جو عورتوں کے حق میں اچھے ہیں۔ ‘‘کیونکہ بیوی صرف خاوند کی خاطر اپنے سارے میکے والوں کو چھوڑ دیتی ہے اگر خاوند بھی اس پر ظلم کرے تو وہ کس کی ہو کررہے؟کمزور پر مہربانی سنتِ اِلٰہیّہ بھی ہے سنتِ رسول بھی۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’بریلی‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)ہرکسی کے ساتھ حُسنِ اَخلاق سے پیش آنا چاہیے کیونکہ حُسنِ اَخلاق کو کامل مؤمن ہونے کی ایک نشانی بیان فرمایا گیاہے۔
(2)اچھائی اختیار کرنا، تکلیف دہ شے کو دُور کرنا اور دوسروں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا بھی حُسنِ اَخلاق میں شامل ہے۔
(3)حُسنِ اَخلاق ایک ایسا ملکہ ہےجو اِنسان کو اچھے اَعمال پر اُبھارتا اور عاداتِ شریفہ کا سبب بنتا ہے۔
(4)اپنی زوجہ کےساتھ بھی حُسنِ اَخلاق کے ساتھ پیش آنا چاہیے، اُسے تکلیف نہ دینا، اُس پر اِحسان کرنا، اور اُس کی طرف سے ملنے والی تکالیف پر صبر کرنا بھی اُس کے ساتھ حُسنِ اَخلاق ہے۔
(5)عموماً زوجہ کی طرف سے اذیت اور تکلیف زیادہ پہنچتی ہے اِس کے باوجود خوش اَخلاق اور نرم رویہ اپنانا کمال ِایمان اور صبر کمال ہے، اِسی وجہ سے عورت کے حق میں اچھا ہونے والے شخص کو بہترین شخص قرار دیا گیا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سےدعا ہے کہ وہ ہمیں حُسن اَخلاق جیسی عظیم دولت سے مالا مال فرمائے ، ہمیں ہر ایک

کے ساتھ خصوصاً اپنی زوجہ کے ساتھ حُسن اَخلاق کے ساتھ پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 278