Main Icon

بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 280

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِِ عَمْرِو بْنِِ الْعَاصِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ : الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَخَيرُ مَتَاعِھَا الْمَرْاَةُ الصَّالِحَةُ. ( )

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال : الدنيا متاع وخير متاعھا المراة الصالحة. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا عبداللہ بن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا : ’’دنیا سامان ہے اور اُس کا بہترین سامان نیک عورت ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

عورت بہترین سامان کیسے ہے؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث کےتحت فرماتے ہیں : ’’حدیث پاک میں ہے عورت شوہر کے لیے بہترین سامان اُس وقت ہے جب شوہر بیوی کو دیکھے تو وہ اُسے خوش کردے ، جب حکم دےتو اِطاعت کرےاورشوہر گھر میں نہ ہو تو بیوی اس کے مال اور اپنے نفس کی حفاظت کرے۔ ‘‘ ( )
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی دنیا تھوڑا سامان ہے جس کا نفع عنقریب ختم ہونے والا ہے۔ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اگر دنیا کی قدر و قیمت اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی توکافر کو اُس کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔ ‘‘دنیا کا بہترین سامان نیک عورت ہے۔ یعنی دنیا کا وہ تمام سامان کہ جس سے نفع اٹھایا جائے ، اُن میں سب سے بہتر نیک عورت ہے کیونکہ نیک عورت اُمور ِآخرت پر مددگارہوتی ہے ۔ ‘‘( )
نیک بیوی مَرد کو نیک بنا دیتی ہے :مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مذکورہ حدیث پا ک کے تحت فرماتے ہیں : ’’دنیا سامان ہے۔ ‘‘ کہ اِنسان اُسے بَرت کر چھوڑ جاتا ہے۔ صوفیا ئے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ

السَّلَامفرماتے ہیں کہ ’’اگر دُنیا دِین سے مل جائے تو لازوال(ختم نہ ہونے والی ) دولت ہے ، قطرے کو ہزار خطرے ہیں ، دریا سے مل جائے تو رَوانی طغیانی سب کچھ اُس میں آجاتی ہے اور خطرات سے باہر ہوجاتا ہے۔ ‘‘ دنیا کا بہترین سامان نیک عورت ہےکیونکہ نیک بیوی مَرد کو نیک بنادیتی ہے وہ اُخروی نعمتوں سے ہے۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ’’رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃ‘‘کی تفسیر میں فرمایا کہ ’’خدایا! ہم کو دنیا میں نیک بیوی دے ، آخرت میں اعلیٰ حور عطا فرما اور آگ یعنی خراب بیوی کے عذاب سے بچا۔ ‘‘جیسے اچھی بیوی خدا کی رحمت ہے ایسی ہی بری بیوی خدا کا عذاب۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’غوث‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)حدیث پاک میں نیک بیوی اِختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے کیونکہ نیک بیوی دنیا میں مَرد کے لئے سعادت کا باعث اور اِطاعتِ خداوندی میں معاون ہوتی ہے ۔
(2)نیک بیوی کی خصلت یہ ہے کہ جب شوہر اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کردے،جب حکم دےتو اطاعت کرے اور شوہر کی غیر موجودگی میں اس کے مال اور اپنے نفس کی حفاظت کرے ۔
(3)جس طرح نیک بیوی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت ہے اسی طرح بد اَخلاق و بد مزاج بیوی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب ہے کہ اُس کی بد مزاجی و بد اَخلاقی کی وجہ سے شوہر اذیت میں رہتا ہے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی بیویوں کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں تمام غیر شرعی اَعمال سے بچائے ، ہماری ، ہمارے والدین اور ساری اُمَّت کی مغفرت فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 280