Main Icon

باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 802

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ مَعَاذِ بْنِ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَرَكَ اللِّبَاسَ تَوَاضُعًا لِلهِ، وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ، دَعَاهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُؤُوْسِ الْخَلَا ئِقِ حَتّٰی يُخَيِّرَهُ مِنْ اَيِّ حُلَلِ اْلاِيْمَانِ شَاءَ يَلْبَسُهَا.

عن معاذ بن انس رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من ترك اللباس تواضعا لله، وهو يقدر عليه، دعاه الله يوم القيامة على رؤوس الخلا ئق حتی يخيره من اي حلل الايمان شاء يلبسها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا معاذ بن انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جس نےرضائے الٰہی کےلئے تواضع اختیارکرتے ہوئے عمدہ لباس ترک کیا حالانکہ وہ اس پر قادرتھا تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّبروزِقیامت اسے تمام مخلوق کے سامنے بلا کر اختیار دےگا کہ ایمان کا جو جوڑا چاہے پہن لے۔“

شرح حدیث

پُرانا اور پیوند والا لباس افضل ہے:عَلَّامَہ عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:”جس نے قدرت ہوتے ہوئے بھی زیادہ قیمت والا خوبصورت کپڑا فقطاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی خاطر تواضع کی وجہ سے ترک کردیا نہ کہ اس لئے کہ لوگ اسے متواضع یا زاہد کہیں گے تواللّٰہتعالیٰ قیامت کے دن اسے تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا تاکہ لوگوں کے درمیان اسے شہرت عطا فرمائے اور اسے اختیار دےگا کہ ایمان کا جو جوڑا چاہے پہن لے یہی وجہ ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اون کا لباس پہنا اور بکریاں باندھی، اسی سے علامہ سہروردیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے یہ بات اخذ کی ہے کہ پُرانا اور پیوند لگاہوا کپڑا پہننا افضل ہے۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”مذکورہ فضیلت صرف اس کے لیے ہے جس نےباوجودِ قدرت عمدہ لباس بطورِ تواضع چھوڑاہو اور دنیا کی زیب و زینت ترک کردی ہو، اورجو اس لئے عمدہ لباس نہ پہنے کہ اس کےپاس ہے ہی نہیں تواسے یہ فضیلت حاصل نہ ہوگی ۔ ہاں !اگر کوئی شخص یہ ارادہ کرے کہ اگر اسے اچھا لباس پہننے پر قدرت حاصل ہوئی تب بھی وہ تواضع کرتے ہوئے عمدہ لباس نہیں پہنے گا تو اسےاچھی نیت پر ثواب دیا جائے گا کیونکہ حدیث پاک میں ہے:”نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِیعنی مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔“سادہ لباس کے بارے میں بزرگانِ دِین کے پانچ اَقوال:(1)حضرت سیِّدُناعبداللّٰہبن شُبْرُمہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ”میرا بہترین لباس وہ ہے جو میری خدمت کرے اور میرا بدترین لباس وہ ہے جس کی میں خدمت کروں۔“(2)ایک بزرگرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ”ایسا لباس پہنو کہ تم بازار میں موجود عام لوگوں کی طرح نظر آؤ،ایسا لباس مت پہنو جو تمہیں مشہور کردے اورلوگوں کی نظریں تمہاری طرف اٹھیں۔“(3)امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکُھردرا لبا س زیب تن فرمایا کرتے تھے کسی نے اس بارے میں عرض کی، تو فرمایا:”ایسا لباس تواضُع کے زیادہ قریب ہے اور اس لائق ہے کہ مسلمان اس کی پیروی کریں۔“ (4) امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَرفارُوقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:” کُھردرااورموٹالباس پہنو اور عجمیوں یعنی قیصروکسریٰ کے لباس سے بچو۔“(5)حضرت سیِّدُناسلمان فارسیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں عرض کی گئی: ”آپ عمدہ لباس کیوں نہیں پہنتے؟ فرمایا: ”بھلا غلام کو عمدہ لباس پہننے کی کیا ضرورت ہے ،البتہ جب یہ دوزخ کی آگ سے آزادی پالےگا تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! پھر اسے ایسا لباس حاصل ہوگا جو کبھی بوسیدہ نہ ہوگا۔“مدنی گلدستہ’’تواضع‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جو شخص قدرت کے باوجود
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی خاطر تواضع کرتے ہوئے عمدہ لباس ترک کردے تو قیامت کے دناللّٰہ عَزَّوَجَلَّاسے مخلوقات کے سامنے اختیار دے گا کہ ایمان کا جو جوڑا چاہے پہن لے۔
(2) جو شخص اس لیے سادہ لباس پہنے کے لوگ اسے زاہد و متواضع کہیں تو ایسے شخص کو مذکورہ حدیث پاک میں بیان کردہ فضیلت حاصل نہیں ہوگی۔
(3) عمدہ لباس کے مقابلے میں تواضع کرتے ہوئے پُرانا اور پیوند لگا ہوالباس پہننا افضل ہے۔
(4) جویہ عزم کرے کہ اگر مجھے عمدہ لباس پہننے پر قدرت حاصل ہوئی تو میں تواضع کرتے ہوئے عمدہ لباس نہیں پہنوں گا تو اسے اچھی نیت پر ثواب دیا جائے گا۔
(5) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناور بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہ الْمُبِیْن سادہ اور کُھردرا لباس پہننا پسند فرماتے تھے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کی خاطر تواضع کرتے ہوئے سادہ لباس پہننے کی توفیق عطا فرمائےاوردِین ودنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 802