Main Icon

باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 597

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبیْ وَقَاص رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: اِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِیَّ .

عن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ان الله يحب العبد التقي الغني الخفی .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُروایت کرتے ہیں کہ میں نے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا:”اللّٰہتعالیٰ اپنے اس بندے سے محبت فرماتا ہے جو متقی، مستغنی اور خفی(گوشہ نشین)ہو۔“

شرح حدیث

متقی،غنی اور خفی سے مراد:ان کی وضاحت کرتے ہوئےعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیفرماتے ہیں:”مُتَّقِیوہ شخص ہے جواللّٰہتعالیٰ کے منع کئے ہوئے کاموں سے بچے یا اپنے مال کو لہو ولعب میں خرچ نہ کرے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ متقی وہ شخص ہے جو حرام اور شبہات سے بچے نیزنفسانی خواہشات اور مباح چیزوں سے بھی پرہیز کرے۔غَنِیسے مراد دِل کا غنی ہونا ہے یا مراد شکرگزار غنی ہے ۔خَفِییعنی وہ شخص جو اپنے رب کی عبادت کے لئے لوگوں سےالگ تھلگ ہو اور اپنے نفس کے امور میں مشغول ہو ۔گوشہ نشینی اختیار کرنے کے اَحکام:عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارےمکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 312 صفحات پرمشتمل کتاب ’’نجات دِلانے والے اَعمال کی معلومات‘‘ ص144پر ہے:(1)مطلقاً خلوت رِضائے الٰہی پانے، خود کو نیکیوں میں لگانے،گناہوں سے بچانے اور جنت میں لے جانے والا کام ہے۔ہرمسلمان کو چاہیے کہ رضائے الٰہی کے حُصُول اور عبادات میں پختگی حاصل کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ وقت خلوت اختیار کرے،البتہ مختلف اَفراد کے مختلف اَحوال کی وجہ سے اس کے اَحکام بھی مختلف ہیں، بعض کے لیے خلوت افضل اور بعض کے لیے جلوت (یعنی لوگوں میں رہنا)افضل۔ (2)ایسا عالم دین جس سے لوگ علم دِین حاصل کرتے ہوں اور اگر یہ خلوت اختیار کر لے تو لوگ شرعی مسائل سے محروم ہوکر گمراہی میں جا پڑیں گے تو ایسے عالم کے لیےکُلِّیَۃًخلوت اِختیار کرنا ناجائز وممنوع ہے البتہ ایسا صاحبِ علم شخص جس کے پاس اپنی ضرورت کا علم موجود ہے اور اس کے خلوت اختیار کرنے سے لوگوں کا بھی کوئی نقصان نہیں تو ایسے شخص کے لیے خلوت اختیار کرنا جائز ہے۔(3)ایسا شخص جو ضروریاتِ دِین (فرائض وواجبات وسنن مؤکدہ)سے ناواقف ہو، اگر علم حاصل نہ کرے گا تو نفس وشیطان کے بہکاوے میں آکر گمراہی کے گڑھے میں گرجا ئے گا ایسے شخص کے لیے خلوت اختیار کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے بلکہ اس پر لازم ہے کہ فرض علوم کوحاصل کرے۔(4) اگر کسی شخص کو اچھی صحبت میسرنہیں ہے اور وہ خلوت اختیار نہیں کرے گا توگناہوں میں مبتلا ہو جائے گا تو ایسے شخص پر لازم ہے کہحقوق اللّٰہوحقوق العباد (اللّٰہتعالیٰ اور بندوں کے حقوق)کی ادائیگی کرتے ہوئے بقدرِ ضرورت خلوت اختیار کرے اور خود کو گناہوں سے بچا کر عبادت میں مصروف ہو جائے۔مرآۃ المناجیح میں ہے: صوفیائے کرام(رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَام)فرماتے ہیں کہ ’’اب اس زمانہ میں جلوت (لوگوں میں رہنے)سے خلوت افضل ہے،بری صحبت سے تنہائی افضل۔‘‘(5)اگر خلوت اختیار کرنے میں کسی بھی طرح حقوقاللّٰہیا حقوق العباد کی تلفی ہوتی ہو تو ایسی خلوت اختیار کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے۔ مثلاً کوئی شخص گھر کے ایک کونے میں بیٹھ کر اس طرح ذکرواَذکار وعبادت وغیرہ میں مصروف ہوجائے کہ جماعت بھی ترک کردے، جمعہ وعیدین میں بھی سستی ہوجائے،کسب حلال ترک کر دے اور اسے یا اس کے گھروالوں کو اس خلوت کی وجہ سے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے تو ایسی خلوت ناجائز وحرام ہے۔
مُفَسِّرِشَہِیْرمُحَدِّثِ کَبِیْرحکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ’’مسلمان دو قسم کے ہیں: ایک وہ جنہیں خلوت بہتر ہے، بعض وہ جن کے لیے جلوت افضل، ان دونوں میں جلوت والے افضل ہیں کیونکہ خلوت والے صرف اپنی اِصلاح کرتے ہیں اور جلوت والے دوسروں کوبھی درست کرتے ہیں۔ حضرت علی (کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم) فرماتے ہیں کہ’’ تم دنیا میں اپنے دوست زیادہ بناؤ کہ کل قیامت میں مومن دوست شفاعت کریں گے اور کفار اپنے لیے شفیع اور دوست نہ ملنے پر افسوس کریں گے۔‘‘مگر خیال رہے کہ بعض لوگوں کے لیےبعض حالات میں بعض مقامات پر خلوت افضل ہوتی ہے،اگر جلوت میں خود اپنے آپ گناہوں میں مشغول ہوجانے کا اندیشہ ہو تو خلوت بہتر۔ حضرت وہب (رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ) فرماتے ہیں کہ حکمت دس حصے ہیں: نو خاموشی میں، ایک خلوت میں۔ بہتر یہ ہے کہ کبھی خلوت اختیارکرے کبھی جلوت:خَیْرُ الْاُمُوْرِ اَوْسَطُھَا(سب سے بہتر کام میانہ روی والا ہوتا ہے)عربی میں تنہائی کو عُزْلَۃکہتے ہیں، عارفین فرماتے ہیں کہ عُزْلَۃ میں اگر علم کا ’’عین‘‘ نہ ہو تو ذلت ہے اور اگر زہد کی‏∞’’ز‘‘ نہ ہو تو نری علت ہے یعنی خلوت وہ اختیار کرے جس کے پاس علم بھی ہو زُہد بھی۔‘‘اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مولانا شاہ اِمام اَحمد رضاخانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنسے جب خلوت نشینی کے متعلق سوال ہوا تو آ پرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا:’’آدمی تین قسم کے ہیں:(1) مُفِیْد(2)مُسْتَفِیْد(3)مُنْفَرِد۔مفید وہ کہ دوسروں کو فائدہ پہنچائے، مستفیدوہ کہ خود دوسرے سے فائدہ حاصل کرے، منفرد وہ کہ دوسرے سے فائدہ لینے کی اسے حاجت نہ ہو اور نہ دوسرے کو فائدہ پہنچاسکتا ہو۔ مفید اور‏∞مستفید کو عزلت گز ینی(یعنی خلوت وگوشہ نشینی)حرام ہے اور منفرد کو جائز بلکہ واجب۔‘‘گوشہ نشینی کے آداب:گوشہ نشینی اختیار کرنے والے کے لیے کچھ آداب بھی ہیں۔ چنانچہ اِمام ابو حامد محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:”گوشہ نشینی اختیار کرنے والا دین کی سمجھ بوجھ رکھتا ہو، نمازروزے اور حج زکوٰۃ کے احکام جانتا ہو، لوگوں سے کنارہ کشی اِختیارکرنے میں اُن سے اپنا شر دور کرنے کا نظریہ رکھے، نمازِ باجماعت کی پابندی کرے اور نمازِجمعہ میں حاضر ہو، نمازِجنازہ میں شرکت اور مریضوں کی عیادت کرتا رہے، لوگوں کی گفتگو میں دلچسپی نہ لے اوران کے اُن معاملات کے متعلق سوال نہ کرے جواس کے دل میں فسادو بگاڑکاسبب بنیں، اس کا نفس لوگوں سے عطیات وبخشش وغیرہ کے حصول کی لالچ نہ کرے یہاں تک کہ اپنے پڑوسیوں کا بھی کسی معاملے میں محتاج نہ ہو۔ اپنے اوقات کواس طرح تقسیم کرے کہ یا تو نمازپڑھے اور سیکھنے سکھانے کا سلسلہ جاری رکھے تاکہ فائدہ پائے یااپنے پاس موجود کتب میں غورو فکر کرکے عِلم حاصل کرے یاآرام کرے تاکہ آفات (یعنی گناہوں) وغیرہ سے محفوظ رہے۔ ذِکرِ الٰہی کی عادت ڈالے، کثرت سے شکر ِ الٰہی بجالاتا رہے یہاں تک کہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے اور اگراس کے بیوی بچے ہوں توان کے ساتھ گفتگو کرے اورتنہائی میں کوشش کرتارہے یہاں تک کہ گوشہ نشینی کے درجہ کو پہچان لے۔مدنی گلدستہ’’طیبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
اللّٰہتعالیٰ متقی ،غنی اور گوشہ نشینی اختیار کرنے والے بندے کو پسند فرماتا ہے ۔
(2) ایسا عالِم دِین جس سے لوگ علم دِین حاصل کرتے ہوں اور اگر یہ خلوت اختیار کر لے تو لوگ شرعی مسائل سے محروم ہوکر گمراہی میں جا پڑیں گے تو ایسے عالِم کے لیے بالکل گوشہ نشین ہوجانا ناجائز وممنوع ہے۔
(3) بُرے لوگوں کی صحبت سے خلوت افضل اور خلوت سے اچھے لوگوں کی صحبت افضل ہے۔
(4) خلوت اختیار کرنے میں کسی بھی طرح
حقوقُ اللّٰہیا بندوں کے حقوق تلف ہوتے ہوں تو ایسی خلوت اختیار کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں گناہوں سے کنارہ کشی کی توفیق عطا فرمائے اور بُرے لوگوں کی صحبت سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 597