Main Icon

باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 598

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبیْ سَعِيْد الْخُدْرِىَّ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ: اَىُّ النَّاسِ اَفْضَلُ يَا رَسُوْلَ اللَّهِ؟ قَالَ مُؤْمِنٌ مُجَاهِدٌ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِىْ سَبِيْلِ اللَّهِ، قَالَ:ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:ثُمَّ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِىْ شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ رَبَّهُ. وَفِيْ رِوَايَةٍ :يَتَّقِى اللَّهَ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ.

عن ابی سعيد الخدرى رضى الله عنه قال : قال رجل: اى الناس افضل يا رسول الله؟ قال مؤمن مجاهد بنفسه وماله فى سبيل الله، قال:ثم من؟ قال:ثم رجل معتزل فى شعب من الشعاب يعبد ربه. وفي رواية :يتقى الله ويدع الناس من شره.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو سعید خدریرَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَنْهُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نےرسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟تو رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”وہ مومن مرد جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرے۔“اُس شخص نے عرض کی: پھرکون؟آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”وہ شخص جو پہاڑکی گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں تنہا بیٹھ کر اپنے رب کی عبادت کر رہا ہو۔“ایک روایت میں ہے کہ ”وہ جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرے اور اپنے شر سے لوگوں کو محفوط رکھے۔“

شرح حدیث

فتنوں سے دُور رہنے میں سلف کا طریقہ:اِس حدیث پاک کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فتنوں کے ایام میں گوشہ نشینی اختیار کرنا افضل ہے اور سلف صالحین سے یہ بات ثابت بھی ہے کہ وہ فتنوں کے خطرے سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنے شہروں اپنے علاقوں سے کوچ کر گئے۔اِس حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فتنوں کے زمانہ میں شہروں اور آباد علاقوں سے نکل کر جنگل اور ویرانوں میں چلے جانا چاہئےلیکن یہ اُس شخص کے لئے جائز ہے کہ جسے فتنہ زائل کرنے پر قدرت نہ ہو اور جسے فتنہ دور کرنے پر قدرت ہو تو وہ فتنہ کو زائل کرنے کی کوشش کرے تو اگر یہ شخص پورے شہر میں اکیلا ہے تب تو اُس پر فرضِ عین ہے اور اگر اُس جیسے اوربھی لوگ موجود ہیں تو پھر اُس پر فرضِ عین نہیں ۔افضلیت کی اَحادیث میں مطابقت:اِس حدیث پاک میں جب نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَسے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ساتھاللّٰہکی راہ میں جہاد کرے۔ جبکہ ایک اور روایت میں فرمایا: تم میں بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔توان دونوں احادیث میں مطابقت یہ ہے کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اَحوال ،اَوقات اوراَقوام کے اعتبار سےبعض کو بعض پر فضیلت دی۔(یعنی جہاں یہ فرمایا کہ جواللّٰہکی راہ میں جہاد کرتا ہے وہ سب سے افضل ہے تو یہ شخص اپنے اعتبار سے افضل ہے اور جہاں یہ فرمایا کہ جو قرآن سیکھے اورسکھائے وہ سب سے افضل ہے تو وہ اپنے اعتبار سے افضل ہے۔)عمدۃ القاری میں ہے:”حدیث مذکور میں جو فرمایا گیا کہ لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی جان اور مال کے ساتھاللّٰہکی راہ میں جہاد کرے تو یہاں پر لوگوں سے مراد عام لوگ ہیں،صِدِّیْقِیْنْاورعُلَمَاءاِس سے خارج ہیں کہ وہ اُن سے افضل نہیں ہو سکتا کیو نکہ اُن کی افضلیت پر کثیر اَحادیث موجود ہیں ۔“مدنی گلدستہ’’عِلم‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) بزرگانِ دِین
رَحِمَہُمُ اللّٰہ الْمُبِیْنفتنوں کے خطرے سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنے شہروں اورعلاقوں سے کوچ کر جاتے تھے۔
(2) جو شہر یا علاقہ میں ہونے والے فتنے کو دور کرنے پر قادر ہو تو وہ فتنے کو زائل کرے اور جو فتنے کو دور کرنے پر قادر نہ ہو تو وہ اس علاقہ سے کوچ کر جائے ۔
(3) جو اپنے مال اور جان سے جہاد کرے تو وہ صِدِّیْقِیْنْ اور عُلَمَاء کے علاوہ عام لوگوں سے افضل ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہرطرح کے فتنوں سے ہماری حفاظت فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 598