Main Icon

باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 600

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَرَضِىَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّااِلَّا رَعَى الْغَنَمَ فَقَالَ:اَصْحَابُهُ وَاَنْتَ؟ فَقَالَ:نَعَمْ كُنْتُ اَرْعَاهَا عَلٰى قَرَارِيْطَ لِاَهْلِ مَكَّةَ.

عن ابی هريرةرضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال:ما بعث الله نبياالا رعى الغنم فقال:اصحابه وانت؟ فقال:نعم كنت ارعاها على قراريط لاهل مكة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنےجتنے نبیوں کو مبعوث فرمایا سب نے بکریاں چَرائی ہیں۔“ آپ کے اصحاب نے عرض کی: کیا آپ نے بھی؟ فرمایا :”ہاں! میں چند قیراط کے عوض اہلِ مکہ کی بکریاں چَراتا تھا ۔“

شرح حدیث

حدیث پاک کا مطلب:فقیہِ اَعظم حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق اَمجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیمذکورہ حدیث کے تحت فرماتے ہیں:”حدیث کا مطلب یہ ہواکہ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ کُفر و مَعاصِی کا اِتنا غلبہ ہوجائے گا کہ دینداروں کو آبادی میں رہنا سخت دشوار ہوگا مجبور ہوکر اس زمانہ میں دیندار گوشہ نشینی اختیار کرلیں گے۔ یہ گوشہ نشینی کہیں بھی ہو پہاڑ کی چوٹیوں کا ذِکر بطورِ تمثیل ہے یوں ہی غنم کا بھی۔مراد یہ ہے کہ دیندار دِین بچانے کے لئے کہیں بھی گوشہ نشین ہوجائیں گے۔“علامہ سیدمحمود احمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”فتنہ و فساد عام ہوجائے اور دِین پر قائم رہنا مشکل ہوجائے تو ایسے نازک وقت میں گوشہ نشین ہوجانا بہتر ہے تاکہ اِنسان اپنے دِین کو سلامت رکھ سکے ۔ اِس حدیث میں حضورِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غیب کی خبر دی ہے جو آپ کا معجزہ ہے یعنی ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ مؤمن کو دِین کی حفاظت کے لئے پہاڑوں کی چوٹی پر پناہ گزین ہونا پڑے گا ۔“دونوں اَحادیث میں مطابقت:پہلی حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ کفر و معاصی کا اتنا غلبہ ہوجائے گا کہ دینداروں کو آبادی میں رہنا سخت دشوار ہوگا، وہ مجبور ہوکر اپنا دِین بچانے کیلئے بکریاں لے کر پہاڑکی چوٹی پر چلے جائیں گے اور گوشہ نشین ہوجائیں گے، یعنی بکریاں چَراکر بھی گوشہ نشینی اختیار کی جائے گی اور دوسری حدیث میں انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بکریاں چَرانے کا ذکرہے جس سے بکریاں چَراکر گوشہ نشینی اختیار کرنے کی اشارۃً ترغیب دلائی گئی ہے۔اسی وجہ سے امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے ان دونوں احادیث کو اس باب میں ایک ساتھ بیان فرمایا۔مدنی گلدستہ’’صبر‘‘کے3حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکور ہ اور اُن کی وضاحت سے مِلنے والے3مدنی پھول
(1) فتنےکے وقت لوگوں سے علیحدگی اختیار کرنے میں ایمان کی سلامتی ہے اور فتنے کا زمانہ نہ ہو تو اُس وقت گناہوں سے بچتے ہوئے سب کے ساتھ مل کر رہنا افضل ہے ۔
(2) حضورنبی کریم رَءُوْفٌ
رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے مستقبل میں ہونے والے واقعات کی غیبی خبریں دیا کرتے تھے۔
(3) ایک زمانہ ایسابھی آئے گا کہ کُفر و مَعاصِی کےغلبے کے سبب نیک لوگوں کے لئے آبادی میں رہنا دشوار ہوجائے گا اور وہ گوشہ نشینی کے ذریعے اپنا دِین بچائیں گے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اِیمان کی سلامتی عطا فرمائے، فتنوں سے محفوظ فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 600