Main Icon

باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 601

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ:مِنْ خَيْرِ مَعَاشِ النَّاسِ لَهُمْ رَجُلٌ مُمْسِكٌ عِنَانَ فَرَسِهِ فِيْ سَبِيْلِ اللَّهِ يَـطِيْرُ عَلٰى مَتْنِهِ كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً اَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ يَبْتَغِي الْقَتْلَ اَوِالْمَوْتَ مَظَانَّهُ اَوْ رَجُلٌ فِيْ غُنَيْمَةٍ فِيْ رَاْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هٰذِهِ الشَّعَفِ اَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ هٰذِهِ الْاَوْدِيَةِ يُقِيْمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتّٰى يَاتِيَهُ الْيَقِيْنُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ اِلَّا فِيْ خَيْرٍ.

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال:من خير معاش الناس لهم رجل ممسك عنان فرسه في سبيل الله يـطير على متنه كلما سمع هيعة او فزعة طار عليه يبتغي القتل اوالموت مظانه او رجل في غنيمة في راس شعفة من هذه الشعف او بطن واد من هذه الاودية يقيم الصلاة ويؤتي الزكاة ويعبد ربه حتى ياتيه اليقين ليس من الناس الا في خير.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے ہی مَروی ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”لوگو ں کے لئے سب سے اچھی زندگی اس شخص کی ہے جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگا م تھام کر اُس کی پشت پر سوار ہوکرتیز رفتار ی میں جارہا ہےتو جب کبھی وہ دشمن کی آواز سنتا ہے تو اسے مارنے یاخو د مرجانے کے لئے گھوڑے کو دوڑاکردشمن کے قریب پہنچ جاتا ہے یا اس شخص کی اچھی زندگی ہے جو چند بکریاں لے کرپہاڑ کی اِن چوٹیوں میں سے کسی ایک چوٹی کے سِرے پر یا ان وادیوں میں سے کسی وادی میں نکل جائے اور وہاں نَماز قائم کرے،زکوٰۃ اداکرے اور موت کے آنے تک اپنے ربعَزَّوَجَلَّکی عبادت کرتا ر ہے اورحال یہ ہو کہ بھلائی کے سوا لوگوں کے کسی بھی معاملے میں نہ پڑے۔“

شرح حدیث

کامیاب زندگی گزارنے والےدوشخص:مذکورہ حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے مُفَسِّر شہِیر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”ویسے تو(ایسا شخص) لوگوں سے بے نیاز رہتا ہے مگر جب مسلمانوں کو اس کی جانی مدد کی ضرورت ہوتی ہے یا مسلمانوں پر کفار ٹوٹ پڑیں یا ڈاکو حملہ کریں اسے خبر لگے کہ فلاں جگہ مسلمان کمزور ہیں مصیبت میں ہیں تو فوراً وہاں پہنچ جائے پرندہ کی طرح یا اڑ کر وہاں پہنچ جائے،پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں کہ جب کفار مسلمانوں پر حملہ آور ہوں تو یہ وہاں پہنچ جائے اسلام کی خدمت،مسلمانوں کی مدد کے لیے۔ وہ اسلام کا ایسا فدائی ہو مسلمانوں کا ایسا مددگار ہو کہ خدمتِ اِسلام ومسلمین میں قتل ہوجانا یا مرجانا جینے سے بہتر سمجھے، خطرناک موقعوں کی تلاش میں رہتا ہو جہاں لوگ جاتے ہوئے گھبراتے ہوں یہ وہاں شوق سے پہنچتا ہو بہادرجانباز ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ اول نمبر کامیاب زندگی والا تووہ پہلا شخص ہے اس کے بعد نمبر دوم کا اعلیٰ زندگی والا وہ ہے۔خیال رہے کہ عرب میں بکریاں بہترین ذریعہ معاش تھیں اور بعض متقی حضرات دنیا کے جھگڑے سے بچنے کے لیے شہر سے دور جنگل میں ڈیرہ ڈال لیتے تھے۔ کسی پانی والے سر سبز مقام پر رہنے سہنے لگتے تھے، بکریوں کے دودھ پرگزاراکرتے،فتنوں سے الگ رہتے،اب بھی بعض جگہ ایسے بدو دیکھے جاتے ہیں اس لیے بکریوں کا ذِکر فرمایا ورنہ جو شخص فتنوں سے بچنے کے لیے آبادی سے دور رہے، گزارہ کے لیے کوئی چیز پنشن جانور زمین وغیرہ اختیار کرے وہ بھی اِس فرمانِ عالی میں داخل ہے۔اگرچہ عبادات میں نمازوزکوٰۃ بھی داخل تھیں مگر چونکہ نماز و زکوٰۃ اعلیٰ درجہ کی عبادت ہیں اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر علیحدہ فرمایا۔ اس حدیث کی بنا پر بعض زاہدین نے فرمایا کہ گوشہ نشینی افضل ہے،جلوت سے خلوت بہتر مگر حق یہ ہے کہ خلوت سے جلوت افضل،حضرات انبیاء کرام لوگوں میں رہے،تبلیغ کرتے رہے،نیز جس رہنے سے جمعہ عیدین نمازِ باجماعت نصیب ہوتی ہے،جنگل میں یہ نعمتیں کہاں،شہر میں عِلم ہے،ذِکر کے حلقے ہیں، اچھوں کی صحبتیں ہیں۔حدیث فتنوں کے ظہور کے زمانہ کے متعلق ہے جب شہروں میں امن نہ رہے یا اُس کمزور آدمی کے لیے ہے جو بستی اور اختلاط کی تکالیف پر صبر نہ کرسکے۔“حاصل حدیث:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اِس حدیث کا حاصل دِین کے دشمنوں کے خلاف جہاد،نفس وشیطان کے مقابلہ کے لیے مجاہدہ، خواہشوں اور لذتوں میں ڈوب جانے سے اِعراض کی ترغیب اور اِس بات پر تنبیہ ہے کہ اگر لوگوں سے میل جول رکھے تو دِین کی تائید اور شریعت کی تقویت کے لیےرکھے ورنہ علیحدگی اختیار کرے اور گوشہ نشین ہوجائے ۔اِس حدیث میں میل جول کی نسبت گوشہ نشینی کا افضل ہونا معلوم ہوتا ہے لیکن دونوں صورتوں میں اصل دارومدار فوائد اورنقصانات پر ہے۔“مدنی گلدستہ’’جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے مذکورہ حدیث اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) ایسا مومن بہتر زندگی والا ہے جو لوگوں سے بے نیاز ہو لیکن جب مسلمانوں کو اس کی ضرورت پڑے تو فوراً ان کی مدد کے لیے کمربستہ ہوجائے ۔
(2) بعض متقی حضرات دنیا کے جھگڑے سے بچنے کے لیے شہر سے دور جنگل میں ڈیرہ ڈال لیتے تھے ،کسی پانی والے سر سبز مقام پر رہنے سہنے لگتےاور بکریوں کے دودھ پرگزاراکرتےیوں وہ فتنوں سے الگ رہتے۔
(3) لوگوں سے میل جول دِین کی تائید اور شریعت کی تقویت کے لیے ہو ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اچھی زندگی گزارنے والا بنائے اور بُروں کی صحبت سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 601