باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 601
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ:مِنْ خَيْرِ مَعَاشِ النَّاسِ لَهُمْ رَجُلٌ مُمْسِكٌ عِنَانَ فَرَسِهِ فِيْ سَبِيْلِ اللَّهِ يَـطِيْرُ عَلٰى مَتْنِهِ كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً اَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ يَبْتَغِي الْقَتْلَ اَوِالْمَوْتَ مَظَانَّهُ اَوْ رَجُلٌ فِيْ غُنَيْمَةٍ فِيْ رَاْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هٰذِهِ الشَّعَفِ اَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ هٰذِهِ الْاَوْدِيَةِ يُقِيْمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتّٰى يَاتِيَهُ الْيَقِيْنُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ اِلَّا فِيْ خَيْرٍ.
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال:من خير معاش الناس لهم رجل ممسك عنان فرسه في سبيل الله يـطير على متنه كلما سمع هيعة او فزعة طار عليه يبتغي القتل اوالموت مظانه او رجل في غنيمة في راس شعفة من هذه الشعف او بطن واد من هذه الاودية يقيم الصلاة ويؤتي الزكاة ويعبد ربه حتى ياتيه اليقين ليس من الناس الا في خير.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے ہی مَروی ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”لوگو ں کے لئے سب سے اچھی زندگی اس شخص کی ہے جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگا م تھام کر اُس کی پشت پر سوار ہوکرتیز رفتار ی میں جارہا ہےتو جب کبھی وہ دشمن کی آواز سنتا ہے تو اسے مارنے یاخو د مرجانے کے لئے گھوڑے کو دوڑاکردشمن کے قریب پہنچ جاتا ہے یا اس شخص کی اچھی زندگی ہے جو چند بکریاں لے کرپہاڑ کی اِن چوٹیوں میں سے کسی ایک چوٹی کے سِرے پر یا ان وادیوں میں سے کسی وادی میں نکل جائے اور وہاں نَماز قائم کرے،زکوٰۃ اداکرے اور موت کے آنے تک اپنے ربعَزَّوَجَلَّکی عبادت کرتا ر ہے اورحال یہ ہو کہ بھلائی کے سوا لوگوں کے کسی بھی معاملے میں نہ پڑے۔“
شرح حدیث
کامیاب زندگی گزارنے والےدوشخص:مذکورہ حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے مُفَسِّر شہِیر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”ویسے تو(ایسا شخص) لوگوں سے بے نیاز رہتا ہے مگر جب مسلمانوں کو اس کی جانی مدد کی ضرورت ہوتی ہے یا مسلمانوں پر کفار ٹوٹ پڑیں یا ڈاکو حملہ کریں اسے خبر لگے کہ فلاں جگہ مسلمان کمزور ہیں مصیبت میں ہیں تو فوراً وہاں پہنچ جائے پرندہ کی طرح یا اڑ کر وہاں پہنچ جائے،پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں کہ جب کفار مسلمانوں پر حملہ آور ہوں تو یہ وہاں پہنچ جائے اسلام کی خدمت،مسلمانوں کی مدد کے لیے۔ وہ اسلام کا ایسا فدائی ہو مسلمانوں کا ایسا مددگار ہو کہ خدمتِ اِسلام ومسلمین میں قتل ہوجانا یا مرجانا جینے سے بہتر سمجھے، خطرناک موقعوں کی تلاش میں رہتا ہو جہاں لوگ جاتے ہوئے گھبراتے ہوں یہ وہاں شوق سے پہنچتا ہو بہادرجانباز ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ اول نمبر کامیاب زندگی والا تووہ پہلا شخص ہے اس کے بعد نمبر دوم کا اعلیٰ زندگی والا وہ ہے۔خیال رہے کہ عرب میں بکریاں بہترین ذریعہ معاش تھیں اور بعض متقی حضرات دنیا کے جھگڑے سے بچنے کے لیے شہر سے دور جنگل میں ڈیرہ ڈال لیتے تھے۔ کسی پانی والے سر سبز مقام پر رہنے سہنے لگتے تھے، بکریوں کے دودھ پرگزاراکرتے،فتنوں سے الگ رہتے،اب بھی بعض جگہ ایسے بدو دیکھے جاتے ہیں اس لیے بکریوں کا ذِکر فرمایا ورنہ جو شخص فتنوں سے بچنے کے لیے آبادی سے دور رہے، گزارہ کے لیے کوئی چیز پنشن جانور زمین وغیرہ اختیار کرے وہ بھی اِس فرمانِ عالی میں داخل ہے۔اگرچہ عبادات میں نمازوزکوٰۃ بھی داخل تھیں مگر چونکہ نماز و زکوٰۃ اعلیٰ درجہ کی عبادت ہیں اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر علیحدہ فرمایا۔ اس حدیث کی بنا پر بعض زاہدین نے فرمایا کہ گوشہ نشینی افضل ہے،جلوت سے خلوت بہتر مگر حق یہ ہے کہ خلوت سے جلوت افضل،حضرات انبیاء کرام لوگوں میں رہے،تبلیغ کرتے رہے،نیز جس رہنے سے جمعہ عیدین نمازِ باجماعت نصیب ہوتی ہے،جنگل میں یہ نعمتیں کہاں،شہر میں عِلم ہے،ذِکر کے حلقے ہیں، اچھوں کی صحبتیں ہیں۔حدیث فتنوں کے ظہور کے زمانہ کے متعلق ہے جب شہروں میں امن نہ رہے یا اُس کمزور آدمی کے لیے ہے جو بستی اور اختلاط کی تکالیف پر صبر نہ کرسکے۔“حاصل حدیث:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اِس حدیث کا حاصل دِین کے دشمنوں کے خلاف جہاد،نفس وشیطان کے مقابلہ کے لیے مجاہدہ، خواہشوں اور لذتوں میں ڈوب جانے سے اِعراض کی ترغیب اور اِس بات پر تنبیہ ہے کہ اگر لوگوں سے میل جول رکھے تو دِین کی تائید اور شریعت کی تقویت کے لیےرکھے ورنہ علیحدگی اختیار کرے اور گوشہ نشین ہوجائے ۔اِس حدیث میں میل جول کی نسبت گوشہ نشینی کا افضل ہونا معلوم ہوتا ہے لیکن دونوں صورتوں میں اصل دارومدار فوائد اورنقصانات پر ہے۔“مدنی گلدستہ’’جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے مذکورہ حدیث اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) ایسا مومن بہتر زندگی والا ہے جو لوگوں سے بے نیاز ہو لیکن جب مسلمانوں کو اس کی ضرورت پڑے تو فوراً ان کی مدد کے لیے کمربستہ ہوجائے ۔
(2) بعض متقی حضرات دنیا کے جھگڑے سے بچنے کے لیے شہر سے دور جنگل میں ڈیرہ ڈال لیتے تھے ،کسی پانی والے سر سبز مقام پر رہنے سہنے لگتےاور بکریوں کے دودھ پرگزاراکرتےیوں وہ فتنوں سے الگ رہتے۔
(3) لوگوں سے میل جول دِین کی تائید اور شریعت کی تقویت کے لیے ہو ۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اچھی زندگی گزارنے والا بنائے اور بُروں کی صحبت سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 601