- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 5
حضرت سَیِّدُنَا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُروایت کرتے ہیں کہ میں نے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا:”اللّٰہتعالیٰ اپنے اس بندے سے محبت فرماتا ہے جو متقی، مستغنی اور خفی(گوشہ نشین)ہو۔“
عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبیْ وَقَاص رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: اِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِیَّ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 597 ، باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا ابو سعید خدریرَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَنْهُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نےرسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟تو رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”وہ مومن مرد جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرے۔“اُس شخص نے عرض کی: پھرکون؟آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”وہ شخص جو پہاڑکی گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں تنہا بیٹھ کر اپنے رب کی عبادت کر رہا ہو۔“ایک روایت میں ہے کہ ”وہ جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرے اور اپنے شر سے لوگوں کو محفوط رکھے۔“
عَنْ اَبیْ سَعِيْد الْخُدْرِىَّ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ: اَىُّ النَّاسِ اَفْضَلُ يَا رَسُوْلَ اللَّهِ؟ قَالَ مُؤْمِنٌ مُجَاهِدٌ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِىْ سَبِيْلِ اللَّهِ، قَالَ:ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:ثُمَّ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِىْ شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ رَبَّهُ. وَفِيْ رِوَايَةٍ :يَتَّقِى اللَّهَ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 598 ، باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا ابوسعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”عنقریب (ایسا زمانہ آئے گا کہ)مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہو ں گی جن کو لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر اپنے دِین کو فتنوں سے بچانے کے لئے چلا جائے گا ۔“
عَنْ اَبِیْ سَعِیْد الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:يُوْشِكُ اَنْ يَكُوْنَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَـفِرُّ بِدِيْنِهِ مِنَ الْفِتَنِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 599 ، باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنےجتنے نبیوں کو مبعوث فرمایا سب نے بکریاں چَرائی ہیں۔“ آپ کے اصحاب نے عرض کی: کیا آپ نے بھی؟ فرمایا :”ہاں! میں چند قیراط کے عوض اہلِ مکہ کی بکریاں چَراتا تھا ۔“
عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَرَضِىَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّااِلَّا رَعَى الْغَنَمَ فَقَالَ:اَصْحَابُهُ وَاَنْتَ؟ فَقَالَ:نَعَمْ كُنْتُ اَرْعَاهَا عَلٰى قَرَارِيْطَ لِاَهْلِ مَكَّةَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 600 ، باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے ہی مَروی ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”لوگو ں کے لئے سب سے اچھی زندگی اس شخص کی ہے جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگا م تھام کر اُس کی پشت پر سوار ہوکرتیز رفتار ی میں جارہا ہےتو جب کبھی وہ دشمن کی آواز سنتا ہے تو اسے مارنے یاخو د مرجانے کے لئے گھوڑے کو دوڑاکردشمن کے قریب پہنچ جاتا ہے یا اس شخص کی اچھی زندگی ہے جو چند بکریاں لے کرپہاڑ کی اِن چوٹیوں میں سے کسی ایک چوٹی کے سِرے پر یا ان وادیوں میں سے کسی وادی میں نکل جائے اور وہاں نَماز قائم کرے،زکوٰۃ اداکرے اور موت کے آنے تک اپنے ربعَزَّوَجَلَّکی عبادت کرتا ر ہے اورحال یہ ہو کہ بھلائی کے سوا لوگوں کے کسی بھی معاملے میں نہ پڑے۔“
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ:مِنْ خَيْرِ مَعَاشِ النَّاسِ لَهُمْ رَجُلٌ مُمْسِكٌ عِنَانَ فَرَسِهِ فِيْ سَبِيْلِ اللَّهِ يَـطِيْرُ عَلٰى مَتْنِهِ كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً اَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ يَبْتَغِي الْقَتْلَ اَوِالْمَوْتَ مَظَانَّهُ اَوْ رَجُلٌ فِيْ غُنَيْمَةٍ فِيْ رَاْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هٰذِهِ الشَّعَفِ اَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ هٰذِهِ الْاَوْدِيَةِ يُقِيْمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتّٰى يَاتِيَهُ الْيَقِيْنُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ اِلَّا فِيْ خَيْرٍ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 601 ، باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان