Main Icon

باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 941

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:اَسْرِعُوْا بِالْجَنَازَةِ فَاِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُوْنَهَا اِلَيْهِ وَاِنْ تَكُ سِوَى ذٰلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُوْنَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ.وَفِيْ رِوَايةٍ لِمُسْلِمٍ:فَخَيْرٌ تُقَدِّمُوْنَهَا عَلَيْهِ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:اسرعوا بالجنازة فان تك صالحة فخير تقدمونها اليه وان تك سوى ذلك فشر تضعونه عن رقابكم.وفي رواية لمسلم:فخير تقدمونها عليه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جنازہ جلدی لے جاؤ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے بھلائی کی طرف بڑھا رہے ہو اور اگر اُس کے علاوہ ہے تو تم بُرائی کو اپنی گردنوں سے اُتار رہے ہو ۔“مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے :وہ بھلائی ہے جس کو تم آگے بڑھا رہے ہو ۔

شرح حدیث

جنازہ جلدی لے جانے کی حکمت:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’یعنی میت کو قبرستان تیز رفتار سے پہنچاؤ۔تیزی سے مراد عام رفتار سے زیادہ اور دوڑنے سےکم ہے،ہاں اگرمیت کے پھول یا پھٹ جانے کا اندیشہ ہو تو دوڑتے ہوئے لے جائیں۔ہر نیک اور بد میت کو تیز ہی لے جاناچاہیے۔ نیک کو اس لیے کہ اس کا اگلا گھر اس کے لیے خیرہے وہاں جلدی پہنچاؤ۔بد کو اس لیے کہ وہ رحمت سے دور ہے تم سے بھی جلدی دور ہوجائے۔اس سےمعلوم ہوا کہ بُرے آدمی کی صحبت مرے بعدبھی اچھی نہیں چہ جائے کہ اس کی زندگی میں۔“جنازہ میں جلدی کرنے سے مراد:دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی کتاب ”ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت “صفحہ 348پر ہے: (نماز جنازہ کیتَعْجِیْل(یعنی جلدی کرنے)سے مرادیہ ہے کہ)غسل و کفن کےبغیر تو نماز پڑھ سکتے ہی نہیں،ہاں! اس کے بعد تاخیر نہ کرے،بعض لوگ شَبِ جمعہ(یعنی جمعہ کی رات) جس کا انتقال ہوا میّت کو تا نمازِ جمعہ رکھے رہتے ہیں کہ آدمیوں کی نماز ِجُمُعہَ میں کثرت ہوجائے، یہ ناجائز ہے اور اس کی تصریح کُتُبِ فِقہ میں موجود ہے اور اگر قبر تیار ہونے سے پیشتر کسی عذر سے تاخیر کی جائے تو حرج نہیں۔مدنی گلدستہ’’جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(7) ا نتقال کے بعد جتنا جلدی ممکن ہو جنازے کو لے جانا چاہیے۔
(8) بُرے انسان کی صحبت اس کے مرنے کے بعد بھی اچھی نہیں کہ وہ رحمت خداوندی سے دُور ہے اس لیے ہمیں بھی جلد ہی اُس سے دُور ہو جانا چاہیے۔
(9) جنازہ لے جانے میں تیزی کرنے سے مراد عام رفتار سے زیادہ اور دوڑنے سےکم چلنا ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 941