باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 6

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جنازہ جلدی لے جاؤ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے بھلائی کی طرف بڑھا رہے ہو اور اگر اُس کے علاوہ ہے تو تم بُرائی کو اپنی گردنوں سے اُتار رہے ہو ۔“مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے :وہ بھلائی ہے جس کو تم آگے بڑھا رہے ہو ۔

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:اَسْرِعُوْا بِالْجَنَازَةِ فَاِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُوْنَهَا اِلَيْهِ وَاِنْ تَكُ سِوَى ذٰلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُوْنَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ.وَفِيْ رِوَايةٍ لِمُسْلِمٍ:فَخَيْرٌ تُقَدِّمُوْنَهَا عَلَيْهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 941 ، باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان

حضرت سَیِّدُنَا ابوسعید خُدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرمایاکرتے:”جب جنازہ رکھا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنی گردنوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگروہ نیک ہو تو کہتا ہے مجھے آگے بڑھاؤ اور اگر نیک نہ ہو تو اپنے گھر والوں کو کہتا ہے:ہائےافسوس!اسے کہاں لے جا رہے ہو۔انسان کے علاوہ ہر چیز اس کی آواز سنتی ہےاور اگر انسان سن لے تو بے ہوش ہو جائے۔‘‘

عَنْ اَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ:اِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى اَعْنَاقِهِمْ فَاِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ:قَدِّمُوْنِيْ وَاِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ لِاَهْلِهَا:يَاوَيْلَهَا اَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ اِلَّا الْاِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَ الاِنْسَانُ لَصَعِقَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 942 ، باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان