Main Icon

باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 942

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ:اِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى اَعْنَاقِهِمْ فَاِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ:قَدِّمُوْنِيْ وَاِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ لِاَهْلِهَا:يَاوَيْلَهَا اَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ اِلَّا الْاِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَ الاِنْسَانُ لَصَعِقَ.

عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال:كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول:اذا وضعت الجنازة فاحتملها الرجال على اعناقهم فان كانت صالحة قالت:قدموني وان كانت غير صالحة قالت لاهلها:ياويلها اين تذهبون بها يسمع صوتها كل شيء الا الانسان ولو سمع الانسان لصعق.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابوسعید خُدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرمایاکرتے:”جب جنازہ رکھا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنی گردنوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگروہ نیک ہو تو کہتا ہے مجھے آگے بڑھاؤ اور اگر نیک نہ ہو تو اپنے گھر والوں کو کہتا ہے:ہائےافسوس!اسے کہاں لے جا رہے ہو۔انسان کے علاوہ ہر چیز اس کی آواز سنتی ہےاور اگر انسان سن لے تو بے ہوش ہو جائے۔‘‘

شرح حدیث

مُردہ بولتا بھی ہےاور سنتا بھی ہے :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناِس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں:”جنازے سے مراد میت ہے اور اُس کے رکھے جانے سے مراد گھر سے باہر نکال کر لوگوں کے سامنے قبرستان لے جانے کے لیے رکھا جانا ہے۔ظاہر یہی ہے کہ مُردہ بزبانِ قال(زبان سے) یہ گفتگو کرتا ہے کیونکہ اسے نزع میں ہی اپنے آئندہ حال کا پتہ چل جاتا ہے۔اب اسے یہاں ٹھہرنا وبال معلوم ہوتاہے اس لیے کہتا ہے جلدی پہنچاؤ۔اس سے معلوم ہوا کہ اس حالت ہی میں جسم میں جان پڑچکی ہوتی ہے اور بعدموت مُردہ بولتابھی ہے،سنتا بھی ہے۔مردہ چلنے والوں کے جوتوں کی آہٹ سنتاہے، میت اپنے غسل دینے والے،اٹھانے والے،کفن دینے والے اور قبر میں اُتارنے والے سب کو پہچانتا ہے۔
(اگر نیک نہ ہو تو اپنے گھر والوں کو کہتا ہے:ہائےافسوس!اسے کہاں لے جا رہے ہو ،انسان کے علاوہ ہر چیز اس کی آواز سنتی ہے ،اگر انسان سن لے تو بے ہوش ہو جائے۔) اس عبارت سے معلوم ہوا کہ مُردے کی یہ گفتگو زبانِ قال سے آواز کے ساتھ ہی ہوتی ہے جسے جانور، فرشتہ، کنکر،پتھر سب سنتے ہیں انسان کو اس لیے نہ سنائی گئی کہ اولًا تو اس میں اس آواز کی برداشت کی طاقت نہیں۔دوسرے اس پر ایمان بالغیب لازم ہے اگر وہ آواز سن لے تو ایمان بالغیب نہ رہے۔
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیفرماتے ہیں:نیک مردہ جنت میں اپنے بلند مراتب دیکھ رہا ہوتا ہے اس لئے وہ کہتا ہے کہ مجھے جلدی آگے بڑھاؤ۔میت کا کلام کرنا حقیقت پربھی محمول ہوسکتا ہے کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی قدرت سے یہ بعید نہیں اور یہ اسی طرح ہےجس طرحاللّٰہ عَزَّوَجَلَّقبر میں سوالات کے جوابات دینے کے لئے مردے کو زندگی دیتا ہےبلکہ حدیث پاک سے یہ بات ثابت ہے کہ مردہ فرشتوں کے آنے سے پہلے دفن کرکے واپس لوٹ جانے والوں کی جوتوں کی آواز سنتا ہے۔یہ بھی احتمال ہے کہ میت کا کلام مجازاً ہو لیکن پہلا احتمال ہی معتمد ہے۔ایک اہم مسئلہ :اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:اگر روزِ جمعہ پیش از جمعہ(جمعہ کی نماز سے پہلے)جنازہ تیار ہوگیا (تو اب )جماعتِ کثیرہ کے انتظار میں دیر نہ کریں(یعنی نمازِ جمعہ کے بعد لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگی اس وجہ سے جنازے میں تاخیر نہ کریں بلکہ جنازہ پڑھا کر ) پہلے ہی دفن کردیں۔ اس مسئلہ کا بہت لحاظ رکھنا چاہئے کہ آج کل عوام میں اس کے خلاف رائج ہے۔جنہیں کچھ سمجھ ہے وہ تو اسی جماعتِ کثیر کے انتظارمیں روکے رکھے ہیں، اور نرے جُہال نے اپنے جی سے اور باتیں تراشی ہیں۔کوئی کہتاہے:میّت بھی جمعہ کی نماز میں شریک ہوجائے۔کوئی کہتا ہے: نماز کے بعد دفن کریں گے تو میت کو ہمیشہ جمعہ ملتا رہے گا۔ یہ سب بے اصل وخلافِ مقصدِ شرع ہیں۔مدنی گلدستہ’’مَیِّت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) مُردے کا کلام سننے کی انسان میں طاقت نہیں،انسان کے علاوہ ہر چیز اس کا کلام سنتی ہے ۔
(2) مَرنے کے بعد مُردہ بولتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے لیکن یہ معاملہ لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتا۔
(3) نیک جنازہ جنت میں اپنے مراتب دیکھ رہا ہوتا ہے اس لئے وہ کہتا ہے:مجھے آگے بڑھاؤ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں میت کی تدفین میں بلاوجہ دیرکرنے سے محفوظ فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 942