Main Icon

باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 910

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْهُمَا اَنَّ عَلِيَّ بْنَ اَبي طَالِبٍ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيْهِ فَقَالَ النَّاسُ: يَا اَبَا الْحَسَنِ!كَيْفَ اَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:اَصْبَحَ بِحَمْدِ الله بَارِئًا.

عن ابن عباس رضي اللہ عنهما ان علي بن ابي طالب رضي اللہ عنه خرج من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم في وجعه الذي توفي فيه فقال الناس: يا ابا الحسن!كيف اصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال:اصبح بحمد الله بارئا.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناعبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضیکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمحضور نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس سے اُس بیماری کے دوران باہر نکلے جس میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصالِ ظاہری ہوا ۔لوگوں نے اُن سے (نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طبیعت معلوم کرتے ہوئے) پوچھا:”اے ابو الحسن!رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کس حال میں صبح کی؟“حضرت علیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:”اَلْحَمْدُلِلّٰہصحت میں صبح کی۔“

شرح حدیث

مریض کی عیادت کے آداب :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر مریض سو رہا ہو یا اس کی طبیعت زیادہ خراب ہو تو عیادت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ مریض کے گھر والوں سے ہی اس کا حال پوچھ لیں۔خود مریض کے پاس جاکر اس کی نیند خراب نہ کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے عیادت کرنے سے مریض کی نیند خراب ہوجائے یا شور شرابے کی وجہ سے اس کی مزید طبیعت خراب ہواور وہ آپ کے آنے سے بجائے خوش ہونے کے اور ناراض ہوجائے، لہٰذا ایسی صورت میں مریض کے گھر والوں سے اس کی طبیعت معلوم کرکے واپس آجائیں۔ گھر والوں کو بھی چاہیے کہ وہ مریض کا اچھا حال بیان کریں،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد بیان کریں شکوے شکایت والے جملے نہ بولیں نہ ہی چیخیں چلائیں کہ اس سے مریض کو بھی تکلیف ہوگی بلکہ اچھے انداز میں عیادت کرنے والوں کو مریض کا حال بتائیں، دعا کے لیے کہیں اور رخصت کریں۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:آپ کے مرض میں کوئی ہلکا پن نہ تھا مگر جناب علی نے یہ فرمایا۔مطلب یہ ہے کہ خدا کے فضل سےحضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا قلب پاک تندرست ہے یااِنْ شَآءَ اللّٰہآپ قریب صحت ہیں۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:*∞ایک یہ کہ بیمار پرسی کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بیمار کا حال آنے والے سے پوچھ لیا جائے۔*∞دوسرے یہ کہ اگر بیمار کا حال خراب بھی ہو تب بھی لفظ اچھے بولے جائیں کہ اس میں فال بھی نیک ہے اور رحمتِ الٰہی کی امیدبھی۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرض کی شدت یا کسی اور وجہ سے مریض تک پہنچنا ممکن نہ ہو تو گھر والوں سے اس کا حال پوچھنا مستحب ہےکیونکہ جب مریض کو اس بارے میں پتا چلے گا تووہ خوش ہوگا۔حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضٰیکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے لوگوں کو جو جواب دیا وہ اُن کے گمان کے مطابق تھا یا نیک فالی کے لئے ایسا کہا ۔“ گھر والوں کو چاہیے کہ وہ مریض کا اچھا حال بیان کریں چنانچہ شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:مستحب یہ ہے کہ جب مریض کا حال پوچھا جائے تو اس کی اچھی حالت کو بیان کیا جائے۔مدنی گلدستہ’’عیادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) عیادت کرنے والوں کو چاہیے کہ مریض کی حالت و کیفیت دیکھ کر عیادت کریں اگر مریض کی حالت بہتر ہے وہ بات کرنے کے قابل ہے تو اس کے پاس جائیں ورنہ مریض کے اہلِ خانہ سے حال پوچھ لیں۔
(2) مریض کے اہلِ خانہ کو چاہیے کہ مریض ملاقات کرنے کی حالت میں ہو تو ملاقات کروائیں ورنہ عیادت کے لیے آنے والوں کو پہلے ہی منع کردیں تاکہ وہ آنے کی زحمت نہ کریں۔
(3) جب اہلِ خانہ سے لوگ مریض کی طبیعت کے بارے میں پوچھیں تو اہلِ خانہ کو چاہیے کہ حمدِ الٰہی بجالاکر اچھے انداز میں مریض کا حال بیان کریں اور
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت سے امید رکھیں۔
(4) دوسروں کو مریض کے لیے دعا کے لیے کہیں۔
(5) ∞مریض کا حال خراب بھی ہو تب بھی اچھے الفاظ بولے جائیں کہ اس میں نیک فال ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اچھے طریقے سے مریض کی عیادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 910