- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- حدیث نمبر 199
امانت کی ادائیگی کے احکام - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 199
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اٰيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ اِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا اُؤْتُمِنَ خَانَ.( ) ’’وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَ اِنْ صَامَ وَصَلَّی وَزَعَمَ اَنَّہُ مُسْلِمٌ‘‘.( )
عن ابي هريرة ان رسول اللہ صلى الله عليه وسلم قال اية المنافق ثلاث اذا حدث كذب واذا وعد اخلف واذا اؤتمن خان.( ) ’’وفی روایۃ: و ان صام وصلی وزعم انہ مسلم‘‘.( )
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’منافق کی تین علامات(نشانیاں) ہیں : (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (2)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرےاور(3) جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔ ‘‘ایک روایت میں ہے : اگرچہ وہ روزے رکھے ، نماز پڑھےاور اپنے آپ کو مسلمان گمان کرے۔
شرح حدیث
منافق کے قول ،فعل اورنیت کی خرابی:عمدۃ القاری میں ہے : مذکورہ حدیث میں موجود اِن تین نشانیوں سے منافق کی صفت کا پتہ چلا ، منافق کی علامتوں(نشانیوں) کو اِن تین میں منحصر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اِنسان کے اعمال کا تعلق تین چیزوں سے ہوتا ہے : قول ، فعل اور نیت۔ منافق کی یہ تینوں چیزیں خراب ہوتی ہیں۔ قول کی خرابی یہ ہے کہ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے ، فعل کی خرابی یہ ہے کہ جب اُس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرتا ہے اور نیت کی خرابی یہ ہے کہ جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرتاہے۔ اور اس بات کو بھی ذہن میں رکھا جائے کہ وعدہ خلافی اس وقت قابل مذمت ہے جبکہ وعدہ کرتے وقت ہی یہ نیت ہو کہ میں اس کے خلاف کروں گا اور اگر وعدہ کرتے وقت تو اُسے پورا کرنے کی نیت تھی لیکن بعد میں کسی مجبوری یا مانع کی وجہ سے وعدہ پورا نہ کرسکا تو یہ منافق کی صفت نہیں اور اس کی دلیل طبرانی کی یہ روایت ہےجس میں فرمایا : وعدہ کرتے وقت ہی اس کے دل میں یہ ہو کہ میں اس کے خلاف ہی کروں گا(تو یہ منافق کی صفت ہے)اسی طرح باقی خصلتوں کا معاملہ ہے۔ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : وعدہ پورا کرنا ایسا مستحب ہے جس کی تاکید کی گئی ہے اور
وعدہ خلافی کرنا مکروہ تنزیہی ہے اور مستحب ہے کہ جب کوئی شخص وعدہ کرے تو اس کے ساتھ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ کہہ دےتاکہ وعدہ پورا نہ کرنے کی صورت میں وہ جھوٹ کا مرتکب نہ ہو۔ ( )حدیث میں نفاق عملی مراد ہے یااعتقادی؟عَلَّامَہ شِہَابُ الدِّیْن اَحْمَدْ قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی حدیث مذکور کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اگر تم کہو کہ جب کسی مسلمان میں یہ خصلتیں پائی جائیں تو کیا وہ منافق ہوجائے گا؟ تو میں اس کا جواب دوں گا کہ یہ منافقت کی خصلتیں ہیں منافقت نہیں ، توجس شخص میں یہ تمام صفتیں پائی جائیں اسے مجازاًمنا فق کہا گیا ہے یا پھر اس سے مراد نفاقِ عملی ہے نفاقِ اعتقادی نہیں ، یا پھر مراد یہ ہے کہ جو شخص اِن صفات سے متصف ہو اور یہ اُس کی عادت میں شامل ہو(تو وہ منافق ہے ) یا پھر مراد یہ ہے کہ جس میں یہ خصلتیں غالب آجائیں اور وہ ان کو خاطر میں نہ لائے اور اس حکم کو ہلکا جانے تو ایسا شخص بد عقیدہ اور منافق ہےیا پھر حدیث کا مقصد لوگوں کوان تین کاموں سے ڈرانااور ان کے کرنے سے بچانا ہے یا پھر یہ حدیث کسی خاص منافق کے بارے میں ہے لیکن آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس کا نام ذکرنہیں فرمایا جیساکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادتِ مبارکہ ہےکہ آپ کسی کا عیب صاف لفظوں میں بیان نہ فرماتے بلکہ اشارۃً گفتگو کرتے جیساکہ احادیث میں اس کی مثالیں ملتی ہیں فرمایا : ’’اس قوم کا کیا معاملہ ہے؟‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ یا پھر اس سے مراد نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے کے منافقین ہیں۔ ‘‘( )منافقت کی اَقسام:شرحُ الطّیبیمیں ہے : ’’یہ حدیث مومن کو ڈرانے اور اِن خصلتوں کو اپنی عادت بنانے سے بچانے کے لئے بیان کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جس شخص سے یہ کام کبھی کبھار ہوجائے یا بغیر عادت کےوہ ان میں سے کوئی کام کر بیٹھے تو وہ منافق ہوگیا۔ ‘‘مزید فرماتے ہیں : ’’منافقت کی دو قسمیں ہیں : پہلی
قسم یہ ہےکہ کوئی شخص اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے اور دل میں کفر ہوجیسا کہ حضورنبی رحمت ، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے کے منافقین۔ دوسری قسم یہ ہے کہ تنہائی میں دینی اُمور کی حفاظت نہ کرے اور لوگوں کی موجودگی میں ان کو بجالائےتو ایسے شخص کو منافق کہیں گے لیکن یہ نفاق ، نفاقِ اعتقادی نہیں جیساکہ حدیث میں ہے کہ کسی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے تو یہ کفر ، کفرِ اعتقادی نہیں (یعنی یہ کام کافروں والا ہے لیکن قتل کرنے اور گالی دینے سے وہ کافر نہیں ہوگا)۔ “ ( )کیا نمازی روزہ دار منافق ہوسکتا ہے؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی حدیث پاک کے اس حصے : ’’اگر چہ وہ روزے رکھے ، نماز پڑھے۔ ‘‘کے تحت فرماتے ہیں : ’’اگر چہ وہ مسلمانوں والےعمل کرے یعنی روزے رکھے نماز پڑھے اس کے علاوہ دوسری عبادت کرے۔ ایک روایت میں ہے کہ چاہے وہ روزہ رکھے نماز پڑھے حج کرے عمرہ کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں۔ ( )(لیکن اگر اس میں ان میں سے کوئی صفت ہے تو وہ منافق عملی ہے۔ )مدنی گلدستہ
’’چل مدینہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول(1)انسان کے اعمال کا تعلق تین چیزوں سےہوتا ہے قول ، فعل اور نیت ، منافق کی یہ تینوں چیزیں خراب ہوتی ہیں ، نہ تو اس کا قول درست ہوتاہے ، نہ فعل اور نہ ہی نیت۔
(2)مسلمان کو تمام معاملات میں امانت کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے چاہے ان معاملات کا تعلق دین سے ہو یا دنیا سے ، لہذا اُسے چاہیے کہ امانت کی ادائیگی کا خصوصی خیال رکھے۔
(3)نماز پڑھنا ، رمضان کے روزے رکھنا ، زکوٰۃ دینا ، حج کرنااور دیگر اَعمال صالحہ ادا کرنا بھی امانت ہے ۔
(4)انسان کے جسم کے اعضاء مثلا ً آنکھ ، زبان ، کان ہاتھ وغیرہ یہ تمام کے تمام اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے انسان کو استعمال کے لئے بطور امانت دئیے گئے ہیں ، لہذا ان کی حفاظت کرنی چاہیے۔
(5)وعدہ کرتے وقت اگر اسے پورا کرنے کی نیت ہو اور کسی وجہ سے پورا نہ کرسکے تو یہ وعدہ خلافی نہیں کہلائے گی وعدہ خلافی اسی وقت کہلائے گی کہ جب وعدہ کرتے وقت ہی اسے پورا نہ کرنے کا ارادہ ہو۔
(6)وعدہ کرتے وقت اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ کہہ دینا چاہیے تاکہ وعدہ پورا نہ ہونے کی صورت میں جھوٹ بھی نہ ہواور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مدد شامل حال ہوجائے۔
(7)لوگوں کی موجودگی میں بُر ے کام نہ کرے اور تنہائی میں کرے یہ بھی منافقت عملی ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں نفاقِ عملی و اِعتقادی دونوں سے محفوظ فرمائے اور جو علاماتِ منافق ہیں اُن سے بچنے کی بھی توفیق عطا فرمائے ، نیز امانتوں کی ادائیگی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 199