امانت کی ادائیگی کے احکام

فیضان ریاض الصالحین جلد 3

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’منافق کی تین علامات(نشانیاں) ہیں : (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (2)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرےاور(3) جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔ ‘‘ایک روایت میں ہے : اگرچہ وہ روزے رکھے ، نماز پڑھےاور اپنے آپ کو مسلمان گمان کرے۔

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اٰيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ اِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا اُؤْتُمِنَ خَانَ.( ) ’’وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَ اِنْ صَامَ وَصَلَّی وَزَعَمَ اَنَّہُ مُسْلِمٌ‘‘.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 199 ، امانت کی ادائیگی کے احکام

حضرتِ سَیِّدُناحُذیفہ بن یمانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں دوحدیثیں بیان فرمائیں ان میں سے ایک کو میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہم سے بیان فرمایا کہ : ’’ امانت لوگوں کے دلوں کی جڑ میں نازل ہوئی ، پھرقرآن نازل ہوا تو لوگوں نے (امانت کو)کچھ قرآن سے جانا اور کچھ سنت سے۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں امانت کے اُٹھ جانے کے بارے میں بیان فرمایا : ’’ایک آدمی تھوڑی دیر کے لیے سوئے گا تو اس کے دل سے امانت نکال لی جائے گی اور اس کا ہلکا سااثر باقی رہ جائے گا پھروہ تھوڑی دیر کے لیے سوئے گا تو اس کے دل سے امانت نکال لی جائے گی تواب اس کا اثر چھالے کی مثل رہ جائے گا جیسا کہ تو اپنے پاؤں پر انگارہ ڈالے تو اس سے چھالا پڑجائےتو تُو اسے اُبھرا ہوادیکھے گا لیکن اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چندکنکریاں لیں اور انہیں اپنے پاؤں مبارک پر ڈالا اورارشادفرمایا : ’’لوگ صبح کے وقت خریدو فروخت کریں گے لیکن ایک بھی شخص امانت ادا کرنے والا نہ ہوگا ، یہاں تک کہ کہاجائے گا کہ : فلاں قبیلے میں ایک امانت دار شخص ہےاور اس کے بارے میں کہاجائے گا ، کہ وہ شخص کس قدر طاقتور ، ہوشیاراورعقلمند ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔ ‘‘(راوی کہتے ہیں )اورمجھ پر ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ میں یہ پرواہ نہ کرتا تھاکہ میں کس سے خریدوفروخت کررہاہوں ، اگر وہ مسلمان ہے تو اس کا دین ضروراسے میری طرف لوٹا دے گا اور اگر وہ عیسائی یا یہودی ہے تو اس کا والی ضروراسے میری طرف لوٹادے گا۔ بہرحال آج کل میں تم میں سے صرف فلاں فلاں سے ہی خریدوفروخت کرتا ہوں۔

عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْیَمَانِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ قَدْرَاَيْتُ اَحَدَهُمَاوَاَنَا اَنْتَظِرُ الْاٰخَرَ : حَدَّثَنَا اَنَّ الْاَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوْبِ الرِّجَالِ ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْاٰنُ فَعَلِمُوْا مِنَ الْقُرْاٰنِ وَ عَلِمُوْا مِنَ السُّنَّةِ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الْاَمَانَۃِ فقَالَ : ’’ يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْاَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَظَلُّ اَثَرُهَا مِثْلَ الْوَكْتِ ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْاَمَانَۃُ مَنْ قَلْبِہِ فَيَظَلُّ اَثَرُهَا مِثْلَ اَثْرِ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيْهِ شَيْءٌ‘‘ثُمَّ اَخَذَ حَصَاۃً فَدَحْرَجَھَا عَلَی رِجْلِہِ’’فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُوْنَ فَلَا يَكَادُ اَحَدٌ يُؤَدِّي الْاَمَانَةَ حَتَّی يُقَالَ : اِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا اَمِيْنًا حَتّٰی يُقَالَ لِلرَّجُلِ : مَا اَجْلَدَہُ مَا اَظْرَفَهُ مَا اَعْقَلَہُ !وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ اِيْمَانٍ وَلَقَدْ اَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا اُبَالِي اَيَّكُمْ بَايَعْتُ؟ لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَیَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِیْنُہُ وَلَئِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا اَوْیَہُوْدِیًّا لَیَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيْهِ وَاَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ اُبَايِعُ مِنْکُمْ اِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا‘‘.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 200 ، امانت کی ادائیگی کے احکام

حضرتِ سَیِّدُنا حذیفہ وسَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ تمام لوگوں کو جمع فرمائے گا تو مسلمان کھڑے ہوں گے یہاں تک کہ جنت اُن کے قریب کر دی جائے گی تو وہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس آکر عرض کریں گے : اے ہمارے باپ! ہمارے لئے جنت کا دروازہ کھول دیں ، حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام فرمائیں گے : تمہیں جنت سے تمہارے باپ کی ایک لغزش ہی نے تو نکالا تھا۔ میرا یہ منصب نہیں تم لوگ میرے بیٹے ابراہیم خلیلُ اللہ(عَلَیْہِ السَّلَام) کے پاس چلے جاؤ ۔ ‘‘حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام فرماتے ہیں : ’’پھر وہ لوگ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس جائیں گے ، ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام فرمائیں گے : میرا یہ منصب

نہیں میں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا دوست ہوں ، مقامِ شفاعت سے دور ہوں ، تم حضرت موسٰی عَلَیْہِ السَّلَامکے پاس جاؤ ، ان کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے شرفِ کلام سے نوازا ہے۔ تو وہ موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس آئیں گے۔ حضرت موسیعَلَیْہِ السَّلَام فرمائیں گے : میرا یہ منصب نہیں ، تم لوگ عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکے پاس چلے جاؤ ، وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کلمہ سے پیدا ہوئے ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پسندیدہ روح ہیں ، عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام بھی ان سے یہی فرمائیں گےکہ میرا یہ منصب نہیں۔ تو وہ لوگ محمد( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ پھر وہ کھڑے ہوں گے اور ان کو شفاعت کی اجازت دی جائے گی ، امانت اور رحم کو بھیجا جائے گا ، وہ دونوں پل صراط کے دائیں بائیں کھڑے ہوجائیں گے ، پھر تم میں سے پہلا گروہ بجلی کی طرح تیزی سے گزر جائے گا۔ ‘‘راوی کہتے ہیں : ’’میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان! یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کوئی چیز بجلی کی طرح کیسے گزرے گی؟‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’کیا تم نے بجلی کو نہیں دیکھا وہ کس طرح گزرتی ہے ؟اور پلک جھپکنے سے پہلے لوٹ آتی ہے۔ پھر دوسرا گروہ ہوا کی مانند گزر جائے گا ، پھر ایک گروہ پرندوں کی طرح گزر جائے گا ، پھر ایک گروہ تیز دوڑنے والے مَردوں کی طرح گزر جائے گا ، اس کے بعد ہر شخص اپنے اعمال کے مطابق رفتار سے گزر جائے گا اور تمہارے نبی ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) پل صراط پر کھڑے دعا کر رہے ہوں گے : اے ربّ سلامتی کے ساتھ گزار ، حتی کہ بندوں کے اعمال انہیں عاجز کردیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں کے بل چلتا ہوا گزرے گا۔ پل صراط کے دونوں کناروں پر لوہے کے آنکڑے(ہُک) لٹکے ہوئے ہوں گے اور وہ اس کو پکڑ لیں گے جسے پکڑنے کا حکم ہوگا پس کچھ لوگ زخمی حالت میں نجات پاجائیں گے اور کچھ آگ میں ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے۔ ‘‘(راوی کہتے ہیں : )’’ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں ابو ہریرہ کی جان ہے! بے شک جہنم کی گہرائی ستر سال کی مَسافت کے برابر ہے۔ ‘‘

عَنْ حُذَیْفَۃَ وَاَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَا قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى النَّاسَ فَيَقُوْمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى تُزْلَفَ لَهُمُ الْجَنَّةُ فَيَأْتُوْنَ آدَمَ صَلَوَاتُ اللہِ عَلَیْہِ فَيَقُوْلُوْنَ يَا اَبَانَا اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ فَيَقُوْلُ : وَهَلْ اَخْرَجَكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ اِلَّا خَطِيْئَةُ اَبِيْكُمْ! لَسْتُ بِصَاحِبِ ذٰلِكَ اِذْهَبُوْا اِلَى ابْنِيْ اِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلِ اللَّهِ قَالَ : فَيَاْتُوْنَ اِبْراھِیْمَ فَيَقُوْلُ اِبْراهِيْمُ : لَسْتُ بِصَاحِبِ ذٰلِكَ اِنَّمَا كُنْتُ خَلِيْلًا مِّنْ وَرَاءَ وَرَاءَ اِعْمَدُوْا اِلَى مُوْسَى الَّذِيْ كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا فَيَأْتُونَ مُوْسَى فَيَقُوْلُ : لَسْتُ بِصَاحِبِ ذٰلِكَ اِذْهَبُوْا اِلَى عِيْسَى كَلِمَةِ اللَّهِ وَرُوْحِهِ فَيَقُوْلُ عِيْسَى : لَسْتُ بِصَاحِبِ ذٰلِكَ فَيَاْتُوْنَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُوْمُ فَيُؤْذَنُ لَهُ وَتُرْسَلُ الْاَمَانَةُ وَالرَّحِمُ فَیَقُوْمَانِ جَنْبَتَيِ الصِّرَاطِ يَمِيْنًا وَشِمَالًا فَيَمُرُّ اَوَّلُكُمْ كَالْبَرْقِ قُلْتُ : بِاَبِيْ وَاُمِّيْ اَيُّ شَيْءٍ كَمَرِّ الْبَرْقِ؟ قَالَ : اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ؟ ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيْحِ ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ وَاَشَدِّ الرِّجَالِ تَجْرِيْ بِهِمْ اَعْمَالُهُمْ وَنَبِيُّكُمْ قَائِمٌ عَلَى الصِّرَاطِ يَقُوْلُ : رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ حَتَّى تَعْجِزَ اَعْمَالُ الْعِبَادِ حَتَّى يَجِيْءَ الرَّجُلُ لَا يَسْتَطِيْعُ السَّيرَ اِلَّا زَحْفًا وَفِي ْحَافَتَيِ الصِّرَاطِ كَلَالِيْبُ مُعَلَّقَةٌ مَاْمُوْرَةٌ بِاَخْذِ مَنْ اُمِرَتْ بِهِ فَمَخْدُوْشٌ نَاجٍ وَمُكَرَدَسٌ فِيْ النَّارِ وَالَّذِيْ نَفْسُ اَبِي ْهُرَيرَةَ بِيَدِهِ! اِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعُوْنَ خَرِيْفًا.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 201 ، امانت کی ادائیگی کے احکام

حضرت سیدنا ابو خُبیب عبداللہ بن زبیربن عوام قرشی اسدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں : جنگِ جمل کے موقع پر (میرے والد) حضرت سیدنا زبیربن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کھڑے ہوئے اور مجھے بلایا ۔ میں ان کے پہلو میں کھڑا ہوگیا توانہوں نے فرمایا : ’’ اے بیٹے! آج کے دن ظالم قتل ہوگا یا مظلوم اور میں دیکھ رہا ہوں کہ آج میں مظلوم قتل کیا جاؤں گااور مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرض کی ہے ، کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ قرض کی ادائیگی کے بعد کچھ مال بچ جائے گا؟اے میرے بیٹے! میرا مال بیچ کر میرا قرض ادا کردینا۔ ‘‘ پھر تہائی مال کی وصیت فرمائی اور اس تہائی کے تہائی مال کی ان ( یعنی سیدنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )کے بیٹوں

کے لئےوصیت فرمائی۔ پھر فرمایا : ’’میرا قرض اتارنے کے بعد اگر کچھ مال بچے تو اس کا تہائی تمہاری اولاد کے لئے ہے۔ ‘‘ ہشام کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے کچھ بیٹے (عمر میں) حضرت سیدنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بیٹوں خبیب اور عبادکے برابر تھے ۔ اس وقت حضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے نو بیٹے اور نو بیٹیاں تھیں۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مجھے اپنے قرض کی وصیت کرتے ہوئے فرمانے لگے : ’’اے میرے بیٹے!اگر تم میرا قرض نہ اتار سکو تو میرے مولا سے مدد مانگنا۔ ‘‘سیدنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ’’خدا کی قسم میں نہ سمجھ سکا کہ’’مولا‘‘سے ان کی مرادکیا ہے؟ حتی کہ میں نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ اے میرے والد!آپ کا مولا کون ہے؟‘‘ جواب دیا : “ اللہ عَزَّوَجَلَّ ۔ “ حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’خدا کی قسم ! میں ان کے قرض ادا کرنے میں جب بھی کسی مشکل میں پھنسا تو میں نے کہا : اے زبیر کے مولی !زبیر کا قرض اتار دے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا قرض اتار دیتا ۔ حضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو شہید کر دیا گیا انہوں نے ایک بھی درہم و دینار نہ چھوڑا ، ہاں کچھ زمینیں تھیں ان میں سے ایک زمین غابہ(کے علاقہ میں)تھی اور مدینہ منورہ میں گیارہ مکان ، بصرہ میں دومکان ، کوفہ میں ایک مکان اور ایک مکان مصر میں تھا۔ ان پر جو اتنا قرض تھا وہ اس وجہ سے تھا کہ جب کوئی شخص اُن کے پاس امانت رکھوانے آتا تو وہ کہتے کہ یہ امانت نہیں ہے بلکہ مجھ پر قرض ہے مجھے اُس کے ضائع ہوجانے کا خوف ہے۔ انہوں نے کبھی حکومت حاصل نہیں کی ، نہ کبھی ٹیکس کی وصولی پر مامور ہوئے ، نہ کبھی کسی عہدہ پر فائز ہوئے ، البتہ غزوات میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یا حضرت ابو بکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے ساتھ شریک ہوئے۔ میں نے حضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر جو قرض تھا اس کا حساب لگایا تووہ بائیس ۲۲ لاکھ درہم تھا۔ حضرت حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مجھ سے ملے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا : اے میرے بھتیجے! میرے بھائی (حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )پر کتنا قرض ہے؟ تو میں نےان سےچھپاتے ہوئے سارا قرض بیان نہ کیا بلکہ فقط ایک لاکھ بیان کیا تو وہ فرمانے لگے : ’’ خدا کی قسم تمہارے پاس اتنا مال نہیں کہ جو اُن کا قرض اتار سکے۔ ‘‘ سیدنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواباً عرض کیا : ’’اگر سیدنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی

عَنْہُ پر ۲۲بائیس لاکھ قرض ہو تو آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ سیدنا حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’میں نہیں سمجھتا کہ تم اس قرض کو اتارنے کی طاقت رکھتے ہولہٰذا اگر تم قرض نہ اتار سکو تو مجھ سے مدد طلب کرنا۔ ‘‘ حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : حضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے غابہ کی زمین ایک لاکھ ستر ہزار میں خریدی تھی۔ اسے حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے سولہ لاکھ میں فروخت کیاپھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کھڑے ہوئے اور کہا کہ ’’سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر جس کا بھی قرض ہے وہ ہم سے غابہ میں آکر لے لے۔ ‘‘ ان کے پاس حضرت سیدنا عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آئے ، حضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر ان کا چار لاکھ قرض تھا ، انہوں نے حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا : ’’اگر تم چاہو تو میں اس قرض کو معاف کر دیتا ہوں ۔ ‘‘ حضرت سیدنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا : ’’ نہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا : ’’اگر تم چاہو تو میں تمہیں مہلت دے دیتا ہوں ۔ ‘‘ کہا : ’’نہیں۔ ‘‘ تو انہوں نے پھر کہا : ’’مجھے (زمین کا)ایک حصہ دے دو۔ ‘‘حضرت سیدنا ابنِ زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا : ’’یہاں سے لیکر یہاں تک تمہارا ہے۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نےمکانات اور غابہ کی زمین میں سے کچھ فروخت کرکے اپنے والد کا سارا قرضہ اتار دیا۔ اب غابہ کی زمین کے ساڑھے چار حصے باقی تھےچنانچہ وہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آئے ، اس وقت ان کے پاس عَمرو بن عثمان ، منذر بن زبیر اور ابن زمعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم بیٹھے ہوئے تھے۔ سیدنا معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان سے پوچھا : ’’غابہ کی کیا قیمت طے ہوئی ہے؟‘‘ حضرت سیدنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواب دیا : ’’ہر حصہ ایک لاکھ کا ہے۔ ‘‘سیدنا معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پوچھا : ’’کتنے حصے باقی ہیں؟‘‘ کہا : ’’ساڑھے چار حصے۔ ‘‘منذر بن زبیر نے کہا : ’’میں نے ایک حصہ ایک لاکھ میں خریدا۔ ‘‘عَمرو بن عثمان نے کہا : ’’میں نےبھی ایک حصہ ایک لاکھ میں خریدا۔ ‘‘ پھر حضرت سیدنا ابنِ زمعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا : ’’ایک حصہ میں نے بھی ایک لاکھ میں خریدا۔ ‘‘پھر حضرت سیدنا معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پوچھا : ’’اب کتنا حصہ باقی رہ گیا ہے؟‘‘ کہا : ’’ڈیڑھ حصہ۔ ‘‘فرمایا : ’’میں نے وہ ڈیڑھ لاکھ میں خریدا۔ ‘‘ راوی کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنا حصہ حضرت سیدنا معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو چھ لاکھ میں بیچ دیا۔

جب حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قرض کی ادائیگی سے فارغ ہوگئے توحضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی اولاد نے ان سے کہا : ’’اب ہماری میراث ہم میں تقسیم کرو۔ ‘‘ حضرت سیدنا عبداللہ نے کہا : ’’میں ہر گز تمہیں تقسیم نہیں کروں گا جب تک کہ چار سال تک حج کے ایام میں یہ اعلان نہ کروں کہ جس کا بھی حضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر قرض ہے وہ ہمارے پاس آئے ہم اسے دیں گے۔ ‘‘ پھر حضرت سیدنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہر سال حج کے ایام میں یہی اعلان کرتے ، جب چار سال گزر گئے تو انہوں نے سیدنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مال اُن کے ورثاء میں تقسیم کردیا ۔ حضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی چار اَزواج تھیں(قرضہ ادا کرنے کے بعداور)ایک تہائی علیحدہ کرنے کے بعد ہر زوجہ کو 12لاکھ ملے ، یوں حضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کل تَرکہ 52لاکھ ہوا۔
علامہ نووی اس حدیث کوامانت کے باب میں لے کر آئے کیونکہ اس میں امانت کی حفاظت کا ذکر ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس لوگ امانت رکھواتے تھے تو آپ اس مال کی حفاظت کی غرض سے اس مال کو بطورِ قرض لیتے تھے۔

عَنْ اَبِیْ خُبَیْبٍ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَامِ الْقُرَشیِّ الْاَسَدِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَمَّا وَقَفَ الزُّبَيْرُ يَوْمَ الْجَمَلِ دَعَانِي فَقُمْتُ اِلَى جَنْبِهِ فَقَالَ : يَا بُنَيَّ اِنَّهُ لَا يُقْتَلُ الْيَوْمَ اِلَّا ظَالِمٌ اَوْمَظْلُومٌ وَ اِنِّي لَا اُرَانِيْ اِلَّا سَاُقْتَلُ الْيَوْمَ مَظْلُومًا وَاِنَّ مِنْ اَكْبَرِ هَمِّي لَدَيْنِي اَفَتَرَى دَيْنَنَا يُبْقِي مِنْ مَالِنَا شَيْئًا؟ ثُمَّ قَالَ : يَا بُنَيَّ بِعْ مَالَنَا وَاقْضِ دَيْنِي وَاَوْصَى بِالثُّلُثِ وَثُلُثِهِ لِبَنِيْهِ يَعْنِي لِبَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ثُلُثُ الثُّلُثِ قال : فَاِنْ فَضَلَ مِنْ مَالِنَا بَعْدَ قَضَاءِ الدَّيْنِ شَيْءٌ فَثُلُثُهُ لِبَنِیْکَ قَالَ هِشَامٌ : وَكَانَ بَعْضُ وَلَدِ عَبْدِ اللَّهِ قَدْ وَازَى بَعْضَ بَنِي الزُّبَيْرِ خُبَيْبٍ وَعَبَّادٍوَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَةُ بَنِيْنَ وَتِسْعُ بَنَاتٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَجَعَلَ يُوصِيْنِي بِدَيْنِهِ وَيَقُوْلُ : يَا بُنَيِّ اِنْ عَجَزْتَ عَنْ شَيْءٍ مِنْہُ فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ بِمَوْلَايَ. قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا دَرَيْتُ مَا اَرَادَ حَتَّى قُلْتُ : يَا اَبَتِ مَنْ مَوْلَاكَ؟ قَالَ : اللَّهُ. قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا وَقَعْتُ فِي كُرْبَةٍ مِنْ دَيْنِهِ اِلَّا قُلْتُ : يَا مَوْلَى الزُّبَيْرِ اقْضِ عَنْهُ دَيْنَهُ فَيَقْضِيَهُ قَالَ : فَقُتِلَ الزُّبَيْرُ وَلَمْ يَدَعْ دِيْنَارًا وَلَا دِرْهَمًا اِلَّا اَرَضِيْنَ مِنْهَا الْغَابَةُ وَ اِحْدَى عَشَرَةَ دَارًا بِالْمَدِيْنَةِ وَدَارَيْنِ بِالْبَصْرَةِ وَدَارًابِالْكُوْفَةِ وَدَارًا بِمِصْرَ. قَالَ : وَاِنَّمَا كَانَ دَيْنُهُ الَّذِي کاَنَ عَلَيْهِ اَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَاْتِيْهِ بِالْمَالِ فَيَسْتَوْدِعُهُ اِيَّاهُ فَيَقُوْلُ الزُّبَيْرُ : لَا وَلٰكِنْ ہُوَسَلَفٌ اِنِّي اَخْشَى عَلَيْهِ الضَّيْعَةَ. وَمَا وَلِيَ اِمَارَةً قَطُّ وَلَا جِبَايَةً وَلَاخَرَاجًا وَلَا شَيْئًا اِلَّا اَنْ يَّكُونَ فِي غَزْوٍ مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَوْ مَعَ اَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَحَسَبْتُ مَاکان عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ فَوَجَدْتُهُ اَلْفَيْ اَلْفٍ وَ مَائَتَيْ اَلْفٍ!فَلَقِيَ حَكِيْمُ بْنُ حِزَامٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ : يَا ابْنَ اَخِي كَمْ عَلَى اَخِي مِنَ الدَّيْنِ؟ فَكَتَمْتُهُ وَقُلْتُ : مِائَةُ اَلْفٍ.فَقَالَ حَكِيمٌ : وَاللَّهِ مَا اَرَى اَمْوَالَكُمْ تَسَعُ هٰذِهِ! فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : اَرَاَيْتَكَ اِنْ كَانَتْ اَلْفَيْ اَلْفٍ

وَمَائَتَيْ اَلْفٍ؟ قَالَ : مَا اَرَاكُمْ تُطِيْقُوْنَ هٰذَا فَاِنْ عَجَزْتُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَاسْتَعِيْنُوْا بِي.قَالَ : وَكَانَ الزُّبَيْرُ قَدِاشْتَرَى الْغَابَةَ بِسَبْعِيْنَ وَمِائَةِ اَلْفٍ فَبَاعَهَا عَبْدُ اللَّهِ بِاَ لْفِ اَلْفٍ وَسِتِّ مِائَةِ اَلْفٍ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ : مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ شَیْءٌ فَلْيُوَافِنَا بِالْغَابَةِ فَاَ تَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَكَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ اَرْبَعُ مِائَةِ اَلْفٍ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ : اِنْ شِئْتُمْ تَرَكْتُهَا لَكُمْ ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَا ، قَالَ : فَاِنْ شِئْتُمْ جَعَلْتُمُوهَا فِيمَا تُؤَخِّرُوْنَ اِنْ اَخَّرْتُمْ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَا ، قَالَ : فَاقْطَعُوْا لِیْ قِطْعَةً قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَكَ مِنْ هٰهُنَا اِلَى هٰهُنَا. فَبَاعَ عَبْدُاللہِ مِنْهَا فَقَضٰى عَنْهُ دَیْنَہُ وَاَوْفَاهُ وَبَقِيَ مِنْهَا اَرْبَعَةُ اَسْهُمٍ وَنِصْفٌ فَقَدِمَ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ وَالْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : كَمْ قُوِّمَتِ الْغَابَةُ؟ قَالَ : كُلُّ سَهْمٍ بِمِائَةِ اَلْفٍ قَالَ : كَمْ بَقِيَ مِنْہَا؟ قَالَ : اَرْبَعَةُ اَسْهُمٍ وَنِصْفٌ فَقَالَ الْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ : قَدْ اَخَذْتُ مِنْہَاسَهْمًا بِمِائَةِ اَلْفٍ.قَالَ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ : قَدْ اَخَذْتُ مِنْہَاسَهْمًا بِمِائَةِ اَلْفٍ.وَقَالَ ابْنُ زَمْعَةَ : قَدْ اَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ اَلْفٍ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : كَمْ بَقِيَ؟ قَالَ : سَهْمٌ وَنِصْفُ سَہْمٍ ، قَالَ : قَدْ اَخَذْتُهُ بِخَمْسِينَ وَمِائَةِ اَلْفٍ.قَالَ : وَبَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ نَصِيبَهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ بِسِتِّ مِائَةِ اَلْفٍ.فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ قَضَاءِ دَيْنِهِ قَالَ بَنُو الزُّبَيْرِ : اَقْسِمْ بَيْنَنَا مِيْرَاثَنَا. قَالَ : وَاللَّهِ!لَا اَقْسِمُ بَيْنَكُمْ حَتَّى اُنَادِيَ بِالْمَوْسِمِ اَرْبَعَ سِنِيْنَ اَلَا مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ دَيْنٌ فَلْيَاَتِنَا فَلْنَقْضِهِ. فَجَعَلَ كُلَّ سَنَةٍ يُنَادِي فیِ الْمَوْسِمِ ، فَلَمَّا مَضَى اَرْبَعُ سِنِيْنَ قَسَمَ بَيْنَهُمْ وَدَفَعَ الثُّلُثَ. وَکَانَ لِلزُّ بَیْرِ اَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَاَصَابَ كُلَّ امْرَاَةٍ اَلْفُ اَلْفٍ وَمِائَـتَا اَلْفٍ فَجَمِيْعُ مَالِهِ خَمْسُوْنَ اَلْفَ اَلْفٍ وَمِائَـتَا اَلْفٍ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 202 ، امانت کی ادائیگی کے احکام