Main Icon

امانت کی ادائیگی کے احکام - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 200

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْیَمَانِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ قَدْرَاَيْتُ اَحَدَهُمَاوَاَنَا اَنْتَظِرُ الْاٰخَرَ : حَدَّثَنَا اَنَّ الْاَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوْبِ الرِّجَالِ ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْاٰنُ فَعَلِمُوْا مِنَ الْقُرْاٰنِ وَ عَلِمُوْا مِنَ السُّنَّةِ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الْاَمَانَۃِ فقَالَ : ’’ يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْاَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَظَلُّ اَثَرُهَا مِثْلَ الْوَكْتِ ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْاَمَانَۃُ مَنْ قَلْبِہِ فَيَظَلُّ اَثَرُهَا مِثْلَ اَثْرِ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيْهِ شَيْءٌ‘‘ثُمَّ اَخَذَ حَصَاۃً فَدَحْرَجَھَا عَلَی رِجْلِہِ’’فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُوْنَ فَلَا يَكَادُ اَحَدٌ يُؤَدِّي الْاَمَانَةَ حَتَّی يُقَالَ : اِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا اَمِيْنًا حَتّٰی يُقَالَ لِلرَّجُلِ : مَا اَجْلَدَہُ مَا اَظْرَفَهُ مَا اَعْقَلَہُ !وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ اِيْمَانٍ وَلَقَدْ اَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا اُبَالِي اَيَّكُمْ بَايَعْتُ؟ لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَیَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِیْنُہُ وَلَئِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا اَوْیَہُوْدِیًّا لَیَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيْهِ وَاَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ اُبَايِعُ مِنْکُمْ اِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا‘‘.( )

عن حذيفة بن الیمان رضی اللہ عنہ قال : حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثين قدرايت احدهماوانا انتظر الاخر : حدثنا ان الامانة نزلت في جذر قلوب الرجال ثم نزل القران فعلموا من القران و علموا من السنة ثم حدثنا عن رفع الامانۃ فقال : ’’ ينام الرجل النومة فتقبض الامانة من قلبه فيظل اثرها مثل الوكت ثم ينام النومة فتقبض الامانۃ من قلبہ فيظل اثرها مثل اثر المجل كجمر دحرجته على رجلك فنفط فتراه منتبرا وليس فيه شيء‘‘ثم اخذ حصاۃ فدحرجھا علی رجلہ’’فيصبح الناس يتبايعون فلا يكاد احد يؤدي الامانة حتی يقال : ان في بني فلان رجلا امينا حتی يقال للرجل : ما اجلدہ ما اظرفه ما اعقلہ !وما في قلبه مثقال حبة من خردل من ايمان ولقد اتى علي زمان وما ابالي ايكم بايعت؟ لئن كان مسلما لیردنه علي دینہ ولئن كان نصرانيا اویہودیا لیردنه علي ساعيه واما اليوم فما كنت ابايع منکم الا فلانا وفلانا‘‘.( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناحُذیفہ بن یمانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں دوحدیثیں بیان فرمائیں ان میں سے ایک کو میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہم سے بیان فرمایا کہ : ’’ امانت لوگوں کے دلوں کی جڑ میں نازل ہوئی ، پھرقرآن نازل ہوا تو لوگوں نے (امانت کو)کچھ قرآن سے جانا اور کچھ سنت سے۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں امانت کے اُٹھ جانے کے بارے میں بیان فرمایا : ’’ایک آدمی تھوڑی دیر کے لیے سوئے گا تو اس کے دل سے امانت نکال لی جائے گی اور اس کا ہلکا سااثر باقی رہ جائے گا پھروہ تھوڑی دیر کے لیے سوئے گا تو اس کے دل سے امانت نکال لی جائے گی تواب اس کا اثر چھالے کی مثل رہ جائے گا جیسا کہ تو اپنے پاؤں پر انگارہ ڈالے تو اس سے چھالا پڑجائےتو تُو اسے اُبھرا ہوادیکھے گا لیکن اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چندکنکریاں لیں اور انہیں اپنے پاؤں مبارک پر ڈالا اورارشادفرمایا : ’’لوگ صبح کے وقت خریدو فروخت کریں گے لیکن ایک بھی شخص امانت ادا کرنے والا نہ ہوگا ، یہاں تک کہ کہاجائے گا کہ : فلاں قبیلے میں ایک امانت دار شخص ہےاور اس کے بارے میں کہاجائے گا ، کہ وہ شخص کس قدر طاقتور ، ہوشیاراورعقلمند ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔ ‘‘(راوی کہتے ہیں )اورمجھ پر ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ میں یہ پرواہ نہ کرتا تھاکہ میں کس سے خریدوفروخت کررہاہوں ، اگر وہ مسلمان ہے تو اس کا دین ضروراسے میری طرف لوٹا دے گا اور اگر وہ عیسائی یا یہودی ہے تو اس کا والی ضروراسے میری طرف لوٹادے گا۔ بہرحال آج کل میں تم میں سے صرف فلاں فلاں سے ہی خریدوفروخت کرتا ہوں۔

شرح حدیث

امانت اٹھائے جانے سے مراد:حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امانت کے اُٹھ جانے کے بارے میں بیان فرمایا کہ ’’امانت اٹھالی جائے گی۔ ‘‘عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’یعنی پہلے ایک قوم سے پھر دوسری قوم سے ، پہلے کچھ حصہ پھر کچھ حصہ ، ایک وقت میں کچھ پھر دوسرے وقت میں کچھ لوگوں کے دین میں کمی اور فساد کے حساب سے اور پھر امانت کا اثر یعنی ہلکا سا نشان رہ جائے گا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ دل امانت

سے خالی ہوجائیں گے اس طرح کہ امانت تھوڑی تھوڑی کر کے ان میں سے ختم ہوجائے گی پس جب اس کا ایک جزء زائل ہوجائے گا تو اس کا نور ختم ہوجائے گا اور اس کے بعد اندھیرا رہ جائے گاجیساکہ نقطہ ہو۔ ( )
نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی:عَلَّامہ اِبْنِ بَطّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں : ’’یہ حدیث پاک نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کیونکہ اس میں لوگوں کے دِین کے فساد اور آخری زمانے میں اُن کی امانتوں کی کمی کے بارے میں خبر دی گئی ہےاور ان دونوں کی معرفت صرف وحی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ اسلام ابتدامیں اجنبی تھا اور عنقریب یہ اجنبی ہوجائے گا جیسا کہ ابتدا میں تھا۔ حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ارشاد فرمایا : ’’اے عبداللہ! تمہارا اُس وقت کیا حال ہوگا جب تم بےکار لوگوں میں باقی رہ جاؤ گےجن کے عہدوپیمان اور امانتیں گڑبڑ ہوں گی اور آپس میں اختلاف کریں گےتو اس طرح ہوجائیں گے۔ ‘‘ یہ کہہ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں۔ حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اُس وقت آپ مجھے کیا حکم ارشاد فرماتے ہیں؟‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’تم خاص اپنی ذات کی فکر رکھو اور عوام کو چھوڑ دو۔ ‘‘( )انگارے سے تشبیہ دینے کی وجہ:مذکورہ حدیث پاک میں امانت کے دل میں داخل ہونے پھر نکل جانے اور اس کے بعد اندھیرا چھاجانے کو اس جلتے ہوئے انگارے سے تشبیہ دی جس کو پاؤں پر لڑھکایا جائے وہ لڑھکتا ہوا گر جاتا ہے اور پاؤں پر ا ثر چھوڑ جاتاہےاس کی شرح کرتے ہوئے اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’جس طرح ایک جلتے ہوئے انگارے کو پاؤں پر لڑھکایا جائے تو وہ لڑھکتا ہوا گر جاتا ہے اور پاؤں پر اثر چھوڑ

جاتا ہے اور پھر وہ ایک چھالا بن جاتا ہےاسی طرح امانت دل میں داخل ہوگی اور پھر دل میں استقرار پکڑنے کے بعدزائل ہوجائے گی اور پھر دل میں اندھیرا چھاجائے گا اور اس کے بعد ہلکا سا نشان رہ جائے گا۔ ( )
خریدوفروخت میں پرواہ نہ کرنے کے معنٰی:علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُناحذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جو کہا کہ’’ پہلے میں پروا ہ نہ کرتا تھا کہ میں کس سے خرید و فروخت کررہاہوں لیکن اب میں فلاں فلاں سے ہی سودا کرتا ہوں۔ ‘‘مطلب یہ ہے کہ ’’میں جانتا تھا کہ ابھی امانت نہیں اٹھائی گئی اور لوگوں میں دیانتداری موجود ہے تو میں جانچ پڑتال کئے بغیر لوگوں سے خرید وفروخت کرلیتا تھا کیونکہ اگر وہ مسلمان ہے تو اس کا دین اور امانتداری اسے خیانت کرنے سے روکے گی اور اسے امانت کی ادائیگی پر اُبھارے گی اوراگر وہ کافر ہےتو اس کا حاکم اس سے امانت قائم کروائے گا اور اس سے میرا حق نکلوا دے گا۔ بہرحال آج کے زمانے میں امانت اُٹھالی گئی ہے اب مجھے لوگوں پر اعتبار نہیں ہے اور نہ ہی کافروں کے والی پر کہ وہ میرا حق دلوائیں گے لہذ ا اب میں ان ہی سے خریدوفروخت کرتا ہوں جن کو میں جانتاہوں اور جن پرمیں اعتبار کرتاہوں۔ ‘‘( )حدیث پاک سے ماخوذ چند مسائل:مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتْ مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان نے مذکورہ بالا حدیث پاک کی شرح میں کئی مفید باتیں اور مسائل تحریر فرمائے ہیں ، چند مسائل پیش خدمت ہیں :٭∞ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فتنوں کے زمانوں میں امانت کے متعلق دو چیزیں ارشاد فرمائیں : نزول امانت کی بھی خبر دی اور اس امانت کے اٹھ جانے کی بھی خبر دی ۔٭∞ ’’امانت لوگوں کے دلوں کے درمیان نازل ہوئی۔ ‘‘یہاں امانت سے مراد یاتو ایمان ہے یا شرعی احکام۔ رب تعالیٰ ارشاد فرماتاہے : ¬ (اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ) ممکن ہے کہ اس سے مراد دیانتداری

ہو جو خیانت کی مقابل ہے۔
٭∞ ’’ لوگوں نے کچھ قراٰن سے جانا اور کچھ سنت سے۔ ‘‘اس سے معلوم ہوا کہ دلوں میں توفیق خیرپہلے ہوتی ہےقرآن وحدیث کاسیکھنا عمل کرنا بعد میں میسر ہوتا ہے یہ وہ چیزیں ہیں جو ہم نے دیکھ لیں۔٭∞ آخرزمانہ میں روشنی ایمان دلو ں سے نکل جائے گی جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ لو گ قر آن و سنت پڑھنا اور ان پر عمل کرنا چھو ڑدیں گے۔٭∞ ’’آدمی سوئے گاتو اس کے دل سے امانت نکال لی جائے گی۔ ‘‘ظاہریہ ہے کہ یہاں سو نے سے مراد علم دین سے غفلت کرنا ہے اور نومۃ سے مراد معمولی غفلت ہے۔ اس لیےکہ اس سے پہلے قرآن وسنت کے علم کا ذکر ہوا۔ یعنی لوگ علم دین سے معمولی غفلت کریں گے تو اس کا نتیجہ وہ ہوگا جو یہاں مذکور ہے۔ اور ہوسکتا ہے کہ’’نوم‘‘سے مراد سونا ہی ہو تو مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے انقلاب کا حال یہ ہوگا کہ ابھی سونے سے پہلے دل کا اور حال تھا اور سوتے ہی کچھ اورہوگیا۔٭∞ “ امین آدمی کے دل سے امانت ختم ہوجائے گی مگر کچھ اثر باقی رہے گا۔ “ یعنی لوگوں کے دلوں سے امانت آہستہ آہستہ اٹھے گی ، ایک بار غفلت میں امانت جائے گی دل میں خیانت آئے گی مگر معمولی جیسے چھالا۔ دوبارہ غفلت میں یہ خیانت دل میں سخت ہوجائے گی جیسے کام کرنے والوں کے ہاتھ کے سخت آبلے۔ اگر کسی کا عضو معمولی چنگاری سے جل جائے وہاں چھالا پڑ جائے تو چھالا اُبھرا ہوا معلوم ہوتا ہے مگر اس میں سِواگندے پانی کے ہوتا کچھ نہیں۔ یوں ہی اس زمانہ کے لوگ لباس و شکل میں بہت اچھے دکھائی دیں گے مگر ان کے دلوں میں خیر نہ ہوگی برائی ہی ہوگی۔٭∞ ’’لوگ صبح کے وقت خریدوفروخت کریں گے لیکن ایک بھی شخص امانت ادا کرنے والا نہ ہوگا۔ ‘‘یعنی وہ لوگ آپس میں خرید و فروخت اور دوسرے مالی معاملات کریں گے مگر امین نہ ہوں گے تجارتوں میں خیانت ملاوٹ سب ہی کچھ کریں گے اپنی زبان پر قائم نہ رہیں گے۔٭∞ ’’یہاں تک کہ کہاجائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار شخص ہے۔ ‘‘یعنی امین آدمیوں کی اتنی کمی ہوجائے گی کہ اگر کسی شہر کسی قبیلہ میں کوئی ایک امین ہوگا تو لوگ دُور دُور تک اُس کا چرچہ کریں گے

کہ اس علاقے میں صرف وہ شخص امین ہے۔ یعنی آخر زمانہ میں لوگوں کی چالاکی ، دنیاکمانا ، چست و چالاکی ہونے کی تو تعریف ہوگی ، مگر اس کے دین تقویٰ امانت کا ذکر بھی نہ کیا جائے گا وہ ہوگا بے ایمان خائن۔ جیسا کہ آج کل عام چودھریوں ، نمبرداروں ، دنیا داروں میں دیکھا جاتا ہے۔ ہاں بعض اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقبول بھی ہوتے ہیں مگر تھوڑے۔ ( )
مدنی گلدستہ
’’امانت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) امانت سے مراد فرائض ہیں یا وہ اُمور جن کے کرنے کا حکم دیا گیا اور جن سے منع کیا گیا یا پھر ایمان ہے یا شرعی اَحکام امانت ہیں۔
(2) صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے دور میں امانت نہیں اٹھائی گئی تھی جب ہی تو حضرت سیدنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ ’’پہلے میں جانچ پڑتال کئے بغیر خریدو فروخت کرلیتا تھا۔ ‘‘
(3) آخری دور میں لوگوں کے دلوں سے امانت اٹھالی جائے گی۔
(4) جیسے جیسے لوگوں کے دین میں کمی آتی جائے گی ویسے ویسے ہی امانت بھی اٹھتی چلی جائے گی یہاں تک کہ لوگوں کے دلوں میں امانت کا اثر یعنی ہلکا سا نشان رہ جائے گا۔
(5) اس حدیث سے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علم غیب کا بھی ثبوت ملتا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آخری زمانے کی خبر پہلے ہی ارشاد فرمادی۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سےدعا ہے کہ وہ ہمیں امانت میں خیانت سے محفوظ فرمائے ، دونوں جہاں کی بھلائیاں عطا فرمائے ، ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 200