Main Icon

باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 738

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّه صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:اِذَا دُعِيَ اَحَدُكُمْ،فَلْيُجِبْ، فَاِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ،وَاِنْ كانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:اذا دعي احدكم،فليجب، فان كان صائما فليصل،وان كان مفطرا فليطعم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرے اوراگر وہ روزہ دارہو تو (میزبان کے لئے) دعا کرےاور اگر روزہ دار نہ ہو تو کھانا کھا لے۔ ‘‘

شرح حدیث

شریعت میں اِحترامِ مسلم کی پاسداری:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’فَلْيُصَلِّکے معنی میں اختلاف ہے، جمہورعلما فرماتے ہیں:اس کا معنی یہ ہے کہ مہمان(اگر روزہ دار ہو یا کسی اور وجہ سے کھانا نہ کھا سکتا ہو تو) میزبان کے لئے دعائے مغفرت و دعائے برکت کرے کیونکہاَلصَّلَاۃکا لغوی معنی دعا ہے اورفَلْيُصَلِّکا یہ بھی معنی بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد رکوع و سجود والی شرعی نما زہے(کہ مہمان اگر روزہ دار ہو اور کھانا نہ کھانا چاہتا ہو تو میزبان کے گھر نفل)نما ز پڑھے تا کہ اہلِ خانہ و حاضرین کے لئے فضل و برکت نازل ہو۔
فیضان سنت،جلداول،ص1078پرہے:’’نَفْل روزہ بِلا عذر توڑ دینا ناجائز ہے۔مہمان کے ساتھ اگر میزبان نہ کھائے گا تَو اُسے ناگوار ہوگا یا مہمان اگر کھانا نہ کھائے گا تَو میزبان کو اَذِیَّت ہوگی تو نَفْل روزہ توڑ دینے کے لئے یہ عذر ہےبَشَرطیکہ یہ بَھروسہ ہو کہ اِس کی قَضا رکھ لے گا اور
ضَحْوَۂ کُبریٰ(یعنی زوال)سے پہلے توڑدے بعد کو نہیں۔دعوت کے سببضَحْوَۂ کُبریٰسے پہلے (نفل)روزہ توڑ سکتا ہے جبکہ دعوت کرنے والا محض اس کی موجودگی پر راضی نہ ہو اور اس کے نہ کھانے کے سبب ناراض ہو بشرطیکہ یہ بھروسہ ہو کہ بعد میں رکھ لے گا،لہٰذا اب روزہ توڑ لے اور اس کی قضا رکھے۔ لیکن اگر دعوت کرنے والا محض اس کی موجودگی پر راضی ہوجائے اور نہ کھانے پر ناراض نہ ہو تو روزہ توڑنے کی اجازت نہیں ہے۔نَفْل روزہ زَوَال کے بعد ماں باپ کی ناراضی کے سَبَب توڑ سکتا ہے اور اِس میں عَصْر سے پہلے تک توڑ سکتا ہے بعدِ عَصْر نہیں۔‘‘مدنی گلدستہ’’ روزہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) مسلمان بھائی کی دعوت کو اس کی دل جوئی کیلئے عذر نہ ہونے کی صورت میں قبول کرلینا چاہیے۔
(2) میزبان کی ناراضگی ودل آزاری کی صورت میں نفلی روزہ توڑناجائز ہےاور اس کی قضا واجب ہے۔
(3) میزبان کی دِل آزاری سے بچنے کیلئے چاہیے کہ میزبان کے لئے دعائے خیرکرے وہاں کچھ دیر نماز پڑھ لے اس سے میزبا ن بھی خوش ہوجائے گا اور روزہ بھی نہ توڑنا پڑے گا۔
(4) ماں باپ کی ناراضگی کے سَبَب نفل روزہ عصرسے قبل توڑ ا جاسکتا ہے بعد میں نہیں ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعاہےکہ وہ ہمیں اِحترامِ مسلم کی توفیق عطا فرمائے اور مسلمانوں کی دل آزاری کرنے سے محفوظ فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 738