Main Icon

باب:روزے کے مسائل کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1242

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا نَسِيَ اَحَدُكُمْ فَاَكَلَ اَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَاِنَّمَا اَطْعَمَهُ اللهُ وَسَقَاهُ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: اذا نسي احدكم فاكل او شرب فليتم صومه فانما اطعمه الله وسقاه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جب تم میں سے کوئی روزے کی حالت میں بھول کر کھا پی لے تو اسے روزہ پورا کرنا چاہیے کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے اسے کھلایا اور پلایا ہے۔“

شرح حدیث

بھول،خطا اور عمد اً کھانے پینے میں فرق:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیثِ مذکور کی شرح میں فرماتے ہیں:
*”یہ حکم فرض و نفل تمام روزوں کے لیے ہے کہ ان میں بھول کر کھا پی لینے سے روزہ نہیں جاتا۔
*بھول یہ ہے کہ روزہ یاد نہ رہے اور کھانا پینا ارادۃً ہو اس میں نہ قضا ہے نہ کفارہ۔
*خطا(غلطی) یہ ہے کہ روزہ یاد ہو مگر بغیر ارادہ پانی حلق سے اتر جائے جیسے کلی یا غرارہ کرتے وقت اس میں قضا ہےکفارہ نہیں۔
*عَمَد(جان بوجھ کر)یہ ہے کہ روزہ بھی یاد ہو کھانا پینا بھی اِرادۃً ہو اس میں قضا بھی ہے کفارہ بھی، جماع بھی کھانے پینے کے حکم میں ہے۔ لہٰذا اگر روزہ دار بھول کر صحبت کرلے تو بھی روزہ نہیں جائے گا،یہ ہی احناف کا مذہب ہے۔
*(حدیث میں لفظ)
فَلْيُتِمَّ(بھول کر کھاپی لینے والے کو چاہیے کہ روزہ پورا کرے اس) امرسے معلوم ہوتا ہے کہ نفلی روزہ شروع کردینے سے فرض ہوجاتا ہے اس کا پورا کرنا فرض ہے۔یہ بھول ربّ تعالیٰ کی رحمت ہے،اس نےچاہا کہ میرا بندہ کھا پی بھی لے اور اس کا روزہ بھی ہوجائے۔ خیال رہے کہ ہماری بھول چوک غفلت و کمزوری کی بنا پر ہوتی ہے مگر اس پر معافی دینا رب تعالیٰ کی طرف سے ہے لہٰذا حدیث پر یہ ا عتراض نہیں کہ بھول تو شیطانی اثر سے ہے۔صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”بھول کر کھایا یا پیایا جماع کیا روزہ فاسد نہ ہوا۔ خواہ وہ روزہ فرض ہو یا نفل اورروزہ کی نیّت سے پہلے یہ چیزیں پائی گئیں یا بعد میں،مگر جب یاد دلانے پر بھی یاد نہ آیا کہ روزہ دار ہے تو اب فاسد ہو جائے گا، بشرطیکہ یاد دلانے کے بعد یہ اَفعال واقع ہوئے ہوں مگراس صورت میں کفارہ لازم نہیں۔ کسی روزہ دار کو ان افعال میں(یعنی بھول کر کھاتے پیتے) دیکھے تو یاد دلانا واجب ہے، یاد نہ دلایا تو گنہگار ہوا، مگر جب کہ وہ روزہ دار بہت کمزور ہو کہ یاد دلائے گا تو وہ کھانا چھوڑ دے گا اور کمزوری اتنی بڑھ جائے گی کہ روزہ رکھنا دشوار ہوگا اور کھا لے گا تو روزہ بھی اچھی طرح پورا کر لے گا اور دیگر عبادتیں بھی بخوبی ادا کر لے گا تو اس صورت میں یاد نہ دلانا بہتر ہے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1242