Main Icon

باب:روزے کے مسائل کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1245

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ واُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتَا: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُباً مِّنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُوْمُ.

عن عائشة وام سلمة رضي الله عنهما قالتا: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصبح جنبا من غير حلم ثم يصوم.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ اور اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سلمہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:”ایسابھی ہوتا کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماحتلام کے بغیر جنابت کی حالت میں صبح کرتے پھر روزہ رکھتے۔“

شرح حدیث

روزہ میں جُنبی رہنا روزہ کو فاسد نہیں کرتا:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: ”(کبھی ایسا بھی ہوتا کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحالت جنابت میں صبح فرماتے)اس طرح کہ نمازِ تہجد کے بعد اپنی ازواجِ مُطَہَّرَات سے مُقَارَبت فرماتے اور فوراً غسل نہ فرماتے تھے بلکہ نمازِ فجر کے وقت پوپھٹنے کے بعدکیونکہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمپر نمازِ تہجد فرض تھی جس کی بہت پابندی فرماتے تھے خصوصاً رمضان شریف میں۔تمام علما کا اس پر اتفاق ہے کہ انبیاءِ کرام کو خواب سے اِحتلام نہیں ہوسکتا کیونکہ احتلام شیطانی اثر سے ہوتا ہے کہ ابلیس عورت کی شکل میں خواب میں آتا ہے اور یہ حضرات اس کے اثر سے محفوظ ہیں بلکہ جو بیبیاں حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے نکاح میں آنے والی ہوتی ہیں انہیں بھی کبھی خواب سے احتلام نہیں ہوتا ، ہاں! اس میں اختلاف ہے کہ بغیر خواب نیند میں انہیں اِنزال ہوسکتا ہے یا نہیں یعنی زیادتیٔ منی کے باعث۔حق یہ ہے کہ وہ حضرات اِس سے بھی محفوظ ہیں۔یہاں حضرت اُمُّ المؤمنین کا(حدیث میں)مِنْ غَیْرِحُلْمٍفرمانا یہ بتانے کے لیے ہے کہ حضور انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی جنابت مُقاربت سے ہوتی تھی یہ مَنشاء نہیں کہ وہاں احتلام کا امکان ہے۔ حضرت اُمُّ المؤمنین کا مقصد یہ ہے کہ حضور انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّممُخالطت(میل ملاپ)سے ہی جُنبی ہوتے تھے نہ کہ احتلام سے کہ وہاں احتلام کا تو ا مکان ہی نہیں۔اس (حدیث)سے معلوم ہوا کہ روزے کے بعض حصہ میں جنبی رہنا روزہ کو فاسد نہیں کرتا خواہ روزہ فرض ہویا نفل،یہ قول صحیح ہے۔“صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جنابت کی حالت میں صبح کی بلکہ اگرچہ سارے دن جنب رہا روزہ نہ گیا مگر اتنی دیر تک قصداً غسل نہ کرنا کہ نماز قضا ہو جائے گناہ و حرام ہے۔ حدیث میں فرمایا: کہ جنب جس گھر میں ہوتا ہے، اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔“مدنی گلدستہ’’شبِ قدر ‘‘کے5حروف کی نسبت سے مذکورہ اَحادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) حضورِ انور
صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمپر نمازِ تہجد فرض تھی جس کی بہت پابندی فرماتے ۔
(2) تمام علما کا اس پر اتفاق ہے کہ انبیاءِ کرام
عَلَیْہِمُ السَّلَامکو خواب سے احتلام نہیں ہوسکتا کیونکہ احتلام شیطانی اثر سے ہوتا ہے۔
(3) جو بیبیاں نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نکاح میں آئیں انہیں بھی کبھی احتلام نہیں ہوا۔
(4) روزہ دار نے جنبی ہونے کی حالت میں صبح کی یا سارا دن جنبی رہا تو بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔
(5) جنبی کا اتنی دیر تک جان بوجھ کر غسل نہ کرنا کہ نماز قضا ہو جائے گناہ و حرام ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اَحکامِ شرعیہ سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1245