Main Icon

باب:روزے کے مسائل کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1243

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ لَقِيْـطِ بْنِ صَبِرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُوْلَ الله اَخْبِرْ نِيْ عَنِِ الْوُضُوْ ء ِقَالَ: اَسْبِغِ الْوُضُوْ ءَ وَ خَلِّلْ بَيْنَ الْاَصَابِعِ وَ بَالِغْ فِي الْاِسْتِنْشَاقِ اِلَّا اَنْ تَكُوْنَ صَائِماً.

عن لقيـط بن صبرة رضي الله عنه قال : قلت : يا رسول الله اخبر ني عن الوضو ء قال: اسبغ الوضو ء و خلل بين الاصابع و بالغ في الاستنشاق الا ان تكون صائما.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا لقیط بن صَبِرَہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:”یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے وضو کے متعلق بتایئے۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ” کامل وضو کرو،انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں اچھی طرح پانی ڈالوجبکہ روزہ دار نہ ہو۔“

شرح حدیث

روزہ میں بھی ناک کے بانسے تک پانی پہنچایا جائے:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: ” اعضا پورے دھوؤ اور تین تین بار دھوؤ ہاتھوں اورپاؤں کی انگلیوں میں خلال کرو،اگر پاؤں کی انگلیاں چپٹی ہوئی ہوں کہ بغیر خلال ان میں پانی نہ پہنچے تو خلال ضروری ہے،ورنہ سنت۔حق یہ ہے کہ ہاتھوں کی انگلیوں میں بھی خلال کرنا چاہیے،اس خلال میں چھنگلی شرط نہیں جیسے بھی ہوجائے کافی ہے۔ناک میں پانی بانسے تک پہنچانا ضروری ہے حتّٰی کہ غسل میں فرض ہے اوراگرحلق میں چلا گیا تو روزہ فاسدہوجائے گا۔“شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْـقَوِیفرماتے ہیں:” ناک میں پانی پہنچانے کی حد یہ ہے کہ ناک کے بانسے تک پانی پہنچائے اور اس میں مبالغہ کا مطلب یہ ہے کہ اس سے بھی آگے لے جائےمگر بحالتِ روزہ وضو کرتے وقت ناک میں پانی ڈالنےمیں مبالغہ کرنا سنت نہیں بلکہ مکروہ ہےکہ اس سے روزہ ٹوٹنے کا اندیشہ ہے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ’’روزہ ‘‘کے4حروف کی نسبت سے مذکورہ احادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) روزه دار اگر بھول کر کھا پی لے یا جماع کر لے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔
(2) بھول کر کھانے سے مراد یہ ہے کہ روزہ دارہونایاد نہ رہے اور کھانا پینا ارادے سے ہو۔
(3) کسی کو روزہ ہونا یاد ہو اور بغیر ارادہ پانی حلق سے اتر جائے جیسے کلی یا غرارہ کرتے وقت تو روزہ ٹوٹ جائے گا اس روزہ کی قضالازم ہوگی مگر کفارہ لازم نہ ہو گا ۔
(4) کسی روزہ دارکو بھول کر کھاتے پیتے دیکھا تو یاد دلانا واجب ہے، یاد نہ دلایا تو گنہگار ہوا، مگر جبکہ وہ روزہ دار بہت کمزور ہو تو یاد نہ دلانا بہتر ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کے مطابق روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1243