- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- حدیث نمبر 168
باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 168
جلد 2
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُوْلِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُؕ-) اِشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاَ تَوْا رَسُوْلَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بَرَكُوْا عَلَى الرُّكَبِ فَقَالُوْا:اَيْ رَسُوْلَ اللَّهِ كُلِّفْنَا مِنَ الْاَعْمَالِ مَا نُطِيْقُ:الصَّلَاةَ وَالْجِهَادَ وَالصِّيَامَ وَالصَّدَقَةَ وَقَدْ اُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا نُطِيْقُهَا.قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَقُوْلُوْا كَمَا قَالَ اَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ: سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا؟ بَلْ قُوْلُوْا:سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ، قَالُوْا: سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَيْكَ الْمَصِيْرُ.فَلَمَّا اقْتَرَاَهَا الْقَوْمُ، وذَلَّتْ بِهَا اَلْسِنَتُهُمْ، اَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالٰی فِي اِثْرِهَا (اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ (۲۸۵) ) فَلَمَّا فَعَلُوْا ذَلِكَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَى فَاَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ: ( لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ-رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ-) قَالَ: نَعَمْ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ-) قَالَ: نَعَمْ ( رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ-) قَالَ: نَعَمْ (وَ اعْفُ عَنَّاٙ-وَ اغْفِرْ لَنَاٙ-وَ ارْحَمْنَاٙ-اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ (۲۸۶) ) قَالَ: نَعَمْ. ( )
عن ابي هريرة، رضی اللہ عنہ، قال: لما نزلت على رسول الله، صلى الله عليه وسلم (لله ما فی السموت و ما فی الارض-و ان تبدوا ما فی انفسكم او تخفوه یحاسبكم به الله-) اشتد ذلك على اصحاب رسول الله، صلى الله عليه وسلم، فا توا رسول الله، صلى الله عليه وسلم، ثم بركوا على الركب فقالوا:اي رسول الله كلفنا من الاعمال ما نطيق:الصلاة والجهاد والصيام والصدقة وقد انزلت عليك هذه الآية ولا نطيقها.قال رسول الله، صلى الله عليه وسلم: اتريدون ان تقولوا كما قال اهل الكتابين من قبلكم: سمعنا وعصينا؟ بل قولوا:سمعنا واطعنا غفرانك ربنا واليك المصير، قالوا: سمعنا واطعنا غفرانك ربنا و اليك المصير.فلما اقتراها القوم، وذلت بها السنتهم، انزل الله تعالی في اثرها (امن الرسول بما انزل الیه من ربه و المؤمنون-كل امن بالله و ملىكته و كتبه و رسله-لا نفرق بین احد من رسله-و قالوا سمعنا و اطعنا ﱪ غفرانك ربنا و الیك المصیر (۲۸۵) ) فلما فعلوا ذلك نسخها الله تعالى فانزل الله عزوجل: ( لا یكلف الله نفسا الا وسعها-لها ما كسبت و علیها ما اكتسبت-ربنا لا تؤاخذنا ان نسینا او اخطانا-) قال: نعم ربنا و لا تحمل علینا اصرا كما حملته على الذین من قبلنا-) قال: نعم ( ربنا و لا تحملنا ما لا طاقة لنا به-) قال: نعم (و اعف عنا-و اغفر لنا-و ارحمنا-انت مولىنا فانصرنا على القوم الكفرین (۲۸۶) ) قال: نعم. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرت سَیِّدُنَاابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ جب سرکار مدینہ راحت قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی :لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُؕ-(پ۳، البقرۃ:۲۸۴)ترجمۂ کنزالایمان:اللہہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اگر تم ظاہرکرو جوکچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤاللہتم سے اس کا حساب لے گا۔تویہ بات صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر شاق گزری لہٰذا وہ حضورِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور دو زانوں بیٹھ کر عرض گزار ہوئے: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہمیں اُن اَعمال کا مکلف کیاگیا ہے جن کی ہم طاقت رکھتے ہیں جیسے نماز، جہاد، روزہ اور صدقہ اور اب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر یہ آیت نازل ہوئی ہے اور ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ ‘‘ حضورنبی کریمرؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:” کیا تم پچھلی اُمَّتوں کی طرح کہنا چاہتے ہوکہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی ؟ بلکہ یوں کہو! ہم نے سنا اور اطاعت کی، اےہمارے ربّ! ہمیں بخش دے ہم نے تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔“ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکہنے لگے: ’’ ہم نے سنا اور اطاعت کی، اے ہمارے ربّ! ہمیں بخش دے، ہم نے تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ ‘‘ جب صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکہہ چکے اورزبان سے تسلیم کرچکے تو اس کے فورًا بعداللہ عَزَّوَجَلَّنے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی:اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ (۲۸۵)(پ۳، البقرۃ:۲۸۵)ترجمۂ کنزالایمان:رسول ایمان لایا اس پر جواس کے ربّ کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانااللہاور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا تیری معافی ہو اے ربّ ہمارے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔
جب صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانیہ کہہ چکے تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے پہلے حکم کو منسوخ کردیا اور یہ آیت نازل فرمائی:لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ-رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ-ترجمۂ کنزالایمان:اللہکسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی اے ربّ ہمارے ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا چوکیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا : ’’ ہاں ۔ ‘‘رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ-ترجمۂ کنزالایمان:اے ربّ ہمارے اورہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا : ’’ ہاں ۔ ‘‘رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ-ترجمۂ کنزالایمان: اے ربّ ہمارے اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار (طاقت) نہ ہو۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا : ’’ ہاں ۔ ‘‘وَ اعْفُ عَنَّاٙ-وَ اغْفِرْ لَنَاٙ-وَ ارْحَمْنَاٙ-اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ (۲۸۶)(پ۳، البقرۃ:۲۸۶)ترجمۂ کنزالایمان: اور ہمیں معاف فرمادے اور بخش دے اور ہم پر مِہر (رحم) کر تو ہمارا مولیٰ ہے تو کافروں پر ہمیں مدد دے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا : ’’ ہاں ۔ ‘‘
شرح حدیث
آیت کی منسوخیت سے متعلق اَقوال:مذکورہ حدیث پاک میںسورہ بقرہکی آیت نمبر 284کے منسوخ ہونے کا ذکر ہے۔ اس آیت مبارکہ کے منسوخ ہونے یا نہ ہونے کےبارے میں تین اقوال ہیں :
(۱) یہ آیت مبارکہ منسوخ ہے۔ جیسا کہ اسی حدیث پاک میں اس کی منسوخیت کو بیان کیا گیا ہے۔
(۲) یہ آیت مبارکہ مُحْکَم ہے منسوخ نہیں ۔مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ وسوسہ اور بُرے خیالات جو بغیر اختیار دل میں پیدا ہوں وہ معاف ہیں اُن کا حساب نہیں اور بُرے اِرادے جس میں انسان عمل کرنے کا قصد بھی کرے مگر کسی مجبوری سے نہ کرسکے اس پر پکڑ ہے۔ کفر کا ارادہ کفر ہے، گناہ کا اِرادہ گناہ ہے۔ لہٰذا اس معنی سے یہ آیت مُحْکَم ہے منسوخ نہیں ۔ ‘‘ ( )
(۳) یہ آیت مبارکہ اپنے عموم پر ہے البتہ دوسری آیت نے اس کے عموم میں تخصیص کردی۔
چنانچہحَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’ یہ آیت مبارکہ اپنے عموم پر ہےاوریہ دل میں پائےجانے والےتمام خیالات کو شامل ہے چاہےوہ اختیاری ہوں یا غیراختیاری ۔پھر دوسری آیت نے اس کو (فقط اختیاری خیالات کے ساتھ) خاص کردیا۔ ‘‘ ( )ذہن میں وارد ہونے والے پانچ اُمور:علامہ صاویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے ذہن میں وارد ہونے والے خیال کی پانچ قسمیں بیان فرمائی ہیں :
(۱) ہاجس: اچانک کسی بات کا ذہن میں خیال آنا اور فوراً اس کا ذہن سے چلے جانا۔
(۲) خاطر: کسی چیز کا اس طرح خیال آنا کہ کچھ عرصہ اس کا خیال ذہن میں بھی باقی رہے۔
(۳) حدیث نفس: جس چیز کا خیال آئے ذہن اس چیز کی طرف راغب بھی ہو اور اسے پورا کرنے یا حاصل کرنے کے لیے کوشش بھی کرے۔ذہن میں آنے والے ان تینوں امور پر کوئی پکڑ نہیں ہوتی اگرچہ ان کا تعلق خیر سے ہو یا شرسے۔
(۴) ہم: کسی چیز کو حاصل کرنے کا خیال آیا اور ذہن زیادہ اس بات کی جانب مائل ہے کہ اسے حاصل کیا جائے البتہ تھوڑا سا یہ خیال بھی ہے کہ اسے حاصل نہ کیا جائے کیونکہ ہوسکتا ہے اس میں کوئی نقصان ہو۔اگر کسی نیکی کا خیال اس طرح آئے تو اس پر ثواب ملے گا لیکن گناہ کا خیال آئے تو اس پر کچھ نہیں۔
(۵) عزم: پختہ اِرادہ عزم کہلاتا ہے۔ جب ذہن کسی چیز کے حصول کے لیے پختہ اِرادہ کرلے، نفس کو اس کی جانب مائل کرلے اور اس کے حصول کی نیت بھی کرلےتو یہ عزم کہلاتا ہے۔ اس صورت میں اگر نیکی کا ارادہ ہے تو اس پر ثواب ملے گا اور گناہ کا ارادہ تھا تو اس پر پکڑ ہوگی، اگرچہ کسی سبب سے وہ اس گناہ کو نہ کرسکا۔ ‘‘ ( )
ذہن میں وارد ہونے والے مذکورہ بالا پانچوں اُمور کو اس مثال سے باآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ مثلا ًکسی شخص کے ذہن میں اپنے دشمن کو قتل کرنے کا خیال آیا تو یہ خیال ’’ ہاجس ‘‘ ہے، اب اگر یہ خیال اس کے دل میں بار بار آئے اور کچھ عرصہ تک باقی رہے تو یہ ’’ خاطر ‘‘ ہے، جب اس کا ذہن اس کے قتل کی طرف راغب ہو اور وہ اس کی منصوبہ بندی کرے کہ میں فلاں فلاں آلے سے اس کو قتل کروں گاتو یہ ’’ حدیث نفس ‘‘ ہے۔ جب وہ اس کو قتل کرنے کا ایسا ارادہ کرلے کہ غالب جانب اس کے قتل کی ہو اور تھوڑا سا یہ خیال بھی ہو کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں اس لیے قتل نہ کروں تو بہتر ہےتو یہ ’’ ہم ‘‘ ہے۔ ان چاروں صورتوں تک بندے پر مواخذہ نہیں ہوگا۔جب تھوڑا سا یہ خیال بھی نہ ہو اور ذہن سو ۱۰۰فیصد اس کے قتل کرنے کی نیت کرلے تو یہ ’’ عزم ‘‘ ہے۔ اس عزم پر مؤاخذہ ہوگا اگرچہ بندہ کسی سبب سے اپنے دشمن کو قتل نہ کرسکے، مثلاً وہ قتل کرنے گیا اور معلوم ہوا کہ اس کا دشمن اپنی طبعی موت مرچکا ہے یا اسے کسی اور نے قتل کردیا ہے۔ لیکن اُس شخص نے چونکہ اُس کو قتل کرنے کا پختہ اِرادہ کرلیا تھا اِس لیے اِس پر اُس کی گرفت ہوگی۔
¥اچھائی و برائی کا اِرادہ اور اُن کا اجر:حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: جب میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ (ہم) کرے تو اُسے نہ لکھو، اگر وہ اُس برائی کو کرلے تو ایک گناہ لکھ دو، اور جب وہ کسی اچھائی کا ارادہ (ہم) کرے تو ایک نیکی لکھ دو اور اگر وہ اس اچھائی کو کرلے تو اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھ دو۔ ‘‘ ( )
¥غیر اختیاری خیالات معاف ہیں :تفسیر خازن میں ہے کہ انسان کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات دو طرح کے ہیں :
(۱) وہ خیالات جو انسان بذات خود اپنے دل میں لاتا ہے اور پھر اُن پر عمل پیرا ہونے کا پختہ اِرادہ کرلیتا ہے یہ وہ خیالات ہیں جن پر انسان کی پکڑ ہوگی۔
(۲) وہ خیالات جو غیر اختیاری طور پر انسان کے دل میں خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں اُن میں اِس کا کوئی دخل نہیں ہوتا لیکن وہ اُن خیالات کو ناپسند کرتا ہے اور اُن پر عمل پیرا ہونے کا اُس کا کوئی اِرادہ نہیں ہوتا تو اس طرح کے خیالات معاف ہیں اور اُن پر اِس کی کوئی پکڑ نہیں ہوگی۔ ( )
¥خطا ، نسیان اور جبری کام پر مؤاخذہ نہیں :حضرت سَیِّدُنَا ابو ذر غفاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے میری اُمَّت کی خطا ، بھول اور جس کام پر اُسے مجبور کیا گیا ہو اِن تمام سے درگزر فرمادیا ہے۔ ‘‘ ( )¥پچھلی اُمَّتوں کے سخت احکام:سورۂ بقرہکی آیت نمبر284میں ارشاد ہوتا ہے:ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اے ربّ ہمارے اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا۔ ‘‘ حضرت علامہ حافظ ابن جریر طبریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیحضرت سَیِّدُنَا ابن جریجرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت کرتے ہیں : ’’ یعنی اےاللہ عَزَّ وَجَلَّہم پر کوئی ایسا عہد نہ ڈال جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے اور جسے پورا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے جیسا تونے ہم سے قبل یہود ونصاری پر عہد ڈالا ، جسے انہوں نے پورا نہ کیا تو تُو نے انہیں ہلا ک کردیا۔ ‘‘
بعض مفسرین نے یہ معنی بھی بیان کیا ہےکہ: ’’ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّہم پر گناہوں والا ویسا بوجھ نہ ڈال جیسا تونے پچھلی اُمَّتوں پر ڈالا تھا کہ تُو ہمیں بھی ان گناہوں کے سبب بندر اور خنزیر بنا کر مسخ کردے جیسا انہیں ان کے گناہوں کے سبب بندر اور خنزیر بنا کرمسخ کردیا تھا۔ ‘‘ ( ) ’’ بنی اسرائیل میں جب کسی شخص کے کپڑوں پر پیشاب لگ جاتا تو کپڑوں کے اُس حصے کو قینچی سے کاٹ دیتے تھے۔ ‘‘ ( ) ’’ بنی اسرائیل میں جب کوئی شخص گناہ کرتا تو اس سے کہا جاتا تھا کہ تمہاری توبہ یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو قتل کردو، سو وہ اپنے آپ کو قتل کردیتا تھا۔ ‘‘( ) ’’ زکوٰۃ چوتھائی مال میں سے ادا کرنا فرض تھا۔ ‘‘ ( )وسوسوں پر کوئی مؤاخذہ نہیں :صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُرادآبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیتفسیر ِ خزائن العرفان میں فرماتے ہیں کہ: ’’ انسان کے دل میں دو طرح کے خیالات آتے ہیں :
٭ ایک بطور وسوسہ کہ اُن سے دِل کا خالی کرنا انسان کی مَقْدِرَت (طاقت واختیار) میں نہیں ، لیکن وہ اُن کو برا جانتا ہے اور عمل میں لانے کا اِرادہ نہیں کرتا اُن کو حدیث نفس اور وسوسہ کہتے ہیں ، اِس پر مؤاخذہ نہیں ۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے:سیّدِ عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ میری اُمَّت کے دلوں میں جو وسوسے گزرتے ہیںاللہ تعالٰیان سے تجاوز فرماتا ہے جب تک کہ وہ انہیں عمل میں نہ لائیں یا ان کے ساتھ کلام نہ کریں ۔یہ وسوسے اس آیت میں داخل نہیں ۔
٭دوسرے وہ خیالات جن کو انسان اپنے دل میں جگہ دیتا ہے اور ان کو عمل میں لانے کا قصد و اِرادہ کرتا ہے اُن پر مؤاخذہ ہو گا اور اُنہی کا بیان اس آیت میں ہے۔ مسئلہ : کُفرکا عزم کرنا کُفر ہے اور گناہ کا عزم کرکے اگر آدمی اس پر ثابت رہے اور اس کا قصد واِرادہ رکھے لیکن اس گناہ کو عمل میں لانے کے اَسباب اس کو بہم نہ پہنچیں اورمجبوراً وہ اس کو کر نہ سکے تو جمہور کے نزدیک اُس سے مؤاخذہ کیا جائے گا ۔ ‘‘ ( )
¥وسوسے شیطان کی طرف سے ہیں :شیخ طریقت، امیر اہلسنت ، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکےرسالے ’’ وسوسے اور ان کا علاج ‘‘ صفحہ 2 پر ہے: ’’ وسوسہ اس بات کو کہتے ہیں جو شیطان انسان کے دل میں ڈالتا ہے ۔ عام طور پر وسوسے ہر ایک کو آتے ہیں کسی کو کم کسی کو زیادہ۔ بعض لوگ بہت زیادہ حساس ہونے کے سبب وسوسوں کے متعلق سوچ سوچ کر انہیں اپنے اوپر مُسَلَّط کرلیتے ہیں اور پھر خود ہی تکلیف میں آجاتے ہیں ، اگر وسوسوں پر غور نہ کیا جائے تو عموماً یہ خود ہی ختم ہوجاتے ہیں ، جوں ہی وسوسے آنے شروع ہوں توذکر اللہمثلااللہ اللہکرنا شروع کردیجئے،اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّشیطان فرار ہوجائے گا۔مسلمان جس قدر ربُّ العالمینعَزَّ وَجَلَّکی اطاعت میں آگے بڑھتا ہے اسی قدر شیطان کی مخالفت وعداوت بھی بڑھ جاتی ہے اور وہ ہمہ اقسام (یعنی طرح طرح ) کے مکروفریب (اور دھوکے) کے جال بچھاتا چلا جاتا ہے اور اس کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت اور اس کے پیارے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت سے روکنے کی بھی بھرپور کوشش کرتا ہے اور طرح طرح کے وسوسے دلا کر گندے خیالات ذہن میں لا کر پریشان کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ بسااوقات جہالت کی بنا پر آدمی اُس کے اِن وسوسوں کا شکار ہو کر نیکی اور بھلائی کے کام سے رُک جاتا ہےاور یوں شیطان اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ ‘‘
¥’’ یا خدا کرم ‘‘ کے آٹھ حروف کی نسبت سے وسوسوں کے آٹھ علاج:(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف رجوع کیجئے۔ (یعنی شیطان سے نجات کے لیےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی امداد طلب کیجئے اورذکر اللہشروع کردیجئے۔) (2)اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمپڑھیے۔ (3)لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِپڑھیے۔ (4) سورۃ الناس کی تلاوت کیجئے۔ (5)آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖکہیے۔ (6) (هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُۚ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ (۳)) (پ۲۷، الحدید:۳) کہیے، اِن سے فوراً وسوسہ دفع ہوجاتا ہے۔ (7)سُبْحٰنَ الْمَلِکِ الْخَلَّاقِ(اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ (۱۹) وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ (۲۰))(پ۱۳، ابراھیم:۱۹،۲۰)کی کثرت اِسے یعنی وسوے کو جڑ سے قطع کر (یعنی کاٹ) دیتی ہے۔ ( ) (8)مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ صوفیائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں کہ جو کوئی صبح وشام اکیس اکیس بار ’’ لا حول شریف ‘‘ پانی پر دم کر کے پی لیا کرے تواِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّوسوسہ شیطانی سے بہت حد تک امن میں رہے گا۔ ‘‘ ( )
محیط دل پہ ہوا ہائے نفس اَمارہ
دماغ پر مِرے ابلیس چھا گیا یاربّ
رہائی مجھ کو ملے کاش! نفس وشیطاں سے
تِرے حبیب کا دیتا ہوں واسطہ یاربّ
کریں نہ تنگ خیالاتِ بد کبھی کر دے
شعور وفکر کو پاکیزگی عطا یارب
¥وسوسے کی تباہ کاری کی حکایت:میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت، مولانا شاہ امام اَحمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفتاویٰ رضویہ شریف ، ج۱، ص۱۰۴۳، جز ’’ ب ‘‘ پر وسوسے کا بہترین علاج بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ وسوسے کی نہ سننا اُس پر عمل نہ کرنا اُس کے خلاف کرنا (بھی وسوسے کا علاج ہے) ۔ اِس بلائے عظیم (یعنی وسوسے) کی عادت ہے کہ جس قدر اِس (یعنی وسوسے) پر عمل ہو اسی قدر بڑھے اور جب قصداً اس کا خلاف کیا جائے توبِاِذْنِہٖ تَعَالٰیتھوڑی مدت میں بالکل دفع ہوجائے۔ ‘‘ (حضرت سَیِّدُنَا) عَمرو بن مُرَّہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ شیطان جسے دیکھتا ہے کہ میرا وسوسہ اس میں کارگر ہوتا ہے سب سے زیادہ اُسی کے پیچھے پڑتا ہے۔ امام ابن حجر مکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاپنے فتاویٰ میں فرماتے ہیں کہ مجھ سے بعض ثقہ (یعنی قابل اعتماد) لوگوں نے بیان کیا کہ دو وسوسے والوں کو نہانے کی ضرورت ہوئی، دریائے نیل پر گئے، طلوع صبح کے بعد پہنچے، ایک نے دوسرے سے کہا: تُو اُتر کر غوطے لگا میں گنتا جاؤں گا اور تجھے بتاؤں گا کہ پانی تیرے سارے سر کو پہنچایا نہیں ۔ وہ اُترا اور غوطے لگانا شروع کیے اور یہ (یعنی جو باہر ہے) کہہ رہا ہے کہ ابھی تھوڑی سی جگہ تیرے سر میں باقی ہے، وہاں پانی نہ پہنچا۔ ایک کو صبح سے دوپہر ہوگئی، آخر تھک کر باہر آیا اور دل میں شک رہا کہ غسل اُتر ا یا نہیں ؟ پھر اس نے دوسرے کو کہا کہ اب تُو اُتر ، میں گِنوں گا۔ اس نے ڈبکیاں لگائیں اور یہ (پہلا) کہتا جاتا ہے کہ ابھی سارے سر کو پانی نہ پہنچا، یہاں تک کہ دوپہر سے شام ہوگئی، مجبوراً وہ (دوسرا) بھی دریا سے نکل آیا اور دل میں شبہے کا شبہ ہی رہا۔ دن بھر کی نمازیں کھوئیں اور غسل اُترنے پر یقین نہ ہونا تھا، نہ ہوا۔وَالْعَیَاذُ بِاللّٰہِ تَعَالٰی(یعنی ہماللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ مانگتے ہیں ۔) یہ وسوسہ ماننے کا نتیجہ تھا۔مجھے وَسوسوں سے بچا یاالٰہیپئے غوث و اَحمد رَضا یاالٰہیصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدسورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں اور اُن کے فضائل وفوائد:(اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ (۲۸۵)
لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ-رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ-رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ-رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ-وَ اعْفُ عَنَّاٙ-وَ اغْفِرْ لَنَاٙ-وَ ارْحَمْنَاٙ-اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ (۲۸۶)) (پ۳، البقرہ:۲۸۵،۲۸۶)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے ربّ کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانااللہاور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا تیری معافی ہو اے ربّ ہمارے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔اللہکسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو بُرائی کمائی اے ربّ ہمارے ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا چوکیں اے ربّ ہمارے اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا اے ربّ ہمارے اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار (طاقت) نہ ہو اور ہمیں معاف فرما دے اور بخش دے اور ہم پر مِہر (رحم) کر تُو ہمارا مولیٰ ہے تُو کافروں پر ہمیں مدد دے ۔ ‘‘مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاننے تفسیر نعیمی میں سورۂ بقرہ کی مذکورہ آخری دوآیتوں کے چودہ 14فضائل وفوائدذکرفرمائے ہیں ، کچھ تصرف کے ساتھ پیش خدمت ہیں :
(1) سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکومعراج میں بلاواسطہ عطا ہوئیں اور حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے لامکان میں پہنچ کر یہی دعائیں مانگیں ۔
(2) امام بیہقیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےحضرت سَیِّدُنَا نعمان بن بشیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے نقل کیاکہ ربّ تعالی نے آسمانوں وزمین کی پیدائش سے دو ہزار 2000سال پہلے ایک کتابِ خاص (یعنی لوحِ محفوظ) تحریر فرمائی۔ سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں اسی کتاب خاص کی ہیں ۔
(3) امام احمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے سَیِّدُنَا عُقبہ بن عامررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں پڑھا کرو کہ میرے ربّعَزَّ وَجَلَّنے مجھے خاص طور پر عرش کے نیچے سے عطافرمائیں ، مجھ سے پہلے کسی نبی کو یہ نہ ملیں ۔ ‘‘
(4) حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ جب حضور نبی کریم، رؤف رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممعراج میں سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے تو آپ کو تین چیزیں عطا ہوئیں : پانچ نمازیں ، سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں اور ہرمومن کی بخشش۔
(5) حضرت سَیِّدُنَا امام حاکم وامام بیہقیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمَاسَیِّدُنَا ابوذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت بیان کرتے ہیں کہ سرکا رنامدا، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ ربّعَزَّ وَجَلَّنے جن آیتوں پر سورۂ بقرہ ختم فرمائی وہ عرش کا خزانہ ہیں ، اُنہیں خود بھی سیکھو اور اپنے بیوی بچوں کو بھی سکھاؤ، یہ صلوٰۃہیں ، یہ قرآن ہیں ، یہ دعائیں ہیں ۔ ‘‘
(6) امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضی شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں : ’’ بڑابیوقوف ہے وہ شخص جو سوتے وقت سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں نہ پڑھے۔ ‘‘
(7) حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ جو کوئی نمازِ عشاء کے بعد سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں پڑھےاُسے پوری رات عبادت کا ثواب ملتاہے۔ ‘‘
(8) حضرت سَیِّدُنَا کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ حضور پرنور، شافع یوم النشورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو چارچیزیں وہ دیں گئیں جو کسی پیغمبر کونہ دی گئیں :سورۂ بقرہ کے آخری رکوع کی تین آیتیں اور آیۃ الکرسی۔ ‘‘
(9) فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: ’’ جو کوئی سوتے وقت سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں پڑھ لیاکرے تو اسے رات بھر شیطان اور دیگر آفات سے پناہ ملے گی اور تمام رات کی عبادت کا ثواب ملے گا۔ ‘‘
(10) حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایاکہ ایک روز سَیِّدُنَا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامحضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضرتھے کہ اچانک اوپر سے سخت آواز آئی۔ جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کیا: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اِس وقت آسمان کا وہ دروازہ کھلا ہےجو آج تک کبھی نہیں کھلا۔ ‘‘ ابھی یہ بات کہہ ہی رہے تھے کہ ایک فرشتہ حاضر ہوا۔ سَیِّدُنَا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کیا : ’’ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ وہ فرشتہ ہے جو آج تک کبھی زمین پر نہیں آیا۔ ‘‘ اُس فرشتے نے عرض کیا: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں آپ کو اُن دو نوروں کی مبارک باد دینے آیا ہوں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہ ملے۔ایک سورۂ فاتحہ اوردوسرا سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں ، اِس کے پڑھنے والے کی ہرتمناپوری ہوگی۔
(11) سورۂ بقرہ ختم کرکے آمین کہنا چاہیٔےکیونکہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور فرشتے بھی اس پر آمین کہتے ہیں ۔
(12) اگردفن کےبعد قبر کے سرہانے سورۂ بقرہ کا پہلا رکوعمُفْلِحُوْنَتک اور قبرکی پائنتی کی طرف سورۂ بقرہ کاآخری رکوع پڑھاجائےتو میت کو قبر میں راحت ہوگی۔
(13) جس گھر میں سورۂ بقرہ پڑھی جائے وہاں تین دن تک شیطان نہیں آتا۔
(14) حضرت سَیِّدُنَا مُعاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے ایک بار شیطان کو قید کر لیا، وہ بولا: ’’ اگر آپ مجھے چھوڑدیں تو میں آپ کو بڑاعُمدہ عمل بتاؤں گا۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ بتا۔ ‘‘ وہ بولا: ’’ اگر کوئی انسان رات کو سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں پڑھ لیا کرئے تو ہم شیاطین میں سے کوئی اُس گھر میں رات بھر نہیں جاسکتا۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ اِطَاعتِ خُدَاوَنْدِی ‘‘ کے12حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے12مدنی پھول
(1)مؤمنین کی شان یہ ہے کہ جب وہاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا کوئی حکم سنیں تو کہیں کہ ’’ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ ‘‘
(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت بہت وسیع ہے، چاہے تو بڑے بڑے گناہوں کو بخش دے اور چاہے تو ایک چھوٹے گناہ پر بھی پکڑ فرمالے۔
(3) اُمَّت محمدیہ اور مسلمانوں پر رحمتِ الٰہی بہت وسیع ہے کہ بُرائی کے اِرادے پر گناہ نہیں مگر اچھائی کے اِرادے پر نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں ۔
(4) جو بُرے خیالات غیر اِختیاری طور پر دل میں پیدا ہوجائیں اور بندہ اُن کی طرف التفات یعنی توجہ نہ کرے بلکہ انہیں ناپسند کرے تو اُن پر کسی قسم کا کوئی مؤاخذہ نہیں ۔
(5) خطا، نسیان اور جبری کاموں پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے۔
(6) پچھلی اُمَّتوں پر بعض احکام بہت سخت تھے لیکن امَّتِ محمدیہ پراللہ عَزَّ وَجَلَّکا خاص فضل وکرم ہے کہ تمام احکام میں آسانی پیدا فرمادی گئی ہے۔
(7) دل میں آنے والے وسوسے اور شیطانی خیالات پر بھی کوئی گرفت نہیں ہےکیونکہ اُن خیالات کو روکنا بندے کے اختیار میں نہیں ہے۔
(8) وسوسے شیطان کی طرف سے بُرے خیالات ہوتے ہیں اُن سے چھٹکارے کا بہترین علاج یہ ہے کہ اُن کی طرف ہرگز توجہ نہ دی جائے۔
(9) سورۂ بقرہ کی آخری آیات کی احادیث میں بہت فضیلت بیان کی گئی ہے، لہٰذا کوشش کرکے انہیں بھی اپنے روز مرہ کے روحانی وظائف میں شامل کرنا چاہیے۔
(10) دعاجماعت کےساتھ مانگنی چاہیٔےتاکہ جلد قبول ہوکیونکہ دعائیں مل کربارگاہِ الٰہی میں زیادہ قبول ہوتی ہیں اوراگرکوئی اکیلےمانگےتوسب کےلیےمانگے۔
(11) دعامیں دینی حاجتیں دنیاوی حاجتوں سےپہلےمانگنی چاہئیں ۔
(12) دعامانگتے ہوئےباربار ’’رَبَّنَا‘‘ کی تکرارکرنامستحسن یعنی اچھا ہےکیونکہ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی اپنی دعامیں لفظ ’’رَبَّنَا‘‘ کو باربار ذکر کیا کرتے تھے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں اپنی اور اپنے پیارے محبوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہرحال میں شریعت کی پاسداری کرنے کی سعادت مرحمت فرمائے۔
نہ کر رَد کوئی اِلتجاء یا الٰہی………ہو مقبول ہر اِک دُعا یاالٰہی
رہے ذکر آٹھوں پَہر میرے لب پر………ترا یاالٰہی ترا یاالٰہی
مری زندگی بس تری بندگی میں ………ہی اے کاش گزرے سدا یاالٰہی
نہ ہوں اَشک برباد دنیا کے غم میں ………محمد کے غم میں رُلا یاالٰہی
عطا کردے اِخلاص کی مجھ کو نعمت………نہ نزدیک آئے رِیا یاالٰہی
میں یادِ نبی میں رہوں گم ہمیشہ………مجھے اُن کے غم میں گھلا یاالٰہی
تو عطار کو سبز گنبد کے سائے ………میں کر دے شہادت عطا یاالٰہیآمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 168