باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب

فیضان ریاض الصالحین جلد 2

:حضرت سَیِّدُنَاابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ جب سرکار مدینہ راحت قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی :لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُؕ-(پ۳، البقرۃ:۲۸۴)ترجمۂ کنزالایمان:اللہہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اگر تم ظاہرکرو جوکچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤاللہتم سے اس کا حساب لے گا۔تویہ بات صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر شاق گزری لہٰذا وہ حضورِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور دو زانوں بیٹھ کر عرض گزار ہوئے: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہمیں اُن اَعمال کا مکلف کیاگیا ہے جن کی ہم طاقت رکھتے ہیں جیسے نماز، جہاد، روزہ اور صدقہ اور اب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر یہ آیت نازل ہوئی ہے اور ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ ‘‘ حضورنبی کریمرؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:” کیا تم پچھلی اُمَّتوں کی طرح کہنا چاہتے ہوکہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی ؟ بلکہ یوں کہو! ہم نے سنا اور اطاعت کی، اےہمارے ربّ! ہمیں بخش دے ہم نے تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔“ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکہنے لگے: ’’ ہم نے سنا اور اطاعت کی، اے ہمارے ربّ! ہمیں بخش دے، ہم نے تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ ‘‘ جب صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکہہ چکے اورزبان سے تسلیم کرچکے تو اس کے فورًا بعداللہ عَزَّوَجَلَّنے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی:اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ (۲۸۵)(پ۳، البقرۃ:۲۸۵)ترجمۂ کنزالایمان:رسول ایمان لایا اس پر جواس کے ربّ کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانااللہاور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا تیری معافی ہو اے ربّ ہمارے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔
جب صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانیہ کہہ چکے تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے پہلے حکم کو منسوخ کردیا اور یہ آیت نازل فرمائی:لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ-رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ-ترجمۂ کنزالایمان:اللہکسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی اے ربّ ہمارے ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا چوکیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا : ’’ ہاں ۔ ‘‘رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ-ترجمۂ کنزالایمان:اے ربّ ہمارے اورہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا : ’’ ہاں ۔ ‘‘رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ-ترجمۂ کنزالایمان: اے ربّ ہمارے اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار (طاقت) نہ ہو۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا : ’’ ہاں ۔ ‘‘وَ اعْفُ عَنَّاٙ-وَ اغْفِرْ لَنَاٙ-وَ ارْحَمْنَاٙ-اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ (۲۸۶)(پ۳، البقرۃ:۲۸۶)ترجمۂ کنزالایمان: اور ہمیں معاف فرمادے اور بخش دے اور ہم پر مِہر (رحم) کر تو ہمارا مولیٰ ہے تو کافروں پر ہمیں مدد دے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا : ’’ ہاں ۔ ‘‘

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُوْلِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُؕ-) اِشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاَ تَوْا رَسُوْلَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بَرَكُوْا عَلَى الرُّكَبِ فَقَالُوْا:اَيْ رَسُوْلَ اللَّهِ كُلِّفْنَا مِنَ الْاَعْمَالِ مَا نُطِيْقُ:الصَّلَاةَ وَالْجِهَادَ وَالصِّيَامَ وَالصَّدَقَةَ وَقَدْ اُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا نُطِيْقُهَا.قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَقُوْلُوْا كَمَا قَالَ اَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ: سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا؟ بَلْ قُوْلُوْا:سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ، قَالُوْا: سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَيْكَ الْمَصِيْرُ.فَلَمَّا اقْتَرَاَهَا الْقَوْمُ، وذَلَّتْ بِهَا اَلْسِنَتُهُمْ، اَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالٰی فِي اِثْرِهَا (اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ (۲۸۵) ) فَلَمَّا فَعَلُوْا ذَلِكَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَى فَاَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ: ( لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ-رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ-) قَالَ: نَعَمْ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ-) قَالَ: نَعَمْ ( رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ-) قَالَ: نَعَمْ (وَ اعْفُ عَنَّاٙ-وَ اغْفِرْ لَنَاٙ-وَ ارْحَمْنَاٙ-اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ (۲۸۶) ) قَالَ: نَعَمْ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 168 ، باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب