Main Icon

باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 719

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا كَانَ يَوْمُ عِيْدٍخَالَفَ الطَّريقَ.

عن جابر رضی اللہ عنہ قال:كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا كان يوم عيدخالف الطريق.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعید کے دن راستہ تبدیل فرماتے۔

شرح حدیث

راستہ تبدیل کرنا مستحب ہے:مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامجب نمازِعید کے لئے تشریف لے جاتے تو ایک راستے سے جاتے اور دوسرے راستے سے واپس آتے ۔علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: جس راستہ سے عیدگاہ جائے واپسی میں دوسرے راستہ سے آنا مستحب ہے۔ جمہور آئمہ ٔ کرام یہی فرماتے ہیں ۔امام مالکرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُنے فرمایا:’’ہم نے آئمہ ٔکرام کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔“امام اعظم ابو حنیفہرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُنےفرمایا:’’ایسا کرنا مستحب ہے اگر راستہ تبدیل نہ بھی کرے تو کوئی حرج نہیں۔‘‘راستہ تبدیل کرنے کی حکمتیں:محدثینِ کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامنے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے راستہ تبدیل کرنے کی کئی حکمتیں بیان فرمائی ہیں، چند حکمتیں ملاحظہ کیجئے: (1) دونوں راستےگواہ ہوجائیں۔ (2) دونوں راستوں کے جن واِنس گواہ بن جائیں۔(3)دونوں راستوں کوجائے عبادت کی راہ گُزر بننے کی فضیلت حاصل ہو جائے۔ (4) دونوں راستوں پر شَعائرِاِسلام کااظہارہو۔(5)متعدد جگہوں پرذِکر کااظہار ہو۔ (6) کفار پر مسلمانوں کا رُعب ودبدبہ ہو۔(7)دونوں راستوں کے کفارومنافقین غیظ میں جلیں۔(8)کفار کے مکرو فریب سے حفاظت رہے۔ (9) دونوں راستوں کے مسلمانوں کو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آمد سے خوشی ہو۔ (10)دونوں راستوں کے مسلمانوں کو حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی زیارت وبرکت نصیب ہو۔ (11) دونوں راستوں کے سائلین کو شرعی مسائل بتائے جا سکیں۔ (12) دونوں طرف کے مسلمانوں کو آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسلام کریں تاکہ انہیں جوابِ سلام کا اجر حاصل ہو۔(13)دونوں طرف کے رشتہ داروں اور احباب سے ملاقات ہوجائے۔(14)راستے کی تبدیلی سےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رضا ومغفرت کا نیک شگون لینا۔ (15) جاتے ہوئے ضرورت مندوں پر صدقہ وخیرات کرنا اور واپسی میں کچھ نہ ہونے کے سبب دوسرا راستہ اختیار کرنا تاکہ کسی سائل کو خالی نہ لوٹانا پڑے۔(16)اِزدِہام اور بھیڑ میں کمی ہو۔ (17) جانے کا راستہ طویل ہونے کے سبب زیادہ چلنے کی وجہ سے زیادہ اجر ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 719