Main Icon

باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 720

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عَنْهُمَا:اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيْقِ الشَّجَرَ ةِ وَ يَدْخُلُ مِنْ طَريقِ الْمُعَرَّسِ وَ اِذَادَخَلَ مَكَّةَدَخَلَ مِنَ الثَّنِيَّةِالْعُلْيَاوَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلٰی .

عن ابن عمر رضي الله عنهما:ان رسول الله صلى الله عليه وسلم کان يخرج من طريق الشجر ة و يدخل من طريق المعرس و اذادخل مكةدخل من الثنيةالعلياويخرج من الثنية السفلی .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(مدینہ منورہ سے)درخت کے راستے سے نکلتے اورمُعَرَّسکے راستے سے داخل ہوتے اور مکہ مکرمہ میں ثنیہ عُلْیا سے داخل ہوتے اور ثنیہ سُفلیٰ سے باہر تشریف لے جاتے ۔

شرح حدیث

جاتے ہوئے ثنیہ عُلیا اختیار کرنے کی وجہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب مدینہ منورہزَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَتَعْظِیماًسےباہرجاتےتو مسجد ذوالحلیفہ کا راستہ اختیار فرماتے اور جب واپس تشریف لاتے تو مسجدمُعَرَّس کی طرف سے آتے۔اسی طرح مکہ مکرمہزَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَّتَعْظِیماًمیں”ثنیہ عُلْیا“ یعنی دو پہاڑیوں کے درمیان بلندراستے سے داخل ہوتے جسےحَجُونکہا جاتاہے اورباہر جانے کے لئے”ثنیہ سُفلیٰ“ یعنی دو پہاڑیوں کے درمیان نشیبی راستہ اختیار فرماتے جسےشَبِیْکَہکہا جاتا ہے اورجاتے ہوئے بلند راستہ اختیار کرنے کی وجہ بلندمقام (یعنی مکہ مکرمہ ) کی طرف آنے کا قصد تھا ۔ محدثینِ کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامنے مکہ مکرمہزَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَتَعْظِیماًمیں داخلے کے وقت بلنداور نکلتے وقت نشیبی راہ اختیارکرنےکی مختلف وجوہات بیان کی ہیں ان میں سے چند ملاحظہ کیجئے:حضرت سَیِّدُنا ابراہیمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنےبلند جگہ پر کھڑے ہو کر لوگوں کو نداکی تھی اس مناسبت سے بلند راستہ اختیار فرمایا۔ بلند راستے سے داخل ہونے والے کامنہبیتُ اللّٰہشریف کی طرف ہوتاہے۔نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مکہ مکرمہ سےپوشیدہ طورپر ہجرت کی تھی اس لئے نشیبی راہ اختیار فرمائی پھر جب اسلام کاغلبہ ہوگیاتوعلی الاعلان آئے اس لئے بلندی والا راستہ اختیار فرمایا۔ دونوں جانب والوں کونبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی برکتیں اوردعائیں نصیب ہوں۔ اسلام کے غلبہ اورسربلندی کے اظہار سے منافقین کے دل غیظ وغضب میں جلیں ۔بھیڑ(رش ) کم کرنے کے لئے دو راستے تبدیل فرمائے۔ راستے کی تبدیلی سے حالت کی تبدیلی کا نیک شگون لینا۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:”اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں ثنیہ عُلیا کی جانب سے داخل ہونا اور ثنیہ سُفلیٰ سے نکلنا مستحب ہے۔اس استحباب میں حاجی ،عمرہ کرنے والا اور بغیر احرام داخل ہونے والے سب برابر ہیں اور عرفہ میں ٹھہرنے یا کسی اورفعل کے لئے مکہ کے نشیبی علاقے سے نکلنا مستحب ہے۔“مدنی گلدستہ’’بیتاللّٰہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) عِیْدَین،جنازہ ،حج وغیرہ کی ادائیگی کیلئے ایک راستے سے جانا اور دوسرے سے آنا مستحب ہے۔
(2) اسلا م کا غلبہ اورسربلندی دیکھ کر منافقین و دشمنان ِاسلام کے دل غَیض کی آگ میں جل جاتےہیں۔
(3) عیدین میں حسبِ حیثیت فُقرا ومساکین پر صدقہ کرنا چاہیے تاکہ وہ بھی خوشیوں میں شریک ہوں ۔
(4) بندے کے نیک اعمال کی گواہی وہ راستے بھی دیں گے جن سے گزر کر وہ نیک اعمال کے لئے جاتا تھا۔
(5) مسلمانوں کی اجتماعی عبادات حج ،عیداورجمعہ وغیرہ ان کی عظمت و ہیبت پر دلالت کرتی ہیں۔
(6) عیداور دوسرے خوشی کے مواقع پر عزیز واَقارب سے ملاقات کرنا بزرگوں کامبارک طریقہ ہے ۔
(7) دِینی اُمُور کی ادائیگی کے وقت بھی حُقوقِ عامہ کاخاص خیال رکھا جائے ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت کی نیت سے عبادات کے لئے ایک راستے سے جانے اور دوسرے سے آنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 720