Main Icon

باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1233

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْد رَضِیَ اﷲ عَنْہُ: اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهِ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:”لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الفِطْرَ.“

عن سهل بن سعد رضی اﷲ عنہ: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:”لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر.“

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا سہل بن سعدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔“

شرح حدیث

اِفطار میں تاخیر کرنا فساد کی علامت ہے:مذکورہ حدیثِ پاک میں جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ اگر لوگ جلدی (یعنی غروبِ آفتاب کے بعدبلا تاخیر) اِفطار کرلیں گے تو بھلائی میں رہیں گے۔اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’اس حدیث میں اس بات پر اُبھارا گیا ہے کہ جب سورج غروب ہوجائےتو افطار میں جلدی کی جائے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اُمَّت جب تک اِس سنت پرعمل پیرا رہے گی وہ ہمیشہ خیر اور بھلائی میں رہے گی اور جب یہ اِفطار میں تاخیر کریں گے تو یہ اُن میں فساد پیدا ہونے کی علامت ہے۔‘‘صحابہ ٔکرام اِفطار میں جلدی کرتے:شرح ابنِ بطال میں ہے:علامہ مہلبرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جلدی افطار کرنے کی ترغیب دی ہےتاکہ روزے کے وقت میں رات کی کوئی گھڑی شامل نہ ہو، کیونکہ پھر یہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے فرض کردہ وقت پر زیادتی ہوگی۔ (اوریہ جلدی افطار کرنا) اِس لئے بھی بہتر ہے کہ یہ روزہ دار کے لئے نرمی کا باعِث ہے اور روزے پر قوت دینے والا ہے۔حضرت عَمرو بن مَیمون فرماتے ہیں: صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانافطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کیا کرتے تھے۔افطار کے مختلف اوقات کی تفصیل:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’افطار جلدی کرنے کی دو صورتیں ہیں:(1)ایک یہ کہ افطار نمازِمغرب سے پہلے کیا جائے،نماز پہلے پڑھ لینا بعد میں اِفطار کرنا اِس حدیث کے خلاف ہے۔(2)دوسرے یہ کہ آفتاب ڈوبنے کا یقین ہوجانے پر اِفطارکرلیا جائے پھر دیر نہ لگائی جائے۔خیال رہے کہ افطار کے وقت بھی تین ہیں:وقتِ مستحب،وقتِ مباح اور وقتِ مکروہ۔ وقتِ مستحب تو وہ ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ سورج کا آخری کنارہ چھپتے ہی روزہ افطار کیا جائے۔وقتِ مباح تارے گتھنے سے کچھ پہلے تک دیر لگانا اور تارے گھتے جانے پر افطار کرنا مکروہ۔اس کراہت کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت یہودی روزہ افطارکرتے ہیں،اِس میں اُن سے مشابہت ہے اور جلدی اِفطارنے میں اپنے عجزِ بندگی کا اِظہاربھی ہے اوراﷲکی دی ہوئی اجازت کا جلدی قبول کرنابھی۔مرقات میں ہے کہ بعض علما نے فرمایا: نفس پر مشقت ڈالنے اورمغرب و عشا کو ملانے کے لیے دیر سے افطار کرنا بہتر ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہسنتِ رسولُ اﷲسیدھا راستہ ہے اور اس کی مخالفت گمراہی۔ ہمیشہرسولُاﷲصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّماور صحابۂ کرام افطار میں جلدی اور سحری میں دیر کرتے تھے،نفس کُشی کے لیے سنت کی مخالفت نہ کرو کہ یہ نفس کشی نہیں بلکہ رہبانیت ہے،ہماری نفس کشی حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی اتباع میں ہے۔مدنی گلدستہ’’افطار‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اگر لوگ جلدی افطار کرتے رہیں گے تو بھلائی میں رہیں گے۔
(2) افطار میں تاخیر کرنا فساد پیدا ہونے کی علامت ہے۔
(3) جلدی افطار کرنا روزہ دار کے لئے نرمی اور آسانی کا باعث ہے۔
(4) سنتِ
رسول اﷲسیدھا راستہ ہے اور اس کی مخالفت گمراہی ہے۔
(5) نفس کشی کے لئے سنت کی مخالفت کرنا نفس کشی نہیں بلکہ رہبانیت ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں سنت پر عمل کرتے ہوئے جلدی افطار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1233