Main Icon

باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1235

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اَحَبُّ عِبَادِي اِلَيَّ اَعْجَلُهُمْ فِطْرًا.“

عن ابي هريرة رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قال الله عز وجل: احب عبادي الي اعجلهم فطرا.“

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اﷲ عَزَّ وَجَلَّنےارشاد فرمایا: ”میرے پسندیدہ بندے وہ ہیں جو افطار میں جلدی کرتے ہیں۔“

شرح حدیث

سنت کی اتباع میں محبتِ خدا:مرقاۃ المفاتیح میں ہے: شایداﷲتعالیٰ کی اس محبت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں سنّت کی اتباع، بدعت سے دوری اور اہلِ کتاب کی مخالفت ہے۔اس حدیث میں اِس اُمَّت کی افضلیت کی طرف اشارہ ہے اس لئے کہ (جلدی افطار کرنے میں) حدیث کی اتباع ہےاور حدیث کی اتباعاﷲتعالیٰ کی محبت کی موجب ہے کیونکہاﷲتعالیٰ کافرمان ہے:﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ﴾(پ۳، آل عمران:۳۱)(ترجمۂ کنز الایمان:’’اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تماﷲکو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤاﷲتمہیں دوست رکھے گا۔) یہ دین ہر باطل سے جدا ہے، اس میں نرمی وسہولت ہے، اس میں کوئی سختی نہیں رکھی گئی تاکہ اس (کے احکامات )پر عمل کرنااورہمیشگی اختیار کرنا آسان رہے، اسی لئے کہا گیا ہے کہ دین کی آسانیوں کو لازم پکڑ لو، برخلاف اہلِ کتاب کےکہ انہوں نے اپنے اوپر سختی کی تواﷲ عَزَّ وَجَلَّنے بھی ان پر سختی کی لہٰذا وہ مغلوب ہوگئے اور اپنے دین پر قائم نہ رہ سکے۔( )دلیل الفالحین میں ہے:’’یعنیاﷲ عَزَّ وَجَلَّبندوں میں سب سے زیادہ اس سے راضی ہوتا ہے جو افطار میں جلدی کرتا ہے اور وہ رب تعالیٰ سے اتنا قریب ہوگا جتنا ایک محب اپنے محبوب کے قریب ہوتا ہے۔‘‘جلدی اِفطارکرناسنتِ انبیا ہے:مرآۃ المناجیح میں ہے:یعنی یہود و نصاریٰ یا روافض سے بہتر مسلمانِ اہلِ سنت ہیں کہ وہ لوگ روزہ دیر سے کھولتے ہیں اور سنی مسلمان جلد افطار لیتے ہیں سورج ڈوب چکنے کے بعد دیر نہیں لگاتے کیونکہ جلدی افطارسُنَّتِرسولُ اﷲ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّماورسنتِ صحابہ بلکہ سنتِ انبیاعَلَیْہِمُ السَّلَامہےاورجلدی افطار میں ربّ تعالیٰ کی رحمت کی طرف جلد ی کرنا ہے اپنی حاجت مندی کا اظہار ہے۔مدنی گلدستہ’’حسن‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) جو افطار میں جلدی کرتے ہیں وہ
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے پسندیدہ بندے ہیں۔
(2) حدیث کی اتباع ربّ تعالیٰ کی محبت کی مُوجب ہے۔
(3) جو افطار میں جلدی کرتا ہے وہ
اﷲسے اتنا قریب ہوگا جتنا مُحِبّ اپنے محبوب کے قریب ہوتا ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سنّتوں کی اتباع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1235