Main Icon

باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1234

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي عَطِيَّةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: دَخَلْتُ اَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ: رَجُلَانِ مِنْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِلَاهُمَا لَا يَاْلُو عَنِ الْخَيْرِ، اَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْاِفْطَارَ وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَالْاِفْطَارَ، فَقَالَتْ: مَنْ يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْاِفْطَارَ؟ قَالَ: عَبْدُاللهِ یَعْنِیْ اِبْنَ مَسْعُوْدٍ فَقَالَتْ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ.

عن ابي عطية رضی اﷲ عنہ قال: دخلت انا ومسروق على عائشة رضي الله عنها فقال لها مسروق: رجلان من اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم كلاهما لا يالو عن الخير، احدهما يعجل المغرب والافطار والآخر يؤخر المغرب والافطار، فقالت: من يعجل المغرب والافطار؟ قال: عبدالله یعنی ابن مسعود فقالت: هكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابوعطیہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت مسروق اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیدتنا عائشہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاکی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اُن سے حضرت مسروقرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی کہ حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دو صحابی ہیں جو کہ بھلائی کے کاموں میں کمی نہیں کرتے، ان میں سے ایک مغرب کی نماز اور افطار میں جلدی کرتے تھے اور دوسرے مغرب کی نماز اور افطار میں تاخیر کرتے تھے۔ تو اُمّ المؤمنین حضرت عائشہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا :”مغرب کی نماز اور افطار میں جلدی کون کرتا ہے؟“جواب دیا:’’عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ۔‘‘ تو حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا:”رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہی طریقہ تھا ۔“

شرح حدیث

مذکورہ حدیثِ پاک سے پتا چلا کہ افطار میں تاخیر کرنا سنّت نہیں بلکہ جلدی کرنا سنّت ہے جیساکہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَانے بتایا کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہی طریقہ تھا کہ آپ افطار اور نمازِ مغرب میں جلدی کیا کرتے تھے۔جو صحابی افطار میں جلدی کیا کرتے تھے وہ حضرت عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُتھے اور جو کچھ تاخیر کرتے تھے وہ حضرت ابو موسیٰ اشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُتھے۔جلدی افطارکرنا سنتِ مستحبہ:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یہ دونوں حضرات جلیل القدر تابعی ہیں،ان میں نمازِ مغرب اور افطارِروزہ میں اختلا ف ہوا،فیصلہ کے لیے اُمُّ المؤمنین عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاکے پاس حاضر ہوئےکیونکہ آپ بڑی فقیہہ عالمہ تھیں۔نماز سے مراد نمازِ مغرب ہے اور جلدی سے بہت ہی جلدی آفتاب کا کنارہ چھپتے ہی بالکل مُتَّصِل اور دیر سے مراد چند منٹ کی احتیاطًا دیر لگانا ہے نہ کہ تارے گتھ جانے تک کی تاخیر۔ لہٰذا ان میں سے کسی بزرگ پر اعتراض نہیں،ایک صاحب عزیمت پر عامل ہیں دوسرے رخصت پر۔حضرت اُمُّ المؤمنین نے جناب عبدﷲ کے عمل کو سنتِ مُسْتَحَبَّہ کے موافق بتایا اور قدرے تاخیر کومستحب قرار دیا۔معلوم ہوا کہ جناب اُمُّ المؤمنین مزاج شناسِ رسول ہیں اور اَحوال دانِ مصطفےٰصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّم۔غالِب یہ ہے کہ یہ خبرحضرت ابو موسیٰ اَشعری کو پہنچی ہوگی اور انہوں نے اپنے عمل میں تبدیلی کرلی ہوگی،صحابہ سے یہ توقع ہوسکتی ہی نہیں کہ حضورِ اَنورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے عمل سے واقف ہوکر اُس کے خلاف کام کریں۔مدنی گلدستہ’’صَوم‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ
رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَابڑی فقیہہ عالِمہ تھیں کہ صحابہ ٔکرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانآپ کے پاس اپنے مسائل کے حل کے لئے آتے تھے۔
(2) اِفطار میں جلدی کرنا حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا طریقہ ہے۔
(3) صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانہمیشہ حضورِاَنورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکےعمل کی مُوَافقت کیا کرتے تھے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سیرتِ طیبہ پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1234