- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- حدیث نمبر 1237
باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1237
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ اِبْرَاھِیْم عَبْدِ اللَّهِ بْنِ اَبِي اَوْفٰى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ لِبَعْضِ القَوْمِ: يَا فُلاَنُ! اِنْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ اَمْسَيْتَ؟ قَالَ:اِنْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا، قَالَ: اِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، قَالَ:اَنْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُمْ، فَشَرِبَ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: اِذَا رَاَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ اَقْبَلَ مِنْ هٰهُنَا فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائِمُ.وَاَشَارَ بِيَدِهِ قِبَلَ المَشْرِقِ.
عن ابی ابراھیم عبد الله بن ابي اوفى رضي الله عنه قال: سرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو صائم، فلما غربت الشمس قال لبعض القوم: يا فلان! انزل فاجدح لنا فقال: يا رسول الله! لو امسيت؟ قال:انزل فاجدح لنا، قال: ان عليك نهارا، قال:انزل فاجدح لنا فنزل فجدح لهم، فشرب رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم ثم قال: اذا رايتم الليل قد اقبل من ههنا فقد افطر الصائم.واشار بيده قبل المشرق.
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابوابراہیمعبداﷲبن اَبو اَوفیٰرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھےاور آپعَلَیْہِ السَّلَامروزے سے تھے، جب سورج غروب ہوگیاتو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے ایک شخص سے فرمایا:”اے فلاں! اُٹھو اور ہمارے لئے ستّو گھولو۔“اُس نے عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!شام ہونے دیجئے۔آپ نے فرمایا:’’اتر کر ہمارے لئے ستّو گھولو۔‘‘ اُس نے عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ابھی تو دن باقی ہے۔آپ نے پھر فرمایا:’’اتر کر ہمارے لئے ستّو گھولو۔‘‘پھر وہ اُترا اور ستّو گھولے۔ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ستو نوش فرمانے کے بعد فرمایا: ’’جب دیکھو کہ رات اِدھر سے آگئی ہے تو روزہ افطار کرلو (یہ کہتے ہوئے) آپ نے مشرق کی جانب اشارہ فرمایا۔‘‘
شرح حدیث
اس حدیث میں غروبِ آفتاب کے بعد بلا تاخیر افطار کرنے کی ترغیب ہے کہ جس وقت سورج غروب ہوتا ہے اس وقت مغرب کی طرف کافی دیر تک روشنی سی رہتی ہے لیکن جانبِ مشرق اندھیرا چَھا جاتا ہےحدیث میں اِسی طرف اشارہ ہے کہ جب تم دیکھو کہ رات مشرق کی طرف سے آگئی ہے یعنی مشرق کی طرف اندھیرا چھاگیا ہے تو سمجھ لو کہ سورج غروب ہوگیا ہے اب افطار میں تاخیر نہ کرو ۔روزہ جلدی افطار کرنا مستحب ہے:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:’’اس حدیث میں روزہ جلدی افطار کرنے کے مستحب ہونے کا بیان ہے اور اس میں روزے کے آخری وقت کا بیان ہے اور اس آخری وقت پر اجماع ہے۔ حضرت ابو عمر (اِسْتِذْکارمیں)فرماتے ہیں کہ علمائے کرام کا اِس بات پر اِجماع ہے کہ جب مغرب کی نماز کا وقت ہوجائے تو اس وقت افطار کرنا حلال ہوجاتا ہے۔‘‘صحابیٔ رسول کے تامُّل کرنے کی وجہ:اِمَام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیاس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:’’رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورآپ کے اصحاب روزے سے تھے اور یہ رمضان کا مہینہ تھا، جب سورج غروب ہوگیا تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے کسی کو ستّو گھولنے کا حکم دیا تاکہ روزہ افطار کیا جاسکے، جسے حکم دیا انہوں نے دیکھا کہ دن کی روشنی اور سرخی جو سورج غروب ہونے کے بعد آتی ہے وہ ابھی موجود ہے تو انہوں نے گمان کیا کہ روزہ اس روشنی کے جانے کے بعد کھولتے ہیں اس لئے انہوں نے عرض کی کہ کچھ دیر رُک جائیے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ انہوں نے یہ گمان کیا کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس روشنی کو دیکھا نہیں تو انہوں نے حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یاد دلانے کے لئے ایسا کہا۔ اس بات کی تائید اُن صحابی کا یہ قولاِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًابھی کرتا ہے کیونکہ ان کا یہ خیال تھا کہ یہ روشنی (جو غروبِ آفتاب کے بعد مغرب کی طرف کچھ دیر رہتی ہے)وہی روشنی ہے جس میں روزہ فرض ہوتا ہے، اسی لئے انہوں نے حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی کہ کچھ دیر رُک جائیے یہاں تک کہ رات داخل ہوجائے اور بار بار اس جملے کو دہرانے کی وجہ ان کا یہ غالب اعتقاد تھا کہ ابھی دن باقی ہے اور روزےکی حالت میں دن میں کھانا پینا حرام ہوتا ہے۔‘‘
دلیل الفالحین میں ہے: شاید یہ فتحِ مکہ کی بات ہے جب آٹھویں سال نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرمضان کے مہینے میں نکلے تھے۔ جب سورج کی ٹکلی مکمل طور پر غروب ہوگئی تو حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ستو گھولنے کا حکم دیا، ان صحابی نے عرض کی کہ یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماگر کچھ دیر اور رک جائیں تو اچھا ہوتا۔ ہوسکتا ہے کہ آسمان بالکل صاف ہونے کی وجہ سے انہیں روشنی زیادہ لگ رہی ہو تو انہوں نے گمان کیا ہو کہ سورج ابھی غروب نہیں ہوا، ہوسکتا ہے کہ وہاں کوئی پہاڑ وغیرہ ہو یا پھر بادل ہوں جس کی وجہ سےسورج کے غروب ہونے کا پتا نہ چل رہا ہو۔اور جو راوی نے کہا کہ ”جب سورج غروب ہوگیا۔“تو یہ اُن کا اپنا خیال تھا، ورنہ اگراُن صحابی کو سورج کے غروب ہونے کا یقین ہوتا تو وہ کبھی بھی حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا حکم ماننے میں تَوَقُّف نہ کرتے۔راوی کہتے ہیں پھر ہم نے ستو پیا اور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وضاحت سننے کے لئے خاموشی سے بیٹھ گئے پھر آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا : جب تم جان لو کہ رات مشرق کی طرف سے آگئی ہےتو روزہ دار افطار کرے۔حدیث سے معلوم ہونے والے مسائل:*سفر میں روزہ رکھنا جائز ہے۔*اس شخص کے لئےسفر میں روزہ نہ رکھنے سے روزہ رکھنا افضل ہے جسے کوئی ظاہری مشقت والا کام کرنا نہ ہو۔*مُطلقاًسورج کے غروب ہونے سے روزہ ختم ہوجاتا ہے۔ *جلدی روزہ افطار کرنا مستحب ہے۔*کھجور سے افطار کرنا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے اگر کوئی کھجور سے افطار نہ کرے تو جائز ہے۔ *کھجور کے بعد پانی سے روزہ افطار کرنا افضل ہے۔مدنی گلدستہ’’مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) غروبِ آفتاب کے بعد بلا تاخیر روزہ افطار کرنا چاہیے۔
(2) اس بات پر علما کا اتفاق ہے کہ غروبِ آفتاب روزے کا آخری وقت ہے۔
(3) حالتِ سفر میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے مگر روزہ رکھناافضل ہے۔
(4) کھجور سے افطار کرنا واجب و ضروری نہیں۔
(5) کھجور کے بعد افضل پانی سے افطار کرنا ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں سفر و حضر ہر صورت میں فرض روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1237