Main Icon

باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1237

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ اِبْرَاھِیْم عَبْدِ اللَّهِ بْنِ اَبِي اَوْفٰى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ لِبَعْضِ القَوْمِ: يَا فُلاَنُ! اِنْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ اَمْسَيْتَ؟ قَالَ:اِنْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا، قَالَ: اِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، قَالَ:اَنْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُمْ، فَشَرِبَ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: اِذَا رَاَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ اَقْبَلَ مِنْ هٰهُنَا فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائِمُ.وَاَشَارَ بِيَدِهِ قِبَلَ المَشْرِقِ.

عن ابی ابراھیم عبد الله بن ابي اوفى رضي الله عنه قال: سرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو صائم، فلما غربت الشمس قال لبعض القوم: يا فلان! انزل فاجدح لنا فقال: يا رسول الله! لو امسيت؟ قال:انزل فاجدح لنا، قال: ان عليك نهارا، قال:انزل فاجدح لنا فنزل فجدح لهم، فشرب رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم ثم قال: اذا رايتم الليل قد اقبل من ههنا فقد افطر الصائم.واشار بيده قبل المشرق.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابوابراہیمعبداﷲبن اَبو اَوفیٰرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھےاور آپعَلَیْہِ السَّلَامروزے سے تھے، جب سورج غروب ہوگیاتو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے ایک شخص سے فرمایا:”اے فلاں! اُٹھو اور ہمارے لئے ستّو گھولو۔“اُس نے عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!شام ہونے دیجئے۔آپ نے فرمایا:’’اتر کر ہمارے لئے ستّو گھولو۔‘‘ اُس نے عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ابھی تو دن باقی ہے۔آپ نے پھر فرمایا:’’اتر کر ہمارے لئے ستّو گھولو۔‘‘پھر وہ اُترا اور ستّو گھولے۔ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ستو نوش فرمانے کے بعد فرمایا: ’’جب دیکھو کہ رات اِدھر سے آگئی ہے تو روزہ افطار کرلو (یہ کہتے ہوئے) آپ نے مشرق کی جانب اشارہ فرمایا۔‘‘

شرح حدیث

اس حدیث میں غروبِ آفتاب کے بعد بلا تاخیر افطار کرنے کی ترغیب ہے کہ جس وقت سورج غروب ہوتا ہے اس وقت مغرب کی طرف کافی دیر تک روشنی سی رہتی ہے لیکن جانبِ مشرق اندھیرا چَھا جاتا ہےحدیث میں اِسی طرف اشارہ ہے کہ جب تم دیکھو کہ رات مشرق کی طرف سے آگئی ہے یعنی مشرق کی طرف اندھیرا چھاگیا ہے تو سمجھ لو کہ سورج غروب ہوگیا ہے اب افطار میں تاخیر نہ کرو ۔روزہ جلدی افطار کرنا مستحب ہے:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:’’اس حدیث میں روزہ جلدی افطار کرنے کے مستحب ہونے کا بیان ہے اور اس میں روزے کے آخری وقت کا بیان ہے اور اس آخری وقت پر اجماع ہے۔ حضرت ابو عمر (اِسْتِذْکارمیں)فرماتے ہیں کہ علمائے کرام کا اِس بات پر اِجماع ہے کہ جب مغرب کی نماز کا وقت ہوجائے تو اس وقت افطار کرنا حلال ہوجاتا ہے۔‘‘صحابیٔ رسول کے تامُّل کرنے کی وجہ:اِمَام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیاس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:’’رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورآپ کے اصحاب روزے سے تھے اور یہ رمضان کا مہینہ تھا، جب سورج غروب ہوگیا تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے کسی کو ستّو گھولنے کا حکم دیا تاکہ روزہ افطار کیا جاسکے، جسے حکم دیا انہوں نے دیکھا کہ دن کی روشنی اور سرخی جو سورج غروب ہونے کے بعد آتی ہے وہ ابھی موجود ہے تو انہوں نے گمان کیا کہ روزہ اس روشنی کے جانے کے بعد کھولتے ہیں اس لئے انہوں نے عرض کی کہ کچھ دیر رُک جائیے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ انہوں نے یہ گمان کیا کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس روشنی کو دیکھا نہیں تو انہوں نے حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یاد دلانے کے لئے ایسا کہا۔ اس بات کی تائید اُن صحابی کا یہ قولاِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًابھی کرتا ہے کیونکہ ان کا یہ خیال تھا کہ یہ روشنی (جو غروبِ آفتاب کے بعد مغرب کی طرف کچھ دیر رہتی ہے)وہی روشنی ہے جس میں روزہ فرض ہوتا ہے، اسی لئے انہوں نے حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی کہ کچھ دیر رُک جائیے یہاں تک کہ رات داخل ہوجائے اور بار بار اس جملے کو دہرانے کی وجہ ان کا یہ غالب اعتقاد تھا کہ ابھی دن باقی ہے اور روزےکی حالت میں دن میں کھانا پینا حرام ہوتا ہے۔‘‘
دلیل الفالحین میں ہے: شاید یہ فتحِ مکہ کی بات ہے جب آٹھویں سال نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرمضان کے مہینے میں نکلے تھے۔ جب سورج کی ٹکلی مکمل طور پر غروب ہوگئی تو حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ستو گھولنے کا حکم دیا، ان صحابی نے عرض کی کہ یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماگر کچھ دیر اور رک جائیں تو اچھا ہوتا۔ ہوسکتا ہے کہ آسمان بالکل صاف ہونے کی وجہ سے انہیں روشنی زیادہ لگ رہی ہو تو انہوں نے گمان کیا ہو کہ سورج ابھی غروب نہیں ہوا، ہوسکتا ہے کہ وہاں کوئی پہاڑ وغیرہ ہو یا پھر بادل ہوں جس کی وجہ سےسورج کے غروب ہونے کا پتا نہ چل رہا ہو۔اور جو راوی نے کہا کہ ”جب سورج غروب ہوگیا۔“تو یہ اُن کا اپنا خیال تھا، ورنہ اگراُن صحابی کو سورج کے غروب ہونے کا یقین ہوتا تو وہ کبھی بھی حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا حکم ماننے میں تَوَقُّف نہ کرتے۔راوی کہتے ہیں پھر ہم نے ستو پیا اور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وضاحت سننے کے لئے خاموشی سے بیٹھ گئے پھر آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا : جب تم جان لو کہ رات مشرق کی طرف سے آگئی ہےتو روزہ دار افطار کرے۔حدیث سے معلوم ہونے والے مسائل:*سفر میں روزہ رکھنا جائز ہے۔*اس شخص کے لئےسفر میں روزہ نہ رکھنے سے روزہ رکھنا افضل ہے جسے کوئی ظاہری مشقت والا کام کرنا نہ ہو۔*مُطلقاًسورج کے غروب ہونے سے روزہ ختم ہوجاتا ہے۔ *جلدی روزہ افطار کرنا مستحب ہے۔*کھجور سے افطار کرنا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے اگر کوئی کھجور سے افطار نہ کرے تو جائز ہے۔ *کھجور کے بعد پانی سے روزہ افطار کرنا افضل ہے۔مدنی گلدستہ’’مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) غروبِ آفتاب کے بعد بلا تاخیر روزہ افطار کرنا چاہیے۔
(2) اس بات پر علما کا اتفاق ہے کہ غروبِ آفتاب روزے کا آخری وقت ہے۔
(3) حالتِ سفر میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے مگر روزہ رکھناافضل ہے۔
(4) کھجور سے افطار کرنا واجب و ضروری نہیں۔
(5) کھجور کے بعد افضل پانی سے افطار کرنا ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں سفر و حضر ہر صورت میں فرض روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1237