- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 7
حضرت سیدنا سہل بن سعدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔“
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْد رَضِیَ اﷲ عَنْہُ: اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهِ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:”لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الفِطْرَ.“
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1233 ، باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا ابوعطیہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت مسروق اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیدتنا عائشہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاکی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اُن سے حضرت مسروقرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی کہ حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دو صحابی ہیں جو کہ بھلائی کے کاموں میں کمی نہیں کرتے، ان میں سے ایک مغرب کی نماز اور افطار میں جلدی کرتے تھے اور دوسرے مغرب کی نماز اور افطار میں تاخیر کرتے تھے۔ تو اُمّ المؤمنین حضرت عائشہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا :”مغرب کی نماز اور افطار میں جلدی کون کرتا ہے؟“جواب دیا:’’عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ۔‘‘ تو حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا:”رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہی طریقہ تھا ۔“
عَنْ اَبِي عَطِيَّةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: دَخَلْتُ اَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ: رَجُلَانِ مِنْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِلَاهُمَا لَا يَاْلُو عَنِ الْخَيْرِ، اَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْاِفْطَارَ وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَالْاِفْطَارَ، فَقَالَتْ: مَنْ يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْاِفْطَارَ؟ قَالَ: عَبْدُاللهِ یَعْنِیْ اِبْنَ مَسْعُوْدٍ فَقَالَتْ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1234 ، باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اﷲ عَزَّ وَجَلَّنےارشاد فرمایا: ”میرے پسندیدہ بندے وہ ہیں جو افطار میں جلدی کرتے ہیں۔“
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اَحَبُّ عِبَادِي اِلَيَّ اَعْجَلُهُمْ فِطْرًا.“
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1235 ، باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جب رات اِس(یعنی مشرق کی) طرف سے آرہی ہو اور دن اُس (یعنی مغرب کی) طرف جارہا ہو اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ دار افطار کرے۔“
عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِذَا اَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هٰهُنَا وَاَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هٰهُنَا وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائِمُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1236 ، باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا ابوابراہیمعبداﷲبن اَبو اَوفیٰرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھےاور آپعَلَیْہِ السَّلَامروزے سے تھے، جب سورج غروب ہوگیاتو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے ایک شخص سے فرمایا:”اے فلاں! اُٹھو اور ہمارے لئے ستّو گھولو۔“اُس نے عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!شام ہونے دیجئے۔آپ نے فرمایا:’’اتر کر ہمارے لئے ستّو گھولو۔‘‘ اُس نے عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ابھی تو دن باقی ہے۔آپ نے پھر فرمایا:’’اتر کر ہمارے لئے ستّو گھولو۔‘‘پھر وہ اُترا اور ستّو گھولے۔ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ستو نوش فرمانے کے بعد فرمایا: ’’جب دیکھو کہ رات اِدھر سے آگئی ہے تو روزہ افطار کرلو (یہ کہتے ہوئے) آپ نے مشرق کی جانب اشارہ فرمایا۔‘‘
عَنْ اَبِیْ اِبْرَاھِیْم عَبْدِ اللَّهِ بْنِ اَبِي اَوْفٰى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ لِبَعْضِ القَوْمِ: يَا فُلاَنُ! اِنْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ اَمْسَيْتَ؟ قَالَ:اِنْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا، قَالَ: اِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، قَالَ:اَنْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُمْ، فَشَرِبَ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: اِذَا رَاَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ اَقْبَلَ مِنْ هٰهُنَا فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائِمُ.وَاَشَارَ بِيَدِهِ قِبَلَ المَشْرِقِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1237 ، باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
صحابی رسول حضرتِ سَیِّدُنا سلمان بن عامرضبیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُحضورنبیِّ کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:”تم میں سے جب کوئی افطار کرے تو کھجور سے کرے اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کرے بے شک وہ پاکیزہ ہے۔“
عَنْ سَلْمَان بِنِ عَامِرِ الضَّبِّيِّ الصَّحَابِي رَضِیَ اﷲ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا اَفْطَرَ اَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ فَاِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَاِنَّهُ طَهُورٌ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1238 ، باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز ادا کرنے سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے روزہ افطار فرمایا کرتے تھے، اگر تازہ کھجوریں نہ ملتیں تو خشک کھجور وں سے افطار فرماتے اور اگر خشک کھجوریں بھی نہ ملتیں تو چند گھونٹ پانی نوش فرمالیتے۔
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قالَ: كانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يُفْطِرُ قَبْلَ اَنْ يُصَلِّيَ عَلٰى رُطَبَاتٍ فَاِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتٌ فَتُمَيرْاتٌ فَاِنْ لَمْ تَكُنْ تُمِيْرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1239 ، باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان