Main Icon

باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1239

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قالَ: كانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يُفْطِرُ قَبْلَ اَنْ يُصَلِّيَ عَلٰى رُطَبَاتٍ فَاِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتٌ فَتُمَيرْاتٌ فَاِنْ لَمْ تَكُنْ تُمِيْرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ.

عن انس رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفطر قبل ان يصلي على رطبات فان لم تكن رطبات فتميرات فان لم تكن تميرات حسا حسوات من ماء.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز ادا کرنے سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے روزہ افطار فرمایا کرتے تھے، اگر تازہ کھجوریں نہ ملتیں تو خشک کھجور وں سے افطار فرماتے اور اگر خشک کھجوریں بھی نہ ملتیں تو چند گھونٹ پانی نوش فرمالیتے۔

شرح حدیث

روزہ جلدی اِفطارکرنامستحب ہے:مذکورہ حدیث سے بھی پتہ چلتا ہے کہ روزہ جلدی افطار کرنا چاہیے کیونکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز ِمغرب پڑھنے سے پہلے افطار فرماتے تھے۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں: ’’آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنمازِمغرب پڑھنے سے پہلے اِفطار فرماتے تھے اِس حدیث میں اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روزہ جلدی اِفطار کرنا مستحب ہے۔‘‘تر کھجور سے افطار کرنا اچھا ہے:مذکورہ حدیثِ پاک سے دو مسئلے معلوم ہوئے:(1)ایک یہ کہ روزہ دار اِفطار پہلے کرے، نمازِ مغرب کے بعد اِفطار کرنا سُنَّت کے خلاف ہے۔(2)دوسرے یہ کہ چند کھجوریں اِفطار کے وقت کھانا مسنون ہے تین یا پانچ،بعض روایات میں تین خُرموں کاذِکر ہے۔ اس ترتیب سے پتہ لگا کہ تر کھجور پر روزہ افطارکرنا بہت اچھا ہے،پھر اگر یہ نہ ملیں تو خشک چھواروں پر افطار کرنا، ہمارے رمضان شریف میں کثرت سے بازار میں کھجوریں آجاتی ہیں اور عام طور پر لوگ خریدتے ہیں، مسجدوں میں بھیجتے ہیں ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے۔اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینے اِس باب کا نام ”جلدی افطار کرنے کی فضیلت، افطار کس چیز سے کیا جائے اور افطار کے بعد کیا کہا جائے؟“رکھا۔ اس میں سے پہلی دو چیزوں کے بارے میں تو احادیث بیان فرمادیں، تیسری چیز کہ ”افطار کے بعد کیا کہا جائے؟“اِس بارے میں حدیثِ پاک بیان نہ فرمائی چنانچہ اس بارے میں حدیثِ پاک ملاحظہ کیجئے۔اِفطار کے بعد کہے جانے والے کلمات:حضرت سیدنا مُعاذ بن زُھرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب افطار کرتے تواس کے بعد یہ کہتے:’’اَللّٰهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ اَفْطَرْتُیعنی اےاﷲمیں نے تیرے لئے روزہ رکھا اور تیرے دئیے ہوئے رزق سے افطار کیا۔‘‘
نوٹ:افطار کی دعا عموماً قبل از افطار پڑھنے کا رواج ہے مگر امامِ اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْمَنّاننے فتاویٰ رضویہ،ج10،ص631میں اپنی تحقیق پیش کی ہےکہ دعا افطار کے بعد پڑھی جائے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّعمل کی توفیق عطافرمائے۔آمینمدنی گلدستہ’’عمر‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) روزہ جلدی اِفطار کرنا مستحب ہے۔
(2) اِفطار کے وقت چند کھجوریں کھانا مسنون ہے۔
(3) تر یعنی تازہ کھجور سے روزہ افطار کرنا اچھا ہے اگر تازہ نہ ملے پھرخشک کھجور سے اِفطار کرنا۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں اِسلامی اَحکامات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1239