Main Icon

باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 989

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَا يَحِلُّ لِاِمْرَاَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيْرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ اِلَّا مَعَ ذِيْ مَحْرَمٍ عَلَیْہَا.

عن ابی هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:لا يحل لامراة تؤمن بالله واليوم الآخر تسافر مسيرة يوم وليلة الا مع ذي محرم علیہا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ مَحْرَم کے بغیر ایک دن اور رات کا سفر کرے۔ ‘‘

شرح حدیث

عورت چھوٹا بڑا کوئی سفر اکیلے نہ کرے:یہاں تو ایک دن رات کا ذکر ہوا اور بعض روایات میں دو دن دو رات کا ذکر ہے،بعض میں صرف ایک دن یا ایک رات کا ذکر ہے۔معلوم ہوا کہ ان احادیث میں حد بندی مقصود نہیں ۔مطلب یہ ہے کہ چھوٹا بڑا کوئی سفر اکیلے نہ کرے۔اس ممانعت کے حکم سے دارُالحرب سے ہجرت کرنے والی اور کفار کی قید سے چھوٹنے والی عورت خارج ہے کہ یہ دونوں عورتیں بغیر مَحرم اکیلی ہی دارُالسَّلام کی طر ف سفر کرسکتی ہیں بلکہ یہ سفر ان پر واجب ہے،اس کی دلیل وہ حدیث ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”قریب ہے کہ عورت اکیلی بصرہ سےبَیْتُ اﷲآئے گی اور بجُز ربّ تعالیٰ کے کسی سے خوف نہ کرے گی۔لہٰذا یہ حدیث نہ تو اس حدیث کے مخالف ہے نہ حکمِ فقہاء اس حدیث کے خلاف۔سفر میں عورت کے ساتھ بالغ مَحرم یا شوہر ہو:صدرالشریعہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:عورت کو بغیر مَحرم کے تین دن یا زیادہ کی راہ جانا ناجائز ہے بلکہ ایک دن کی راہ جانا بھی۔ نابالغ بچہ یا مَعتُوہ (نیم پاگل)کے ساتھ بھی سفر نہیں کرسکتی، ہمراہی میں بالغ مَحرم یا شوہر کا ہونا ضروری ہے۔مَحرم کے ليے ضرور ہے کہ سخت فاسق بے باک غیر مامون(غیرمحفوظ) نہ ہو۔مَحرم کی وضاحت:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:محرم عورت کا وہ عزیز ہے جس سے نسب یا رضاعت(دودھ کے رشتے) یا صِہْرِیَّت(سُسرالی رشتے)کی وجہ سے ہمیشہ نکاح حرام ہولہٰذا رضاعی بھائی سُسَرو داماد وغیرہ کے ساتھ سفر جائز ہے لہٰذا اگر عورت مکہ معظمہ سے تاحدِ سفر دور ہو اس پر بغیر محرم حج (ادا کرنا)فرض نہ ہوگا،یہ ہی مذہبِ اَحناف ہے۔
بہارِشریعت میں ہے:’’عورت کو مکہ تک جانے میں تین دن یا زیادہ کا راستہ ہو تو اُس کے ہمراہ شوہر یا مَحرم ہونا شرط ہے، خواہ وہ عورت جوان ہو یا بوڑھیا اور تین دن سے کم کی راہ ہو تو بغیر محر م اور شوہر کے بھی جاسکتی ہے۔محرم سے مراد وہ مرد ہے جس سے ہمیشہ کے لیے اُ س عورت کا نکاح حرام ہے، خواہ نسب کی وجہ سے نکاح حرام ہو، جیسے باپ، بیٹا، بھائی وغیرہ یا دُودھ کے رشتہ سے نکاح کی حرمت ہو، جیسے رضا عی بھائی، باپ، بیٹا وغیرہ یا سُسرالی رشتہ سے حُرمت آئی، جیسے خُسر، شوہر کا بیٹا وغیرہ۔‘‘
مدنی گلدستہ’’کعبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) عورت محرم اور شوہر کے بغیر ایک دن کا بھی سفر نہیں کرسکتی اور محرم بھی ایسا ہوجو سخت فاسق اور بے باک نہ ہونیز بالغ بھی ہو۔
(2) محرم وہ ہے جس سے نسب،رضاعت یا سسرالی رشتے کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو۔
(3) عورت مکہ معظمہ سے تاحدِ سفر دور ہو اس پر بغیر محرم حج کی ادائیگی لازم نہ ہوگی۔
(4) دارُالحرب یا کفار کی قید سے چھوٹنے والی عورت بغیر محرم اکیلی ہی دارُالسَّلام کی طر ف سفر کر سکتی ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دِینِ اِسلام کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 989