Main Icon

باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 990

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ :لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِاِمْرَاَةٍ اِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْاَةُ اِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اِنَّ امْرَاَتِيْ خَرَجَتْ حَاجَّةً وَاِنِّي اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَاقَالَ: اِنْـطَلِقْ فَحُجَّ مَعَ اِمْرَاَتِكَ.

عن ابن عباس رضي الله عنهما انہ سمع النبی صلى الله عليه وسلم یقول :لا يخلون رجل بامراة الا ومعها ذو محرم ولا تسافر المراة الا مع ذي محرم فقال لہ رجل: يا رسول الله ان امراتي خرجت حاجة واني اكتتبت في غزوة كذا وكذاقال: انـطلق فحج مع امراتك.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا:”کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ ہر گز تنہائی اختیار نہ کرے جب تک کہ اس کے ساتھ اس کا محرم نہ ہواور کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔‘‘ایک شخص نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں فلاں جہاد میں لکھ لیا گیا ہوں اور میری بیوی حج کو جارہی ہے۔ ارشاد فرمایا: ’’اپنی بیوی کے ساتھ جاؤ اور حج کرو۔“

شرح حدیث

کس عورت سے خَلوَت منع ہے؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:جس عورت کے ساتھ تنہائی منع ہے وہ اجنبیہ عورت ہے۔مُفَسِّرِ شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: جس عورت سے نکاح جائز ہو اس کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے کہ فتنہ کا اندیشہ ہے،ماں،بہن،بیٹی کا یہ حکم نہیں۔
علامہ غلام رسول رضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’جب کوئی عورت فریضۂ حج ادا کرنے کاا رادہ کرے تو اس کا شوہر اس کے ساتھ حج کرے یہ جہاد سے بہتر ہے جبکہ جہاد فرضِ عین نہ ہو، غالباً مذکورہ حدیث میں جہاد فرض نہ تھا اسی لیے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس شخص کو اس کی بیوی کے ساتھ جانے کے لیے فرمایا تھا۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کا نام جہاد میں لکھاجائے اور اس کی بیوی (فرض)حج کے لیے روانہ ہوتو ایسے شخص کے لیے حج کرنا جہاد سے افضل ہے(جبکہ جہاد فرضِ عین نہ ہو) کیونکہ اس کے نفلی حج میں اس کی بیوی کے فرض حج کی تکمیل ہے اور ان دونوں(نفل وفرض)کا اجتماع محض جہاد سے افضل ہےجو اُس کے بغیر بھی سرانجام پاسکتا ہےنیز معلوم ہوا کہ فوجیوں کے نام رجسٹر میں درج ہونے چاہئیں اور امام کو رَعِیَّت کی مصلحت کا خیال رکھنا چاہیے۔
علامہ ابنِ مَلِک
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”یہ حدیث پاک اس بات کی دلیل ہے کہ جس عورت کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو اُس پر حج فرض نہیں ۔امامِ اعظم ابو حنیفہ اور امام احمد بن حنبلرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاکا یہی مذہب ہے۔“مدنی گلدستہ’’جنت ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) جس عورت سے نکاح جائز ہو اس کے ساتھ تنہائی جائز نہیں۔
(2) جب کوئی عورت فریضۂ حج ادا کرنے کاا رادہ کرے تو اس کا شوہر اس کے ساتھ حج کرے یہ جہاد سے بہتر ہے جبکہ جہاد فرضِ عین نہ ہو۔
(3) حاکم کو رعایا کی مصلحت کا خیال رکھنا چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اجنبی عورت کے ساتھ خلوت وتنہائی سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 990