Main Icon

باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1268

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ.

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعتكف العشر الاواخر من رمضان.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے ۔“

شرح حدیث

اعتکاف کی تعریف:مسجِدمیںاﷲعَزَّوَجَلَّکی رِضا کیلئے بہ نیّتِ اِعتِکاف ٹھہرنا اِعتِکاف ہے۔ اس کیلئے مسلمان کا عاقِل ہونا اور جَنابت اورحَیض ونفَاس سے پاک ہوناشرط ہے۔بُلوغ شرط نہیں نابالغ بھی جو تمیز رکھتا ہے اگر بہ نیّتِ اعتِکاف مسجِد میں ٹھہرے تواُس کا اعتِکاف صحیح ہے۔اعتکاف کی اقسام:مرآۃ المناجیح میں ہے:”اعتکاف بڑی پُرانی عبادت ہے ربّ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم واسماعیلعَلَیْہِمَا السَّلَامسےفرمایاتھا:اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(۱۲۵)(پ۱،البقرۃ:۱۲۵)( )(ترجمۂ کنز الایمان: میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے۔)
بہارِ شریعت میں ہے:”اعتکاف تین قسم ہے:
(1)واجب کہ اعتکاف کی منّت مانی یعنی زبان سے کہا،محض دل میں ارادہ سے واجب نہ ہوگا۔
(2)سنت مؤکدہ کہ رمضان کے پورے عشرہ اخیرہ یعنی آخر کے دس دن میں اعتکاف کیا جائے یعنی بیسویں رمضان کو سورج ڈوبتے وقت بہ نیّت اعتکاف مسجد میں ہو اور تیسویں کے غروب کے بعد یا انتیس کو چاند ہونے کے بعد نکلے۔ اگر بیسویں تاریخ کو بعد نماز مغرب نیّت اعتکاف کی تو سنت مؤکدہ ادا نہ ہوئی اور یہ اعتکاف سنت کفایہ ہے کہ اگر سب ترک کریں تو سب سے مطالبہ ہوگا اور شہر میں ایک نے کر لیا تو سب بری الذمہ۔
(3)ان دو ۲ کے علاوہ اور جو اعتکاف کیا جائے وہ مستحب و سنت غیر مؤکدہ ہے۔اعتکافِ مستحب کے لیے نہ روزہ شرط ہے، نہ اس کے لیے کوئی خاص وقت مقرر، بلکہ جب مسجد میں اعتکاف کی نیّت کی، جب تک مسجد میں ہے معتکف ہے، چلا آیا اعتکاف ختم ہوگیا۔یہ بغیر محنت ثواب مل رہاہے کہ فقط نیّت کر لینے سے اعتکاف کا ثواب ملتا ہے، اسے تو نہ کھونا چاہیے۔ مسجد میں اگر دروازہ پر یہ عبارت لکھ دی جائے کہ اعتکاف کی نیّت کر لو، اعتکاف کا ثواب پاؤ گے تو بہتر ہے کہ جو اس سے ناواقف ہیں انہیں معلوم ہو جائے اور جوجانتے ہیں اُن کے لیے یاد دہانی ہو۔اعتکافِ سنت یعنی رمضان شریف کی پچھلی دس تاریخوں میں جوکیا جاتا ہے، اُس میں روزہ شرط ہے، لہٰذا اگر کسی مریض یا مسافر نے اعتکاف تو کیا مگر روزہ نہ رکھا تو سنت ادا نہ ہوئی بلکہ نفل ہوا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1268